मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 417 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دَمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مولانا حسن رضا خان حسنؔ بریلوی
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 07 Aug, 2023 09:17 AM IST
دیکھا گیا: 826
Time to read: 2 min read
دَمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے،
میرے دل میں چین آئے، تو اِسے قرار آئے
تری وحشتوں سے اے دل مجھے کیوں نہ عار آئے،
تُو انہی سے دُور بھاگے جنہیں تجھ پہ پیار آئے
دَمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے،
میرے دل میں چین آئے، تو اِسے قرار آئے
نہ حبیب سے محب کا کہیں ایسا پیار دیکھا،
وہ بنے خدا کا پیارا، تمہیں جس پہ پیار آئے
مجھے کیا ہو غمِ عالم کا، مجھے کیا ہو غمِ عالم کا،
کہ علاجِ غمِ عالم کا، میرے غم گسار آئے
جو چمن بنائے بن کو، جو جنا کرے چمن کو،
میرے باغ میں الٰہی، کبھی وہ بہار آئے
سببِ غفورِ رحمت مری بے زبانیان ہیں،
نہ فغاں کے ڈھنگ جانو، نہ مجھے پکار آئے
تری رحمتوں سے کم ہے، میرے جرم اِس سے زائد،
نہ مجھے حساب آئے، نہ مجھے شمار آئے
ترے صدقے جائے شاہا، یہ ترا ذلیل منگتا،
وہ وقار لے کے جائے، جو ذلیل و خوار آئے
وہ کریم ہیں یہ سرور، کہ لکھا ہوا ہے در پر،
کہ جسے لینے ہوں دو عالم، وہ امید وار آئے
ترے در کے ہیں بھکاری، ملے خیر دم بہ دم کی،
ترا نام سن کے داتا، ہم امید وار آئے
گلِ قُلد لے کے زاہد، تجھے قارِ طیبہ دے دوں،
میرے پھول مجھ کو دیجے، بڑے ہوشیار آئے
میرے دل کو دردِ اُلفت و سکون دے الٰہی،
میرے بے قراریوں کو نہ کبھی قرار آئے
حسنؔ ان کا نام لے کر تُو پکار دیکھ غم میں،
کہ وہ نہیں جو غافل، پسِ انتظار آئے
تری وحشتوں سے اے دل مجھے کیوں نہ عار آئے،
تُو انہی سے دُور بھاگے جنہیں تجھ پہ پیار آئے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دلسوز اور والہانہ نعتِ پاک مولانا حسن رضا خان حسنؔ بریلوی کی تخلیق ہے، جس میں انہوں نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کی سخاوت، اپنے گناہوں پر ندامت اور آقا ﷺ کی بے پناہ رحمت پر کامل یقین کا اظہار کیا ہے۔
اس کلام کا مفہوم ہے کہ جب بھی عاشق کا دل شدید بے چینی اور تڑپ (دمِ اضطراب) کا شکار ہوتا ہے، تو اپنے محبوب (حضور ﷺ) کا خیال آتے ہی اسے سکون مل جاتا ہے۔ شاعر اپنے ہی دل کو ملامت کرتا ہے کہ تجھے اس آقا ﷺ سے دور بھاگتے ہوئے شرم (عار) کیوں نہیں آتی جو تجھ سے (اپنی امت سے) کائنات میں سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
| الفاظ (Word) | معنی (Urdu / English Meaning) |
|---|---|
| دَمِ اضطراب | بے چینی اور بے قراری کا وقت (Moment of restlessness) |
| خیالِ یار | محبوب کا خیال — یہاں مراد حضور ﷺ ہیں (Thought of the beloved) |
| وحشتوں | دیوانگی، آوارگی یا بھٹکنے کی حالت (Wilderness / Madness) |
| عار | شرمندگی یا جھجک (Shame / Disgrace) |
| غم گسار | دکھ درد بانٹنے والا، ہمدرد (Sympathizer) |
| وقار | عزت، رتبہ یا عظمت (Dignity / Honour) |
| ذلیل و خوار | عاجز، بے بس یا دنیا کا ٹھکرایا ہوا (Humiliated / Helpless) |
| غافل | بے خبر یا لاپرواہ (Negligent / Unaware) |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینے والے آقا ﷺ کا دربار وہ کریم آستانہ ہے جہاں دونوں جہان کی نعمتیں ملتی ہیں اور وہاں سے کوئی بھی مجبور یا گناہ گار منگتا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا بلکہ عزت و وقار پا کر جاتا ہے۔ شاعر 'حسنؔ' فرماتے ہیں کہ ہمارے جرم اور گناہ چاہے جتنے بھی ہوں، وہ حضور ﷺ کی شفاعت اور اللہ کی رحمت کے سامنے کچھ بھی نہیں، اس لیے رنج و غم کے وقت صرف ان کا نام لے کر پکارنا چاہیے کیونکہ وہ اپنی امت کی فریاد سننے میں کبھی غفلت نہیں برتتے۔
اس نعت کے مطابق، جب کوئی ذلیل و خوار (بے بس اور لاچار) منگتا سرکار ﷺ کے در پر آتا ہے، تو وہ وہاں سے کیا لے کر لوٹتا ہے؟