मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 74 بار دیکھا گیا
,
عنوان: چھوڑ فکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اسد رضا عطاری اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 09 Mar, 2026 07:22 AM IST
دیکھا گیا: 355
Time to read: 1 min read
چھوڑ فکر دنیا کی، چل مدینے چلتے ہیں
مصطفیٰ غلاموں کی قسمتیں بدلتے ہیں
چھوڑ فکر دنیا کی
رحمتوں کے بادل کے سائے ساتھ چلتے ہیں
مصطفیٰ کے دیوانے گھر سے جب نکلتے ہیں
چھوڑ فکر دنیا کی
ہم کو روز ملتا ہے صدقہ پیارے آقا کا
ان کے در کے ٹکڑوں پر خوش نصیب پلتے ہیں
چھوڑ فکر دنیا کی
آمنہ کے پیارے کا، سبز گنبد والے کا
جشن ہم مناتے ہیں، جلنے والے جلتے ہیں
چھوڑ فکر دنیا کی
صرف ساری دنیا میں وہ طیبہ کی گلیاں ہیں
جس جگہ پہ ہم جیسے کھوٹے سکے چلتے ہیں
چھوڑ فکر دنیا کی
سچ ہے غیر کا احسان وہ کبھی نہیں لیتے
اے علیم! آقا کے جو ٹکڑوں پہ پلتے ہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام عشقِ رسول ﷺ اور توکل کا ایک خوبصورت مظہر ہے، جس میں مدینہ منورہ کی نسبت اور حضور ﷺ کی سخاوت کا ذکر نہایت عقیدت سے کیا گیا ہے۔
ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ دنیا کی پریشانیوں کو پسِ پشت ڈال کر مدینے کی جانب لو لگانی چاہیے کیونکہ حضور ﷺ اپنے غلاموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ مدینہ وہ جگہ ہے جہاں گنہگاروں اور بے قدروں (کھوٹے سکوں) کو بھی پناہ اور عزت ملتی ہے، اور ان کے در کے منگتے کسی غیر کے احسان مند نہیں ہوتے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| مصطفیٰ | حضرت محمد ﷺ کا صفاتی نام (چنا ہوا) |
| خوش نصیب | خوش قسمت (Lucky) |
| طیبہ | مدینہ منورہ کا پاکیزہ نام |
| کھوٹے سکے | بے قدر یا گنہگار لوگ (Metaphor for humble sinners) |
| صدقہ | خیرات یا بخشش |
| علیم | شاعر کا تخلص |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کے لیے اصل سہارا اور پناہ گاہ حضور ﷺ کی ذات اور ان کا دربار ہے۔ جو لوگ سچے دل سے ان کی غلامی اختیار کرتے ہیں، اللہ کی رحمتیں ان کے ساتھ سایہ بن کر چلتی ہیں اور انہیں دنیا کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہتی۔
شاعر نے مدینہ کی گلیوں کو ایسا کیوں کہا ہے جہاں "کھوٹے سکے" بھی چلتے ہیں؟