मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: کعبے کے بدر الدّوجا تم پے کروڑوں درود
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) صلوٰۃ و سلام کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 08 Apr, 2023 09:10 AM IST
دیکھا گیا: 999
Time to read: 5 min read
کعبے کے بدر الدّوجا تم پے کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الّضحا تم پے کروڑوں درود
شَفائے روزِ جزا تم پے کروڑوں درود
دَفاۓ جُمٰلہ بلایا تم پے کروڑوں درود
جانو دلِ اَصفِیہ تم پے کروڑوں درود
آبِ غِلِ انبِیا تم پے کروڑوں درود
لائیں تو یہ دوسرا دو سرا، جس کو ملا
کوشکِ عرش و دانا تم پے کروڑوں درود
اور کوئی غئیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پے کروڑوں درود
طور پہ جو شمع تھا، چاند تھا، سائر کا
نَیّرِ فَراں ہوا تم پے کروڑوں درود
دل کرو تھنڈا میرا، وہ کافہ پا چاند سا
سینے پہ رکھ دو ذَرّا تم پے کروڑوں درود
ذات ہوئی انتخاب، وصف ہوئے لاجواب
نام ہوا مصطفیٰ تم پے کروڑوں درود
گائت و علت، سببِ بہرے جہاں تم ہو سب
تم سے بنا تم بنا تم پے کروڑوں درود
تم سے جہاں کی حیّات، تم سے جہاں کا ثَبَات
اصل سے ہے ذِل بَندھا، تم پے کروڑوں درود
مغز ہو تم اور پُشت اور ہے باہر کے دوست
تم ہو درونِ سرا، تم پے کروڑوں درود
کیا ہے جو بے حد ہے لاؤس، تم تو ہو غَیس و غَوس
چنٹیں میں ہوگا بھلا، تم پے کروڑوں درود
تم ہو حافظ و مُعِیذ، کیا ہے وہ دشمَن خَبیث
تم ہو تو پھر خوف کیا، تم پے کروڑوں درود
وہ شبِ معراجِ رَاج، وہ صفِ محشر کا تاج
کوئی بھی ایسا ہوا، تم پے کروڑوں درود
جان و جہاںِ مسیح، داد کی دل ہے جارِیح
نبضیں چُوٹی، دم چلا، تم پے کروڑوں درود
اُف وہ راہِ سنگلاخ، آه یہ پا شاخ شاخ
اے میرے مشکل کشا، تم پے کروڑوں درود
تم سے کھلا بابِ جُود، تم سے ہے سب کا وجود
تم سے ہے سب کی بقا، تم پے کروڑوں درود
خستہ ہوں اور تم معاذ، بستا ہوں اور تم ملاز
آگے جو شاہ کی رضا، تم پے کروڑوں درود
اگرچہ ہیں … (غلطیاں) تم ہو عفّو و غَفُور
بخش دو جرم و خطا، تم پے کروڑوں درود
مہرِ خدا، نورِ نور، دل ہے سیاہ، دن ہے دور
شب میں کرو چاندنا، تم پے کروڑوں درود
تم ہو شہید و بصیر، اور میں گناہ پر دلیر
کھول دو چشمِ حیاء، تم پے کروڑوں درود
چنّت تمہاری سحر، چھوٹ تمہاری قمر
دل میں رچا دو ضیا، تم پے کروڑوں درود
تم سے خدا کا ظہور، اُس سے تمہارا ظہور
“ليم” ہے یہ وہ “إن” ہوا، تم پے کروڑوں درود
بے ہُنر و بے تمیز، کس کو ہوئے عزیز
ایک تمہارے سِوا، تم پے کروڑوں درود
آس ہے کوئی نہ پاس، ایک تمہاری ہے آس
بس ہے یہی آسرا، تم پے کروڑوں درود
تارمِ اعلیٰ کا عرش، جس کافہ پا کا ہے فرش
آنکھوں پہ رکھ دو ذرا، تم پے کروڑوں درود
کہنے کو ہے عام و خاص، ایک تم ہی ہو خلاص
بند سے کر دو رِہا، تم پے کروڑوں درود
تم ہو شِفاءِ مَرَض، خلقِ خدا، خود غَراض
خلق کی حاجت بھی کیا، تم پے کروڑوں درود
آہ وہ راہِ سِراط، بندوں کی کتنی بساط
المدد اے رہنما، تم پے کروڑوں درود
بے ادب و بے لحاظ، کر نہ سکا کچھ تحفظ
عفو پہ بھولا رہا، تم پے کروڑوں درود
لو تہِ دامن کی شمع، جھونکوں میں ہے روزِ جمع
اَنڈیوں سے حشر اُٹھا، تم پے کروڑوں درود
سینہ کی ہے داغ داغ، کہ دو کرے باغ باغ
طیبہ سے آ کر صبا، تم پے کروڑوں درود
گَیس و قَد لام الف کر دو، بلا منصف
لہ کے تہِ تَیگ “لَا”، تم پے کروڑوں درود
تم نے بَرنِغ فَلَق، جَیبِ جہان کر کے شَق
نور کا تڑکا کیا، تم پے کروڑوں درود
نوبَتے دار ہیں فلک، خادِمِ در ہیں ملک
تم ہو جہاں بادشاہ، تم پے کروڑوں درود
خَلق تمہاری جَمِیل، خُلُق تمہارا جَلیل
خلق تمہاری غَدا، تم پے کروڑوں درود
طیبہ کے ماہِ تمام، جُملا رسل کے امام
نو شہِ مَلکِ خدا، تم پے کروڑوں درود
تم سے جہاں کا نِظام، تم پے کروڑوں سلام
تم پے کروڑوں ثنا، تم پے کروڑوں درود
تم ہو جَوّادِ کریم، تم ہو رَؤوف و رَحیم
بھیق ہو داتا عطا، تم پے کروڑوں درود
خلق کے حاکم ہو، تم رزق کے قسم ہو
تم سے ملا جو ملا، تم پے کروڑوں درود
نافع و دافِع ہو تم، شافع و رافع ہو تم
تم سے بس افزوں ان خدا، تم پے کروڑوں درود
شافع او نافع ہو تم، کافی و وافی ہو تم
درد کو کردو دوا، تم پے کروڑوں درود
جائے نہ جب تک غلام، خُلد ہے سب پر حرام
ملک تو ہے آپ کا، تم پے کروڑوں درود
مظهرِ حق ہو تم ہی، ماذِرِ حق ہو تم ہی
تم میں ہے ظاہر خدا، تم پے کروڑوں درود
زدِی ہے نہ رَسّاء، تکیا گاہِ بَے کَسَا
بادشاہِ ماورا، تم پے کروڑوں درود
برسے کرم کی بھار، پھولِ نعم کے چمن
ایسی چلا دو ہوا، تم پے کروڑوں درود
ایک طرف آداءِ دین، ایک طرف حسدِ (لوگ)
بندہ ہے تنہا، شاہ تم پے کروڑوں درود
کیوں کہوں بے کس ہوں، میں کیوں کہوں بے باس ہوں
تم ہو، میں تم پر فدا، تم پے کروڑوں درود
گنّدے، نِکمے، کمینے، مہنگے ہو کوڑی کے تین
کون ہمیں پالے؟ تم پے کروڑوں درود
بات نہ ڈر کے کہیں، گھاٹ نہ گھر کے کہیں
ایسے تمھیں پالنا، تم پے کروڑوں درود
ایسوں کو نعمت کھلاؤ، دودھ کے شربت پلاو
ایسوں کو ایسی غذا، تم پے کروڑوں درود
گرنے کو ہوں روک لو، گھوٹا لگے ہاتھ دو
ایسوں پر ایسی عطا، تم پے کروڑوں درود
اپنے خطاؤں کو اپنے ہی دامن میں لو
کون کرے یہ بھلا؟ تم پے کروڑوں درود
کر کے تمھارے گناہ مانگے تمھاری پناہ
تم کہو دامن میں آ، تم پے کروڑوں درود
کر دو عدُو کو تباہ، حسد کرنے والوں کو رو بار
اہلِ ولایت کا بھلا، تم پے کروڑوں درود
ہم نے خطا میں نہ کی، تم نے عطا میں نہ کی
کوئی کمی سرور! تم پے کروڑوں درود
کام غَضب کے کیا، اُس پہ ہے سرور سے
بندوں کو چشمِ رضا، تم پے کروڑوں درود
آنکھ عطا کیجیے، اُس میں ضیا دیجئے
جلوا قریب آ گیا، تم پے کروڑوں درود
کام وہ لے لیجئے تم کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نامِ رضا، تم پے کروڑوں درود
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ پُرشکوه اور لافانی کلام امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کا تحریر کردہ سحر انگیز "سلام" ہے، جو دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے۔ اس سلام میں حضورِ اکرم ﷺ کی عالمگیر ملوکیت، علمِ غیب، شانِ شفاعت، اور گنہگار امتیوں پر آپ ﷺ کے بے پناہ لطف و کرم کو نہایت فصیح و بلیغ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ان ایمان افروز اشعار کا مطلب ہے کہ اندھیری راتوں کو مٹانے والے کعبے کے چودھویں کے چاند اور مدینہ منورہ کے چمکتے ہوئے سورج (حضور ﷺ) پر کروڑوں درود و سلام ہوں۔ شاعر کہتا ہے کہ روزِ قیامت جب نفسا نفسی کا عالم ہوگا، آپ ﷺ ہی گنہگاروں کی مغفرت کا ذریعہ بنیں گے، کیونکہ کائنات کی تمام نعمتیں اور بقا آپ ہی کے وجودِ مسعود کا صدقہ ہیں۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| بدر الدّوجا | اندھیرے کا چودھویں کا چاند (مراد حضور ﷺ) |
| شمس الّضحا | چمکتا ہوا دن کا سورج |
| روزِ جزا | قیامت کا دن / انصاف کا دن |
| نہاں | چھپا ہوا / مخفی |
| کافہ پا (کفِ پا) | مبارک تلوے / قدمِ پاک کا نچلا حصہ |
| بابِ جُود | سخاوت اور عطا کا دروازہ |
| معاذ / ملاز | پناہ گاہ / امان ملنے کی جگہ |
| عفّو و غَفُور | بہت معاف کرنے والا اور بخشنے والا |
| آداءِ دین | دین کے دشمن |
| نامِ رضا | اعلیٰ حضرت کا تخلص (اور رضا سے مراد خدا اور رسول کی خوشنودی) |
اس پاک کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کائنات کا مالک و مختار اور رزق کا قاسم بنا کر بھیجا ہے، جن کے وسیلے کے بغیر جنت کا حصول ممکن نہیں ہے۔ اعلیٰ حضرت اپنی عاجزی اور گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم جیسے نکمے اور خطا کار غلاموں کو کائنات میں کوئی نہیں پوچھتا تھا، لیکن یہ آقا ﷺ کا خاص کرم ہے جو اپنے دامنِ رحمت میں پناہ دیتے ہیں۔ آخر میں وہ دعا کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ! مجھ سے وہ کام لے لیجیے جس سے آپ راضی ہو جائیں تاکہ آپ کے اس ادنیٰ غلام 'رضا' کے نام کی لاج رہ جائے۔
شاعر کے مطابق قیامت کے دن (روزِ جزا) گناہگاروں کا اصلی سہارا کون ہوگا، اور جنت میں داخلے کے حوالے سے انہوں نے کیا شرط بیان کی ہے؟