, بھیِنی سُہانی صُبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان

بھیِنی سُہانی صُبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے Lyrics In اردو

(بھیِنی سُہانی صُبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے, کلیاں کھِلی دِلوں کی ہوا یہ کِدھر کی ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: بھیِنی سُہانی صُبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے

زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 07 Dec, 2025 04:14 PM IST

دیکھا گیا: 206

Time to read: 6 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

بھیِنی سُہانی صُبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے،
کلیاں کھِلی دِلوں کی ہوا یہ کِدھر کی ہے

خوبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے،
چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گزر کی ہے

ڈالیں ہری ہری ہیں تو بیلیں بھری بھری،
کشتِ عمل پڑی ہے یہ بارش کِدھر کی ہے

ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہیں،
سونپا خدا کو یہ عظمت کس سفر کی ہے

ہم گردشِ کعبہ پھرتے تھے کل تک اور آج وہ،
ہم پر نثار ہے یہ ارادت کدھر کی ہے

کالک جبیں کی سجدۂ در سے چُڑاؤ گے،
مجھ کو بھی لے چلو یہ تمنا حجر کی ہے

ڈوبا ہوا ہے شوق میں زمزم اور آنکھ سے،
جھالے برس رہے ہیں یہ حسرت کدھر کی ہے

برسا کے جانے والو پا گوہر کروں نثار،
ابرِ کرم سے عرض یہ مِزابِ زر کی ہے

آغوشِ شوق کھولے ہیں جن کے لیے حطیم،
وہ پھر کے دیکھتے نہیں یہ دھن کدھر کی ہے

ہاں ہاں رہے مدینہ ہے غافل ذرا تُو جاگ،
وہ پاؤں رکھنے والے یہ جان چشموں سر کی ہے

وارو قدم قدم پہ کا ہر دم ہے جانے ناؤ،
یہ راہے جان فضا مرے مولا کے در کی ہے

گھڑیاں گنی ہیں برسوں کی یہ شُبھ گھڑی فری،
مرمر کے پھر یہ سل مرے سینے سے سر کی ہے

اللہ اکبر اپنے قدم اور یہ خاکِ پاک،
حسرت ملائکہ کو جہاں وضائے سر کی ہے

معراج کا سماں ہے کہاں پہنچے زارو،
کُرسی سے اونچی کُرسی اُسی پاک گھر کی ہے

عشّاق روزہ سجدے میں سُوئے حرم جھُکے،
اللہ جانتا ہے کہ نیت کدھر کی ہے

یہ گھر یہ در ہے اس کا جو گھر در سے پاک ہے،
مژدہ ہو بے گھروں کے سَلا اچّھے گھر کی ہے

محبوبِ ربِّ عرش ہے اس سبز قبہ میں،
پہلو میں جلوہ گاہِ عتیق و عمر کی ہے

چھائے ملائکہ ہیں لگاتار ہے دُرود،
بدلے ہیں پہرے بدلی میں بارشِ درر کی ہے

صدائیں کا قران ہے پہلوئے ماہ میں،
جھُرمٹ کیے ہیں تارے تجلی قمر کی ہے

ستر ہزار صبح میں ستر ہزار شام،
یوں بندگیِ زلف و رُخ آٹھوں پہر کی ہے

جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آئیں گے،
رخصت ہی بارگاہ سے بس اس قدر کی ہے

تڑپا کرے بدل کے پھر آنا کہاں نصیب،
بے حکم کب مجال پرندے کو پر کی ہے

اے وائے بےکسیِ تمنا کے اب امید،
دن کو نہ شام کی ہے نہ شب کو سحر کی ہے

یہ بدلیاں نہ ہوں تو کروڑوں کی آس جائے،
اور بارگاہِ مرحمتِ عام تر کی ہے

معصوم کو ہے عمر میں صرف ایک بار بر،
آسی پڑے رہے تو صلہ عمر بھر کی ہے

زندہ رہے تو حاضریِ بارگاہ نصیب،
مر جائیں تو حیاتِ ابد عیش گھر کی ہے

مفلس اور ایسیا در سے پھرے بیگانی ہوئے،
چاندی ہر ایک طرح تو یہاں گڑیا گر کی ہے

جانا پہ تکیہ خاک نہالی ہے دل نہال،
ہاں بےنواو خوب یہ صورتِ گزر کی ہے

ہے چترو تخت سایۂ دیوار و خاکِ در،
شاہوں کو کب نصیب یہ دھج کرو فر کی ہے

اس پاک کو میں خاک یہ بسر سر بہ خاک ہے،
سمجھے ہیں کچھ یہی جو حقیقتِ بسر کی ہے

کیوں تاجدارو! خواب میں دیکھی کبھی یہ شے،
جو آج جھولیوں میں گڑھائنے در کی ہے

جاڑو کشوں میں چہرے لکھے ہیں ملوک کے،
وہ بھی کہاں نصیب فقط نام بھر کی ہے

طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند،
سیدھی سڑک یہ شہرِ شفاعت نگر کی ہے

آسی بھی ہیں چاہِتے یہ طیبہ ہے زاہدو!
مکّہ نہیں کہ جانچ جہاں خیر و شر کی ہے

شانِ جمالِ طیبہ جانا ہے نفع محض،
وسعتِ جلالِ مکّہ میں سود و زر کی ہے

کعبہ ہے بے شک انجم آرا دُلہن مگر،
ساری بہار دُلہنوں میں دُلہا کے گھر کی ہے

کعبہ دُلہن ہے تربتِ اطہار نئی دُلہن،
یہ رَشکِ آفتاب وہ غیرتِ قمر کی ہے

دونوں بنی سجیلی انیلی بنی مگر،
جو پِیا کے پاس ہے وہ سُہاگن کنور کی ہے

سر سبزِ وصل یہ ہے سیا پوشی ہجر وہ،
چمکی دُپٹوں سے ہے جو حالتِ جگر کی ہے

ما و شما تو کیا کہ خلیلِ جلیل کو،
کل دیکھنا کہ ان سے تمنا نظر کی ہے

اپنا شرف دعا سے ہے باقی رہا قبول،
یہ جانے ان کے ہاتھ میں کنجی اثر کی ہے

جو چاہے ان سے مانگ کہ دونوں جہاں کی خیر،
زر نا خریدا ایک کنیز ان کے گھر کی ہے

رومی غلام دیں حبشی بانڈیاں شبے،
گنتی کنیز زادوں میں شام و سحر کی ہے

اتنا عجب بلندیِ جنت پہ کس لیے،
دیکھا نہیں کہ بھیک یہ کس اونچے گھر کی ہے

عرشِ بری پہ کیوں نہ ہو فردوس کا دمّاغ،
اتری ہوئی شبیہ ترے بام و در کی ہے

وہ خُلد جس میں اترے گی ابرار کی بارات،
ادنیٰ نچھاور اُس مرے دُلہا کے سر کی ہے

عنبر زمیں عبیر ہوا مشک تر غبار،
ادنیٰ سی یہ شناحت تری راہ گزر کی ہے

سرکار ہم گواروں میں طرزِ ادب کہاں،
ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے

مانگیں گے مانگے جائیں گے منہ مانگی پائیں گے،
سرکار میں نہ لاج ہے نہ حاجت اگر کی ہے

اُف بے حیائی کا یہ منہ اور ترے حضور،
ہا تُو کریم ہے تری خو در گزر کی ہے

تجھ سے چھپاؤں منہ تو کروں کس کے سامنے،
کیا اور بھی کسی سے توقع نظر کی ہے

جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تاکوں،
کیا پرسش اور جا بھی سَگِ بےہنر کی ہے

بابِ عطا تو یہ ہے جو بہکا ادھر اُدھر،
کیسی خرابی اس نغارۂ در بدر کی ہے

آباد ایک در ہے ترا اور ترے سوا،
جو بارگاہ دیکھئے غیرت کھنڈر کی ہے

لَبوا ہے آنکھیں بند ہیں پھیلی ہیں جھولیاں،
کتنے مزے کی بھیک ترے پاک در کی ہے

گھیرا اندھیریوں نے دوہی ہے چاند کی،
تنہا ہوں، کالی رات ہے منزل خطر کی ہے

قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بل ہزار کج،
یہ ساری گُتھی اِک تری سیدھی نظر کی ہے

ایسی بندی نصیب کھُلیں مشکلیں کھلی،
دونوں جہاں میں دھوم تمہاری کمر کی ہے

جنّت نہ دے نہ دے تری رُؤیت ہو خیر سے،
اس غُل کے آگے کس کو ہوس برگ و بر کی ہے

شربت نہ دے نہ دے تو کرے بات لطف سے،
یہ شہد ہو تو پھر کسے پروا شکر کی ہے

میں خانہ زاد کوہنہ ہوں صورت لکھی ہوئی،
بندوں کنیزوں میں مرے مدر پدر کی ہے

مانگتا کا ہاتھ اُٹھتے ہی داتا کی دین تھی،
دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے

سانکی وہ دیکھ بادِ شفاعت کی دے ہوا،
یہ آبرو رضا ترے دامانِ تر کی ہے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کا یہ شاہکار کلام مدینہ منورہ کی حاضری کے وقت لکھے گئے جذبوں کا نچوڑ ہے۔ اس میں عشقِ رسول ﷺ، مدینے کی فضاؤں کی برکت اور حضور ﷺ کی بارگاہ سے وابستہ امیدوں کا والہانہ تذکرہ ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر مدینے کی صبح کی ٹھنڈک کو جگر کا سکون قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کعبہ اگر ایک دلہن ہے تو مدینہ "دولہا" (نبی ﷺ) کا گھر ہے، اور اصل بہار دولہا کے گھر سے ہی ہوتی ہے۔ وہ اپنی بے بسی اور گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری قسمت کے تمام پیچ و خم حضور ﷺ کی صرف ایک سیدھی اور رحمت بھری نظر سے سلجھ سکتے ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
بھیِنیہلکی اور مہکتی ہوئی خوشبو
کشتِ عملاعمال کی کھیتی
مژدہخوشخبری
مِزابِ زرکعبہ کا سونے کا پرنالہ
دُرَرموتی (Pearls)
گڑیا گربھکاری / مانگنے والا
شہرِ شفاعتشفاعت کا شہر (مراد: مدینہ منورہ)
خوعادت یا خصلت

خلاصہ (Summary)

اس طویل نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کی تمام رونقیں اور جنت کی بلندی بھی مدینے کی گلیوں کی محتاج ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ دنیا کے بادشاہوں کو وہ عزت نصیب نہیں جو مدینے کے در کے خاکروبوں کو حاصل ہے؛ یہاں مانگنے والے کے ہاتھ اٹھنے اور دعا قبول ہونے میں ذرہ برابر بھی دیر نہیں لگتی۔

کعبہ کو "دلہن" اور مدینہ کو "دولہا کا گھر" قرار دینے کا یہ منفرد انداز کیا آپ کے دل کو نہیں بھایا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: