प्यासी है सकीना
- 6 دن پہلے fiber_manual_record 53 بار دیکھا گیا
,
عنوان: وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں
زمرہ: نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 21 Mar, 2024 03:04 PM IST
دیکھا گیا: 377
Time to read: 2 min read
وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں،
شرحِ والشَّمس و الضحیٰ کرتے ہیں،
اُن کی ہم مدح و ثنا کرتے ہیں،
جن کو محمود کہا کرتے ہیں
تو ہے خورشیدِ رسالت پیارے،
چھپ گئے تیری ضیا میں تارے،
انبیاء اور ہیں سب مہ پارے،
تجھ سے ہی نور لیا کرتے ہیں
اپنے مولا کی ہے بس شانِ عظیم،
جانور بھی کرے جن کی تعظیم،
سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم،
پید سجدے میں گرا کرتے ہیں
اُنگلیاں پائیں وہ پیاری پیاری،
جن سے دریاے کرم ہے جاری،
جوش پر آتی ہے جب غمخواری،
اس میں سیراب ہوا کرتے ہیں
رفعتِ ذکر ہے تیرا حصہ،
دونوں عالم میں ہے تیرا چرچا،
مرغِ فردوس بہ صد حمدِ خدا،
تیری ہی مدح و ثنا کرتے ہیں
ہاں یہی کرتی ہے چڑیا فریاد،
یہی سے چاہتی ہے ہرنی داد،
اسی در پر شترانِ ناشاد،
گلۂ رنج و عنا کرتے ہیں
آستیں رحمتِ عالم اُلٹے،
کمرِ پاک پہ دامن باندھے،
گرنے والوں کو کوچۂ دوزخ سے،
صاف الگ کھینچ لیا کرتے ہیں
جب صبا آتی ہے طیبہ سے اِدھر،
کھلکھلا پڑتی ہیں کلیاں یکسر،
پھول جامے سے نکل کر باہر،
رُخِ رنگی کی ثنا کرتے ہیں
جس کے جلوے سے اُحد ہے تاباں،
معدنِ نور ہے اُس کا دمَا،
ہم بھی اُس چاند پہ ہو کر قُربا،
دلِ سنگی کی جِلا کرتے ہیں
تو ہے وہ بادشاہِ کون و مکاں،
کہ ملک ہفت فلک کے ہر آ،
تیرے مولا سے شاہِ عرش ایوا،
تیری دولت کی دعا کرتے ہیں
کیوں نہ زیبا ہو تجھ سے تاج واری،
تیرے ہی دم کی ہے سب جلوہ گری،
ملک و جِن و بشر حُور و پری،
جان سب تجھ پہ فدا کرتے ہیں
اپنے دل کا ہے انہی سے آرام،
سونپے ہیں اپنے انہی کو سب کام،
لو لگی ہے کہ اب اُس در کے غلام،
چارۂ دردِ رضا کرتے ہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کا تحریر کردہ ایک شاہکار کلام ہے، جس میں رسولِ اکرم ﷺ کے رُخِ انور کی ضیا پاشیوں، آپ ﷺ کے معجزات اور کائنات پر آپ ﷺ کے احسانات کو نہایت فصیح و بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ حضور ﷺ کا چہرہ سورج اور چاشت کی روشنی کی اصل تفسیر ہے؛ آپ ﷺ رسالت کے وہ سورج ہیں جن سے تمام انبیاء (بطورِ مہ پارے) نور حاصل کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کی رحمت کا یہ عالم ہے کہ بے زبان جانور فریاد لے کر آپ ﷺ کے در پر آتے ہیں اور آپ ﷺ ڈوبتے ہوئے گناہگاروں کو جہنم کے کنارے سے تھام لیتے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| وصفِ رُخ | چہرے کی تعریف |
| خورشیدِ رسالت | نبوت کا سورج |
| ضیا | روشنی یا چمک |
| مہ پارے | چاند کے ٹکڑے |
| تعظیم | عزت و احترام |
| شترانِ ناشاد | غمزدہ اونٹ |
| کوچۂ دوزخ | جہنم کی گلی |
| جِلا | چمک یا صفائی (دل کو روشن کرنا) |
| چارہ | علاج یا حل |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام جہانوں کے لیے مرکزِ نور اور منبعِ رحمت ہیں۔ کائنات کی ہر شے، خواہ وہ انسان ہو، جن ہو، فرشتے ہوں یا نباتات و جمادات، سب آپ ﷺ کے در کے محتاج اور آپ ﷺ کی عظمت کے معترف ہیں۔ آخر میں شاعر اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ ان کے تمام دکھوں کا مداوا صرف اور صرف درِ رسول ﷺ سے وابستگی میں ہے۔
نعت کے آخری مصرعے میں شاعر "رضا" نے اپنے دل کے آرام اور اپنے تمام کاموں کے حوالے سے کیا کہا ہے، اور وہ کس امید میں اس در کے غلام بنے ہوئے ہیں؟