मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 68 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 15 Apr, 2026 04:05 PM IST
دیکھا گیا: 150
Time to read: 1 min read
اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تُو ہی والی ہے
نہ ہو مایوس آتی ہے صَدا گورِ غریبَاں سے
نبی اُمّت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے
اُترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے
اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اُجالی ہے
ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آگئی سر پر
کہاں سویا مسافر ہائے کتنا لا اُبالی ہے
اندھیرا گھر، اکیلی جان، دَم گُھٹتا، دِل اُکتاتا
خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے
زمیں تپتی، کٹیلی راہ، بَھاری بوجھ، گھائل پاؤں
مصیبت جھیلنے والے تِرا اللہ والی ہے
نہ چَونکا دن ہے ڈھلنے پر تری منزل ہوئی کھوٹی
ارے او جانے والے نیند یہ کب کی نکالی ہے
رضاؔ منزل تو جیسی ہے وہ اِک میں کیا سبھی کو ہے
تم اس کو روتے ہو یہ تو کہو یاں ہاتھ خالی ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلامِ رضاؔ انسان کو غفلت سے بیدار کرنے اور آخرت کی تیاری کی طرف راغب کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
اس کلام میں امام احمد رضا خان زندگی کی بے ثباتی اور قبر کی تنہائی کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دنیا چند روزہ ہے، جہاں گناہوں کا اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا ہے۔ ایسے میں گھبرانے کے بجائے خدا کی یاد اور نبی کریم ﷺ کے وسیلے کو تھامنا چاہیے، کیونکہ وہاں اصل دکھ منزل کی سختی کا نہیں بلکہ نیک اعمال سے خالی ہاتھ ہونے کا ہوگا۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| عصیاں (Asiyan) | گناہ / نافرمانیاں |
| دلِ بے کس | بے سہارا اور مجبور دل |
| گورِ غریباں | غریبوں یا مسافروں کی قبر |
| حامی (Hami) | مددگار / طرفداری کرنے والا |
| لا اُبالی (La-Ubali) | بے پرواہ / غافل |
| ساعت (Sa'at) | گھڑی / وقت (مراد موت کا وقت) |
| کھوٹی (Khoti) | مشکل میں پڑ جانا / خراب ہونا |
| والی (Wali) | مالک / سرپرست / مددگار |
| پاکھ (Paakh) | پندرہ دن کا عرصہ (مراد اندھیری رات) |
حاصلِ کلام: شاعر کہتا ہے کہ سفرِ آخرت بہت طویل اور پرخطر ہے، اس لیے اندھیرا چھانے سے پہلے اپنے رب کو یاد کر لو اور زادِ راہ (نیکیاں) اکٹھی کر لو۔
شاعر نے "بھیڑیوں کا بن" کہہ کر دنیا کی کس طرح کی خطرناک صورتِ حال کی طرف اشارہ کیا ہے؟