मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: پل سے اتارو رہ گزر کو خبر نہ ہو
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 08 Dec, 2025 02:56 PM IST
دیکھا گیا: 371
Time to read: 1 min read
پل سے اتارو رہ گزر کو خبر نہ ہو،
جبرئیل پر بچھائے تو پر کو خبر نہ ہو
کانٹا میرے جگر سے غمِ روزگار کا،
یوں کھینچ لیجئے کہ جگر کو خبر نہ ہو
فریاد امتی جو کرے حالِ زار میں،
ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو
کہتے تھے یہ براق سے اس کے سبق روی،
یوں جائیے کہ گردِ سفر کو خبر نہ ہو
فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں،
اے مرتضیٰ! عتیق و عمر کو خبر نہ ہو
ایسا گما دے ان کی ولا میں خدا ہمیں،
ڈھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
آ دل! حرم کو روکنے والوں سے چھپ کے آج،
یوں اٹھ چلے کہ پہلو و بر کو خبر نہ ہو
تیرِ حرم ہیں یہ کہیں رشتہ بے پا نہ ہو،
یوں دیکھیے کہ تارے نظر کو خبر نہ ہو
اے خارِ طیبہ! دیکھ کے دامن نہ بھیگ جائے،
یوں دل میں آ کے دیدۂ تر کو خبر نہ ہو
اے شوقِ دل! یہ سجدہ گھر ان کو روا نہیں،
اچھا! وہ سجدہ کیجئے سر کو خبر نہ ہو
ان کے سوا رضا کوئی ہے ہی نہیں جہاں،
گزرے کرے پسر پہ پدر کو خبر نہ ہو
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام امام احمد رضا خان بریلوی کا شاہکار ہے، جو بارگاہِ رسالت میں انتہائی نزاکت، ادب اور لطافت کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نعت کا مرکزی نکتہ "خفا" اور "خاموشی" ہے، جہاں عاشق اپنے جذبات کی شدت کو خود سے بھی چھپانا چاہتا ہے۔
شاعر التجا کرتا ہے کہ اس پر کرم کی نوازش اس قدر خاموشی سے ہو کہ اس کے اپنے اعضاء کو بھی پتہ نہ چلے۔ وہ چاہتا ہے کہ پل صراط سے گزرنا ہو یا دل سے دنیاوی غموں کا کانٹا نکالنا، یہ سب اتنی نزاکت سے ہو کہ جگر اور راہ کو اس کی آہٹ تک نہ ملے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| غمِ روزگار | دنیا کے دکھ اور فکریں |
| خیرِ بشر | تمام انسانوں میں سب سے بہتر (مراد: نبی ﷺ) |
| سبق روی | تیز رفتاری / آگے بڑھ جانا |
| ولا | محبت اور دوستی |
| خارِ طیبہ | مدینہ کا کانٹا |
| دیدہ تر | نم آنکھیں / رونے والی آنکھ |
| پسر و پدر | بیٹا اور باپ |
اس نعت کا خلاصہ "ادب" کی وہ معراج ہے جہاں عاشق اپنی ہستی کو مٹا دینا چاہتا ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی محبت میں ایسا گم ہو جاؤں کہ خود اپنی خبر نہ رہے، اور یہاں تک کہ سجدہ بھی ایسا ہو کہ سر کو بھی معلوم نہ ہو کہ وہ جھکا ہوا ہے۔ یہ کلام ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں والدین بھی ساتھ چھوڑ سکتے ہیں، مگر حضور ﷺ کی رحمت ہر حال میں امتی کے ساتھ ہوتی ہے۔
اعلیٰ حضرت کا یہ انداز کہ "سر کو خبر نہ ہو"، کیا آپ کو عشق اور ادب کی انتہا نہیں لگتا؟