मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: جھولا جھلاؤ میں تجھے جھولا جھلاؤ
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 19 Feb, 2023 12:14 PM IST
دیکھا گیا: 6.1K
Time to read: 2 min read
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ،
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ،
میں خواب میں اصغر تجھے لوری دے سلاؤ،
میں خواب میں اصغر تجھے لوری دے سلاؤ
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ،
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
لوٹ آو صفر سے کے بڑی دیر ہوئی ہے،
بیتاب ہو کب سے تجھے سینے سے لگاؤ
میں جھولا جھلاؤ، تجھے میں جھولا جھلاؤ،
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
کوئی مجھے بتلاتا نہیں تیری نشانی،
برسات میں تیرو کی کہاں ڈھونڈنے جاؤں
میں جھولا جھلاؤ، تجھے میں جھولا جھلاؤ،
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
سوچا تھا تیری سال گیرا گھر پہ کرونگی،
تقدیر یہ کہتی ہے تیرا سوگ مناؤ
میں جھولا جھلاؤ، تجھے میں جھولا جھلاؤ،
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
بابا سے تیرے تیرا جنازہ نہ اٹھے گا،
رک جا ذرا عباس کو دریا سے بلاؤ
میں جھولا جھلاؤ، تجھے میں جھولا جھلاؤ،
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
یہ خوں سے بھرا کرتا یہ مٹی میں بھرے بال،
سینے میں چھپاؤں کے میں آنکھوں سے لگاؤ
میں جھولا جھلاؤ، تجھے میں جھولا جھلاؤ،
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
اس طرح کوئی روٹھ کے ماں سے نہیں جاتا،
تو خود ہی بتا دے میں تجھے کیسے مناؤ
میں جھولا جھلاؤ، تجھے میں جھولا جھلاؤ،
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
ریحان کے نوہے پہ صدا بانو کی آئی،
میں آنکھ پہ اشکون کے سمندر کو بہاؤ
میں جھولا جھلاؤ، تجھے میں جھولا جھلاؤ،
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
میں جھولا جھلاؤ، تجھے میں جھولا جھلاؤ،
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
جھولا جھلاؤ، میں تجھے جھولا جھلاؤ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کربلا کے المناک واقعے اور پیاسے شیر خوار کی شہادت پر مبنی ایک انتہائی رقت آمیز اور دل دوز نوحہ ہے۔ اس کلام میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے چھ ماہ کے معصوم بیٹے حضرت علی اصغرؑ کی شہادت کے بعد، ان کی والدہ محترمہ (جنابِ بانو) کے دل کے ارمانوں، ممتا کی تڑپ اور خالی جھولے کو دیکھ کر ان کے بین کو بیان کیا گیا ہے۔
ان پُر درد اشعار کا مطلب ہے کہ "ایک تڑپتی ہوئی ماں (جنابِ بانو) کربلا کے مصائب کے بعد اپنے شہید بچے کے خالی جھولے کو جھلا رہی ہے اور حسرت سے کہتی ہے کہ اے اصغر! میں اب تمہیں حقیقت میں تو نہیں، مگر خواب میں لوری دے کر سلاتی ہوں۔" وہ روتے ہوئے پکارتی ہیں کہ "اے میرے لال! اب اس آخری سفر سے لوٹ آؤ، جہاں میں نے گھر پر تیری سالگرہ منانے کا سوچا تھا، وہاں اب تقدیر مجھے تیرا ماتم کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔"
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| اصغرؑ | حضرت علی اصغرؑ (امام حسین علیہ السلام کے ۶ ماہ کے معصوم فرزند) |
| سال گیرا (سالگرہ) | پیدائش کا دن (Birthday) |
| سوگ | غم / ماتم یا رنج منانا |
| عباسؑ / دریا | حضرت عباس علمدارؑ (امام حسینؑ کے بھائی) / دریائے فرات |
| جنازہ | شیو یاترا / میت اٹھانا |
| بانو | جنابِ رباب (حضرت علی اصغرؑ کی والدہ ماجدہ کا لقب) |
| نوحہ / صدا | ماتمی کلام یا مرثیہ / آواز یا پکار |
اس نوہے کا لبِ لباب ایک مظلوم ماں کا وہ عاجزانہ کرب ہے جس کا تڑپتا ہوا بچہ اعداء کے تیروں کی برسات میں جدا ہو گیا۔ ماں اپنے بچے کے خون آلود کرتے اور خاک میں اٹے بالوں کو دیکھ کر بلکتی ہے اور کہتی ہے کہ "اتنے چھوٹے بچے کا جنازہ تیرے اکیلے بابا (امام حسینؑ) سے نہیں اٹھے گا، ذرا رک جاؤ میں دریا کے کنارے سے تیرے غازی چچا عباسؑ کو مدد کے لیے بلاتی ہوں۔" وہ روٹھے ہوئے بچے سے شکوہ کرتی ہے کہ کوئی اس طرح ماں کو چھوڑ کر نہیں جاتا، اور آخر میں شاعر 'ریحان' کے نوہے پر جنابِ بانو کی سسکیاں گونجتی ہیں جو اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر بہا رہی ہیں۔
لیرکس کے مطابق، ماں بانو نے بچے کی سالگرہ کے بارے میں کیا سوچا تھا اور اب تقدیر انہیں کیا کرنے پر مجبور کر رہی ہے؟