मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: قسمت سے جس کے گھر میں بھی آتی ہے بیٹیاں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: دلکش رانچوی
نعت خوان/ فنکار: فہیم رضا حبیبی
شامل کیا گیا: 26 Oct, 2022 12:15 PM IST
دیکھا گیا: 8.5K
Time to read: 1 min read
قسمت سے جس کے گھر میں بھی آتی ہے بیٹیاں،
رحمت خُداء پاک کی لاتی ہے بیٹیاں
ماں باپ کی صداؤں پے لبّیک بول کر،
بیٹوں کے پہلے دوڑ کے آتی ہے بیٹیاں
قسمت سے جس کے گھر میں بھی آتی ہے بیٹیاں
بیٹوں سے کم نہ سمجھوں انہیں دوستوں کبھی،
سوۓ ہوۓ نصیب جگاتی ہے بیٹیاں
قسمت سے جس کے گھر میں بھی آتی ہے بیٹیاں
ایک اجنبی کے گھر کو بسانے کے واسطے،
بابل کے گھر کو چھوڈ کے جاتی ہے بیٹیاں
قسمت سے جس کے گھر میں بھی آتی ہے بیٹیاں
اے لوگوں اب تو چھوڈ دو تم مانگنا جہیز،
پھانسی گلے میں اپنے لگاتی ہے بیٹیاں
قسمت سے جس کے گھر میں بھی آتی ہے بیٹیاں
اب اسسے بڑھکے کونسی دولت کی طلب ہے،
جنّت تمہارے گھر کو بناتی ہے بیٹیاں
قسمت سے جس کے گھر میں بھی آتی ہے بیٹیاں
بیٹے ہزار ظلم-و-ستم کرتے ہیں مگر،
ماں باپ کو کبھی نہ ستاتی ہے بیٹیاں
قسمت سے جس کے گھر میں بھی آتی ہے بیٹیاں،
رحمت خُداء پاک کی لاتی ہے بیٹیاں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ بیٹیوں کی عظمت، ان کی بے لوث محبت اور معاشرے میں ان کے بلند مقام کا خوبصورت بیاں ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوتی ہیں اور ان کا آنا خوش قسمتی کی علامت ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ بیٹیاں اپنے والدین کی ایک پکار پر سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں اور بیٹوں سے پہلے خدمت کے لیے آگے آتی ہیں۔ شاعر معاشرے کو جہیز جیسی لعنت کے خلاف بیدار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بیٹیاں اپنے ماں باپ کو کبھی دکھ نہیں دیتیں، بلکہ وہ تو اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بنا دیتی ہیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| رحمت | اللہ کی برکت / کرم |
| خدائے پاک | مقدس اللہ / پروردگار |
| صداؤں | آوازیں / پکار |
| لبیک | میں حاضر ہوں / فرمانبرداری کرنا |
| نصیب | مقدر / قسمت |
| بابل | پیارے والد کا گھر / میکہ |
| جہیز | شادی پر دیا جانے والا سامان / داہیج |
| طلب | چاہت / خواہش / جستجو |
| ظلم و ستم | ستم گری / ناانصافی |
بیٹیاں خوش نصیب لوگوں کے گھر پیدا ہوتی ہیں اور سوئے ہوئے مقدر کو جگاتی ہیں۔ وہ دوسروں کا گھر بسانے کے لیے اپنا میکہ چھوڑ دیتی ہیں، اس لیے انہیں کبھی بیٹوں سے کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ معاشرے کو جہیز مانگنا بند کرنا چاہیے تاکہ معصوم بیٹیاں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ ہوں، کیونکہ بیٹیاں ہی گھر کو جنت بناتی ہیں۔
شاعر کے مطابق، بیٹیاں اپنے ماں باپ کی 'صداؤں' پر کیا بول کر دوڑ کے آتی ہیں، اور جہیز مانگنے پر ان کا کیا حال ہوتا ہے؟