मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 64 بار دیکھا گیا
,
عنوان: حیدر کا گھرانہ کربل میں کیا ظلم انوکھے سہتا ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 23 Mar, 2023 05:56 AM IST
دیکھا گیا: 656
Time to read: 1 min read
حیدر کا گھرانہ کربل میں کیا ظلم انوکھے سہتا ہے
پیاسے ہے محمّد کے پیارے،
اور سامنے دریا بہتا ہے
حیدر کا گھرانہ کربل میں کیا ظلم انوکھے سہتا ہے
دل ڈوب گیا ہے بانو کا،
اور خون کا دریا بہتا ہے،
جس جھولے میں اصغر سوتے تھے،
دو دن سے وہ خالی رہتا ہے
حیدر کا گھرانہ کربل میں کیا ظلم انوکھے سہتا ہے
زینب کی نظر ہے چوکھٹ پر،
اور کان لگے ہیں آہٹ پر،
جب کوئی دلارہ باہر ہو،
تو ماں کو کھٹکا رہتا ہے
حیدر کا گھرانہ کربل میں کیا ظلم انوکھے سہتا ہے
اے کوفیوں کیا پایا تم نے،
ان پر ہی ستم ڈھایا تم نے،
جس گھر کا ہر ایک بچچہ بچچہ،
سرکار سے نصبت رکھتا ہے
حیدر کا گھرانہ کربل میں کیا ظلم انوکھے سہتا ہے
اے شمریں لیئں ظالم تونے،
پیاسا ہی گلا کاٹا تونے،
به جاتے ہیں آنکھوں سے آنسوں،
وہ منظر سامنے آتا ہے
حیدر کا گھرانہ کربل میں کیا ظلم انوکھے سہتا ہے
سججاد شہیدوں کا غم ہے،
جتنا ہی لکھو اتنا کم ہے،
ہر سال محرم میں گھر گھر،
شبّیر کا چرچا ہوتا ہے
حیدر کا گھرانہ کربل میں کیا ظلم انوکھے سہتا ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ میدانِ کربلا کے المناک واقعے پر مبنی ایک انتہائی رقت آمیز اور غم گین نوحہ ہے، جس میں مولا علی (حیدر) کے پاک گھرانے (اہلِ بیت) پر ڈھائے گئے بے پناہ مظالم، ان کی پیاس اور امام عالی مقام کی عظیم شہادت کا دل دوز نقشہ کھینچا گیا ہے۔
ان پُر درد اشعار کا مطلب ہے کہ میدانِ کربلا میں حضرت علی کا خاندان (حیدر کا گھرانہ) ایسے انوکھے اور بدترین مظالم سہہ رہا ہے جہاں نبی ﷺ کے پیارے نواسے اور بچے پیاسے ہیں اور ان کے بالکل سامنے فرات کا دریا بہہ رہا ہے۔ چھ ماہ کے معصوم علی اصغر کا جھولا دو دن سے خالی ہے اور ظالم شمر نے امام حسین کا پیاسا گلا کاٹ دیا، جس کی وجہ سے بی بی بانو اور بی بی زینب کے دل غم کے دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| حیدر / شبّیر | شیر (مولا علی کا لقب) / امام حسین کا مبارک نام |
| کربل | کربلا کا تپتا ہوا میدان (عراق) |
| کھٹکا | ڈر / فکر یا اندیشہ |
| کوفیوں | کوفہ کے رہنے والے (جنہوں نے بے وفائی اور ظلم کیا) |
| نصبت (نسبت) | تعلق / گہرا رشتہ یا وابستگی |
| شمرِ لَعین (شمریں لیئں) | ملعون شمر (امام حسین کا قاتل) |
| سجّاد | امام زین العابدین (یا مرثیہ نگار کا حوالہ) |
اس کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ کوفہ کے ظالموں نے اس مقدس ترین گھرانے پر ظلم کے پہاڑ توڑے جس کا بچہ بچہ حضورِ اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے پاکیزہ تعلق (نسبت) رکھتا تھا۔ معصوم بچوں پر پانی بند کر کے انہیں بے دردی سے شہید کیا گیا۔ شاعر کہتا ہے کہ کربلا کے شہیدوں کا غم اتنا لازوال ہے کہ اسے جتنا بھی لکھا جائے کم ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر سال محرم کے مہینے میں دنیا کے کونے کونے میں گھر گھر امام حسین (شبّیر) کی قربانی کا چرچا اور تذکرہ ہوتا ہے۔
لیرکس کے مطابق، کس معصوم بچے کا جھولا دو دن سے خالی ہے اور ان کے خاندان کا نبی ﷺ سے کیا تعلق (نسبت) ہے؟