, چھوڑ فکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

چھوڑ فکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں Lyrics In اردو

(چھوڑ فکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں, مصطفیٰ غلاموں کی قسمتیں بدلتے ہیں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: چھوڑ فکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 09 Mar, 2026 07:22 AM IST

دیکھا گیا: 355

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

چھوڑ فکر دنیا کی، چل مدینے چلتے ہیں  
مصطفیٰ غلاموں کی قسمتیں بدلتے ہیں  

چھوڑ فکر دنیا کی  

رحمتوں کے بادل کے سائے ساتھ چلتے ہیں  
مصطفیٰ کے دیوانے گھر سے جب نکلتے ہیں  

چھوڑ فکر دنیا کی  

ہم کو روز ملتا ہے صدقہ پیارے آقا کا  
ان کے در کے ٹکڑوں پر خوش نصیب پلتے ہیں  

چھوڑ فکر دنیا کی  

آمنہ کے پیارے کا، سبز گنبد والے کا  
جشن ہم مناتے ہیں، جلنے والے جلتے ہیں  

چھوڑ فکر دنیا کی  

صرف ساری دنیا میں وہ طیبہ کی گلیاں ہیں  
جس جگہ پہ ہم جیسے کھوٹے سکے چلتے ہیں  

چھوڑ فکر دنیا کی  

سچ ہے غیر کا احسان وہ کبھی نہیں لیتے  
اے علیم! آقا کے جو ٹکڑوں پہ پلتے ہیں

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام عشقِ رسول ﷺ اور توکل کا ایک خوبصورت مظہر ہے، جس میں مدینہ منورہ کی نسبت اور حضور ﷺ کی سخاوت کا ذکر نہایت عقیدت سے کیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ دنیا کی پریشانیوں کو پسِ پشت ڈال کر مدینے کی جانب لو لگانی چاہیے کیونکہ حضور ﷺ اپنے غلاموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ مدینہ وہ جگہ ہے جہاں گنہگاروں اور بے قدروں (کھوٹے سکوں) کو بھی پناہ اور عزت ملتی ہے، اور ان کے در کے منگتے کسی غیر کے احسان مند نہیں ہوتے۔

الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
مصطفیٰحضرت محمد ﷺ کا صفاتی نام (چنا ہوا)
خوش نصیبخوش قسمت (Lucky)
طیبہمدینہ منورہ کا پاکیزہ نام
کھوٹے سکےبے قدر یا گنہگار لوگ (Metaphor for humble sinners)
صدقہخیرات یا بخشش
علیمشاعر کا تخلص

خلاصہ (Summary)

اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کے لیے اصل سہارا اور پناہ گاہ حضور ﷺ کی ذات اور ان کا دربار ہے۔ جو لوگ سچے دل سے ان کی غلامی اختیار کرتے ہیں، اللہ کی رحمتیں ان کے ساتھ سایہ بن کر چلتی ہیں اور انہیں دنیا کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہتی۔

شاعر نے مدینہ کی گلیوں کو ایسا کیوں کہا ہے جہاں "کھوٹے سکے" بھی چلتے ہیں؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: