माँ तेरा चेहरा है कितना निराला
- 4 ہفتے پہلے fiber_manual_record 49 بار دیکھا گیا
,
عنوان: لہو اپنا بہایا کربلا میں
زمرہ: منقبت کے بول (لیرکس) نوحہ/مرثیہ نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: ندیم رضا قریشی (پیلی بھیتی)
نعت خوان/ فنکار: ندیم رضا قریشی (پیلی بھیتی)
شامل کیا گیا: 16 Jun, 2026 06:27 PM IST
دیکھا گیا: 10
Time to read: 1 min read
حسین ابنِ علی نے کربلا میں،
لہو اپنا بہایا کربلا میں
نبی کے دین کو ظالم سے لوگوں،
کٹا کے سر بچایا کربلا میں
حسین ابنِ علی نے کربلا میں،
لہو اپنا بہایا کربلا میں
کہا عباس نے بازو کٹا کر،
گوارا ہر ستم ہے کربلا میں
حسین ابنِ علی نے کربلا میں،
لہو اپنا بہایا کربلا میں
کیا نانا سے بچپن میں تھا وعدہ،
کٹا کے سر نبھایا کربلا میں
حسین ابنِ علی نے کربلا میں،
لہو اپنا بہایا کربلا میں
کہا زینب نے یہ اصغر کو لے کر،
چلا پیاسا یہ اصغر کربلا میں
حسین ابنِ علی نے کربلا میں،
لہو اپنا بہایا کربلا میں
ندیم تھے حسینی کل بہتر (72)،
ہزاروں کو پچھاڑا کربلا میں
حسین ابنِ علی نے کربلا میں،
لہو اپنا بہایا کربلا میں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام/نوحہ امام حسین (ع) اور ان کے جانثاروں کی ان عظیم قربانیوں کا تذکرہ کرتا ہے جو انہوں نے کربلا کے میدان میں دینِ اسلام کی بقا اور حق کی سربلندی کے لیے دیں۔
اس نوحے کا مطلب ہے کہ حضرت امام حسین (ع) نے کربلا کی تپتی ریت پر اپنا پاکیزہ خون بہا کر نانا (ص) کے دین کو مٹنے سے بچا لیا۔ آپ نے بچپن میں رسول اللہ ﷺ سے جو وعدہ کیا تھا، اسے یزیدی ظلم کے آگے سر نہ جھکا کر اور اپنی مظلومانہ شہادت پیش کر کے پورا کیا۔
| الفاظ (Words) | معنی (Meanings) |
|---|---|
| ابنِ علی | علی کے بیٹے (حضرت علی علیہ السلام کے فرزند) |
| دین | مذہب / اسلام |
| بازو | ہاتھ / قوتِ بازو |
| گوارا | قبول / منظور |
| ستم | ظلم و ستم / زیادتیاں |
| اصغر | حضرت علی اصغر (امام حسین کے ۶ ماہ کے شیر خوار بیٹے) |
| پچھاڑا | شکست دی / ہرا دیا |
کربلا میں حق و باطل کی جنگ کے دوران حضرت عباس (ع) نے اپنے بازو کٹا دیے اور ننھے علی اصغر (ع) پیاسے ہی شہید ہو گئے۔ شاعر 'ندیم' کہتے ہیں کہ تعداد میں صرف بہتر (72) ہونے کے باوجود، حسینی لشکر کے ایمانی جذبے اور شجاعت نے یزید کی ہزاروں کی ظالم فوج کو ہمیشہ کے لیے عبرت ناک شکست دے دی۔
امام حسین (ع) کے لشکر میں کل کتنے جاں نثار شامل تھے، جنہوں نے ہزاروں کی فوج کو کربلا میں پچھاڑا (شکست دی)؟