اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 127 بار دیکھا گیا
,
عنوان: Mustafa Mustafa Mustafa
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 29 Sep, 2023 07:50 AM IST
دیکھا گیا: 2.8K ڈاؤن لوڈز: 182
Time to read: 1 min read
translate بول کی زبان منتخب کریں:
Mustafa Mustafa Mustafa
Mustafa Mustafa Mustafa
Jo Bagawat Kare Mere Sarkar Se
Uski Gardan Uda Dunga Talwar Se
Bole Farooqu E Aazam Yeh Kuffar Se
Aao Aao Idhar Tum Bhi Keh Do Zara
Mustafa Mustafa Mustafa
Mustafa Mustafa Mustafa
Meri Aankhe Tarsti Hai Deedar Ko
Dekh Loon Main Kabhi Apne Sarkar Ko
Gar Woh Aayen Nazar Is Gunhegar Ko
Toh Chum Lunge Yeh Aankhe Kehte Huye
Mustafa Mustafa Mustafa
Mustafa Mustafa Mustafa
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی غیرتِ ایمانی اور ایک امتی کی اپنے نبی ﷺ سے والہانہ محبت اور دیدار کی تڑپ کو بیان کرتی ہے۔
پہلے حصے میں حضرت عمر فاروق (رض) کی بہادری کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی یا بغاوت کرنے والوں کے لیے فاروقِ اعظم کی تلوار ہمیشہ تیار رہتی تھی۔ دوسرے حصے میں شاعر اپنی گنہگار آنکھوں کی پیاس کا ذکر کرتا ہے کہ اگر اسے کبھی حضور ﷺ کا دیدار نصیب ہو جائے تو وہ اپنی ان خوش نصیب آنکھوں کو چوم لے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بغامت | سرکشی یا نافرمانی (Rebellion) |
| فاروقِ اعظم | حضرت عمر (رض) کا لقب (حق اور باطل میں فرق کرنے والا) |
| کفار | انکار کرنے والے یا دشمنِ دین |
| دیدار | دیکھنا یا زیارت کرنا |
| گنہگار | خطا کار یا گناہ کرنے والا |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ناموسِ رسالت ﷺ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرام کا جذبہ نہایت سخت اور غیرت مندانہ تھا، جس کی مثال حضرت عمر (رض) کی للکار ہے۔ ساتھ ہی یہ کلام ایک عاشقِ رسول کی اس عاجزانہ خواہش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی تمام تر خطاؤں کے باوجود اپنے آقا ﷺ کے روئے مبارک کی ایک جھلک دیکھنے کا آرزو مند ہے۔
شاعر نے حضرت عمر فاروق (رض) کا ذکر کس پس منظر میں کیا ہے؟