प्यासी है सकीना
- 6 دن پہلے fiber_manual_record 54 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دل نہ دکھانا ماں کو نہ ستانا
زمرہ: نظم کے بول (لیرکس) قوّالی کے بول (لیرکس)
شامل کیا گیا: 03 Jul, 2022 06:35 AM IST
دیکھا گیا: 6K
Time to read: 1 min read
ہر ایک قدم پر خدا اس کی لاج رکھتا ہے
جو سر پی ماں کی دعاؤں کا تاج رکھتا ہے
کیوں میں محبّتوں میں وفا سے دغا کروں
دل سے تیرے خیالوں کو کیسے جدا کروں
بیمار ماں ہیں اور وقت نماز بھی ہے
ایک وقت میں دو فرض کیسے ادا کروں
دل نہ دکھانا ماں کو نہ ستانا، ماں کے چوم لینا کدم
.....پوری لیرکس جلد ہی اپلوڈ کی جاے گی
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ماں کی عظمت، قربانیوں اور اس کی خدمت کے فرض کو اجاگر کرنے والا ایک انتہائی رقت انگیز اور دل کو چھو لینے والا کلام ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ جو انسان اپنی ماں کی دعاؤں کو اپنے سر کا تاج بنا کر رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ زندگی کے ہر موڑ پر اس کی عزت اور بھرم قائم رکھتا ہے۔ شاعر ایک گہرے دینی اور جذباتی امتحان کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب ایک طرف نماز کا وقت ہو اور دوسری طرف ماں بیمار ہو، تو انسان شش و پنج میں پڑ جاتا ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں اللہ کی عبادت اور بیمار ماں کی خدمت دونوں ہی لازمی فرض بن جاتے ہیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| لاج | حیا / عزت یا بھرم |
| دغا | دھوکہ / بے وفائی |
| جدا | الگ / دور کرنا |
| فرض | لازمی کام / وہ حکم جس کا پورا کرنا ضروری ہو |
| ادا | پورا کرنا / بجا لانا |
اس کلام میں ماں کی خدمت کو دنیا کا سب سے بڑا مرتبہ اور سکون بتایا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ماں کا دل دکھانا یا اسے ستانا دنیا و آخرت کی بربادی کا سبب ہے، اس لیے ہر حال میں اس کے قدم چوم کر اس کی دعائیں لینی چاہئیں کیونکہ ماں کے قدموں تلے ہی جنت ہے۔ کلام کا بنیادی مقصد انسان کو یہ یاد دلانا ہے کہ اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ والدین، خصوصاً ماں کی تیمارداری اور خدمت بھی دین کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔
شاعر کے مطابق، جب ایک طرف نماز کا وقت ہو اور دوسری طرف بیمار ماں ہو، تو وہ ایک وقت میں کن دو 'فرض' کو ادا کرنے کی کشمکش (الجھن) میں ہے؟