मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مصطفٰی مصطفیٰ مصطفی
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 29 Sep, 2023 07:50 AM IST
دیکھا گیا: 2.3K
Time to read: 1 min read
مصطفٰی مصطفیٰ مصطفی،
مصطفٰی مصطفیٰ مصطفی
جو بگاوت کرے میری سرکار سے،
اس کی گردن اڈا دونگا تلوار سے،
بولے فاروق اعظم یہ کفار سے،
آؤ آو ادھر تم بھی کہ دو ذرا
مصطفٰی مصطفیٰ مصطفی،
مصطفٰی مصطفیٰ مصطفی
میری آنکھے ترستی ہے دیدار کو،
دیکھ لو میں کبھی اپنی سرکار کو،
گر وہ آئے نظراس گنہگار کو،
تو چوم لینگے یہ آنکھے کہتے ہوے
مصطفٰی مصطفیٰ مصطفی
مصطفٰی مصطفیٰ مصطفی
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی غیرتِ ایمانی اور ایک امتی کی اپنے نبی ﷺ سے والہانہ محبت اور دیدار کی تڑپ کو بیان کرتی ہے۔
پہلے حصے میں حضرت عمر فاروق (رض) کی بہادری کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی یا بغاوت کرنے والوں کے لیے فاروقِ اعظم کی تلوار ہمیشہ تیار رہتی تھی۔ دوسرے حصے میں شاعر اپنی گنہگار آنکھوں کی پیاس کا ذکر کرتا ہے کہ اگر اسے کبھی حضور ﷺ کا دیدار نصیب ہو جائے تو وہ اپنی ان خوش نصیب آنکھوں کو چوم لے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بغامت | سرکشی یا نافرمانی (Rebellion) |
| فاروقِ اعظم | حضرت عمر (رض) کا لقب (حق اور باطل میں فرق کرنے والا) |
| کفار | انکار کرنے والے یا دشمنِ دین |
| دیدار | دیکھنا یا زیارت کرنا |
| گنہگار | خطا کار یا گناہ کرنے والا |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ناموسِ رسالت ﷺ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرام کا جذبہ نہایت سخت اور غیرت مندانہ تھا، جس کی مثال حضرت عمر (رض) کی للکار ہے۔ ساتھ ہی یہ کلام ایک عاشقِ رسول کی اس عاجزانہ خواہش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی تمام تر خطاؤں کے باوجود اپنے آقا ﷺ کے روئے مبارک کی ایک جھلک دیکھنے کا آرزو مند ہے۔
شاعر نے حضرت عمر فاروق (رض) کا ذکر کس پس منظر میں کیا ہے؟