मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 52 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میٹھا میٹھا ہے میرے محمد کا نام
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) صلوٰۃ و سلام کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 08 Apr, 2023 09:17 AM IST
دیکھا گیا: 768
Time to read: 2 min read
میٹھا میٹھا ہے میرے محمد کا نام
اُن پہ لاکھوں کروڑوں دُرود و سلام
جس نے آ کے سنوارا ہے دارین کو
جس کی رحمت نے ڈھانپا ہے کونین کو
جس کے دم سے ہی یہ رونقیں ہیں تمام
اُن پہ لاکھوں کروڑوں دُرود و سلام
میٹھا میٹھا ہے میرے محمد کا نام
لا مکاں کے بنے ہیں وہی تو مکیں
جن کی نعلین کو چومے عرشِ بریں
جو خدا سے ہوئے عرش پر ہم کلام
اُن پہ لاکھوں کروڑوں دُرود و سلام
میٹھا میٹھا ہے میرے محمد کا نام
وقت لائے خدا، جائے دربار پر
اور کھڑے ہو کے روضۂ سرکار پر
پیش مل کر کریں ہم دُرود و سلام
اُن پہ لاکھوں کروڑوں دُرود و سلام
میٹھا میٹھا ہے میرے محمد کا نام
ایک خدا کی رضا جس کا مقصود تھا
ظلم سہتا رہا، شکر کرتا رہا
جس کے صبر و تحمّل کے چرچے ہیں عام
اُن پہ لاکھوں کروڑوں دُرود و سلام
میٹھا میٹھا ہے میرے محمد کا نام
شاہِ کونین وہ، روحِ دارین وہ
فخرِ حسنین وہ، غوثِ ثقلین وہ
جن کے در کا ہے حافظ بھی ادنیٰ غلام
اُن پہ لاکھوں کروڑوں دُرود و سلام
میٹھا میٹھا ہے میرے محمد کا نام
وہی حسنی حسین چمن کے ہیں پھول
نورِ مولا علی، جانِ زہرا بتول
جس کے نانا رسولِ خدا زی مکاں
اُن پہ لاکھوں کروڑوں دُرود و سلام
میٹھا میٹھا ہے میرے محمد کا نام
اُن پہ لاکھوں کروڑوں دُرود و سلام
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ شیریں اور مقبولِ عام نعتِ شریف حضورِ اکرم ﷺ کے مبارک نام کی مٹھاس، آپ ﷺ کے بے مثل صبر اور بلند رُوحانی مرتبے کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ اس میں نہایت ہی محبت اور عقیدت کے ساتھ آقا ﷺ کی بارگاہ میں لاکھوں کروڑوں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کا نام دل و جان کو سکون اور مٹھاس دینے والا ہے، جنہوں نے اپنی تعلیمات سے دنیا اور آخرت (دارین) دونوں کو سنوار دیا۔ آپ ﷺ وہ عظیم ہستی ہیں جو شبِ معراج عرشِ بریں سے بھی آگے (لا مکاں) تشریف لے گئے اور وہاں پروردگارِ عالم سے براہِ راست گفتگو (ہم کلام) ہونے کا شرف حاصل کیا۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| دارین | دونوں جہان (دنیا اور آخرت) |
| کونین | تمام کائنات / زمین و آسمان |
| لا مکاں | وہ جگہ جو حد و مکان سے باہر ہو (مراد عرش سے آگے) |
| ہم کلام | آپس میں گفتگو کرنے والا |
| مقصود | ارادہ / اصل مقصد یا نیت |
| تحمّل | بردباری / صبر اور برداشت |
| ثقلین | انسان اور جنات (دونوں مخلوقات) |
| ذی مکاں | بلند مرتبے اور عالی شان مقام والا |
اس کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہی کائنات کی تمام رونقوں کی اصل وجہ ہے، جنہوں نے صرف خدا کی رضا کے لیے ہر ظلم و ستم پر صبر کیا اور ہمیشہ رب کا شکر ادا کیا۔ شاعر 'حافظ' خدا سے التجا کرتے ہیں کہ انہیں آقا ﷺ کے روضۂ انور کے سامنے باادب کھڑے ہو کر سلام پڑھنے کا موقع نصیب ہو۔ نعت کے آخر میں حسنین کریمین، مولا علی اور سیدہ فاطمہ الزہرا (بتول) کے پاک گھرانے (اہلِ بیت) سے بھی گہری عقیدت کا اظہار کیا گیا ہے۔
شاعر کے مطابق کس عظیم ذات نے خدا کی رضا کے لیے ظلم سہہ کر بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، اور انہوں نے روضۂ سرکار پر کھڑے ہو کر کیا کرنے کی خواہش کی ہے؟