मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 74 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میرے آقا مدینے بلا لیجیے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: حافظ طاہر قادری
شامل کیا گیا: 14 Apr, 2026 05:22 PM IST
دیکھا گیا: 367
Time to read: 3 min read
میرے آقا مدینے بلا لیجیے،
میرے آقا مدینے بلا لیجیے
سہارا چاہیے سرکار زندگی کے لیے،
تڑپ رہا ہوں مدینے کی حاضری کے لیے
طیبہ کے جانے والے، جا کر بڑے ادب سے،
میرا بھی قصۂ غم کہنا شاہِ عرب سے
کہنا کہ شاہِ عالم، اک رنج و غم کا مارا،
دونوں جہاں میں جس کا ہیں آپ ہی سہارا
حالتِ پُر الم سے اس دم گزر رہا ہے،
اور کانپتے لبوں سے فریاد کر رہا ہے
پائے گناہ اپنا ہے، دوش پر اٹھائے،
کوئی نہیں ہے ایسا جو پوچھنے کو آئے
بھولا ہوا مسافر منزل کو ڈھونڈتا ہے،
تاریکیوں میں ماہِ کامل کو ڈھونڈتا ہے
سینے میں ہے اندھیرا، دل ہے سیاہ خانہ،
یہ ہے میری کہانی سرکار کو سنانا
کہنا میرے نبی سے محروم ہوں خوشی سے،
سرور قبرِ غم ہے، اشکوں سے آنکھ نم ہے
پامالِ زندگی ہوں، سرکار امتی ہوں،
امت کے رہنما ہو، کچھ عرضِ حال سن لو
فریاد کر رہا ہوں میں دل فگار کب سے،
میرا بھی قصۂ غم کہنا میرے نبی سے
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے،
سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے
میرا دل تڑپ رہا ہے، جل رہا ہے سینہ،
کہ دوا وہیں ملے گی، مجھے لے چلو مدینہ
نہیں مال و زر تو کیا ہے، میں غریب ہوں یہی نہ،
میرے عشق مجھ کو لے چل، تو ہی جانبِ مدینہ
آقا نہ ٹوٹ جائے یہ دل کا آبگینہ،
اب کے برس بھی مولا رہ جاؤں میں کہیں نہ
دل رو رہا ہے جن کا آنسو چھلک رہے ہیں،
ان عاشقوں کے صدقے بلا لیجیے مدینہ
مدینے جاؤں پھر آؤں، دوبارہ پھر جاؤں،
یہ زندگی میری یوں ہی تمام ہو جائے
اے عازمِ مدینہ، جا کر نبی سے کہنا،
سو درد و الم سے اب جل رہا ہے سینہ
کہنا کہ بڑھ رہی ہے اب دل کی اضطرابی،
قدموں سے دور ہوں میں، قسمت کی ہے خرابی
کہنا کہ دل میں میرے ارمان بھرے ہوئے ہیں،
کہنا کہ حسرتوں کے نشتر چبھے ہوئے ہیں
ہے آرزو یہ دل کی میں بھی مدینہ جاؤں،
سلطانِ دو جہاں کو داغِ جگر دکھاؤں
کاٹوں ہزار چکر طیبہ کی ہر گلی کا،
یوں ہی گزار دوں میں ایامِ زندگی کا
پھولوں پہ جان نثاروں، کانٹوں پہ دل کو واروں،
ذروں کو دوں سلامی، در کی کروں غلامی
دیوار و در کو چوموں، چوکھٹ پہ سر کو رکھ دوں،
روضے کو دیکھ کر میں روتا رہوں برابر
ہم سب کے دل میں ہے یہ حسرت نہ جانے کب سے،
میرا بھی قصۂ غم کہنا شاہِ عرب سے
ایک روز ہوگا جانا سرکار کی گلی میں،
ہوگا وہیں ٹھکانہ سرکار کی گلی میں
دل میں نبی کی یادیں، لب پر نبی کی نعتیں،
جانا تو ایسے جانا سرکار کی گلی میں
یا مصطفیٰ خدا را دو اذنِ حاضری کا،
کر لوں نظارہ آ کر میں آپ کی گلی کا
اک بار تو دکھا دو رمضان میں مدینہ،
آقا ہمیں دکھا دو رمضان میں مدینہ
بے شک بنا لو آقا مہمان دو گھڑی کا،
نصیب والوں میں میرا بھی نام ہو جائے
جو زندگی کی مدینے میں شام ہو جائے
میرے آقا مدینے بلا لیجیے…
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ رسول ﷺ عشقِ رسول اور ہجرِ مدینہ میں ڈوبی ہوئی ایک ایسی پکار ہے جو ہر تڑپتے ہوئے دل کی ترجمانی کرتی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| شاہِ عرب | عرب کے بادشاہ (مراد نبی کریم ﷺ) |
| قصۂ غم | دکھ کی کہانی |
| پُر الم | غم سے بھرا ہوا |
| سیاہ خانہ | اندھیرا گھر / کالا مکان |
| دلِ فگار | زخمی دل / دکھی دل |
| آبگینہ | شیشہ یا کانچ کا برتن (نازک دل) |
| عازمِ مدینہ | مدینہ کا ارادہ کرنے والا / مسافر |
| اضطرابی | بے چینی / بے قراری |
| نشتر | خنجر یا نوکیلی چیز جو چبھ جائے |
| اذنِ حاضری | حاضری کی اجازت |
اس نعت کا مرکزی خیال مدینہ منورہ کی حاضری کی تڑپ اور نبی کریم ﷺ سے شفاعت کی امید ہے۔ شاعر اپنی بے بسی، گناہوں کے بوجھ اور دنیاوی محرومیوں کا ذکر کرتے ہوئے التجا کرتا ہے کہ اسے مدینے بلا لیا جائے تاکہ اس کے بے قرار دل کو سکون میسر آ سکے اور اس کی زندگی کا اختتام طیبہ کی گلیوں میں ہو۔
شاعر نے "نہیں مال و زر تو کیا ہے" کہہ کر مدینہ جانے کے لیے کس چیز کو اپنی سب سے بڑی طاقت بتایا ہے؟