मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 417 بار دیکھا گیا
,
عنوان: باغِ جنّت کے ہیں بحرِ مدّاح خواں اہلِ بیت
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 07 Aug, 2023 08:52 AM IST
دیکھا گیا: 1.7K
Time to read: 3 min read
باغِ جنّت کے ہیں بحرِ مدّاح خواں اہلِ بیت،
تم کو مُزدہ نار کا، اے دشمنانِ اہلِ بیت۔
اُن کے گھر تو بے اجازت جبرائیل آتے نہیں،
قدر والے جانتے ہیں قدر و شانِ اہلِ بیت۔
اُن کی پاکی کا خداے پاک کرتا ہے بیان،
آیہ تطہیر سے ظاہر ہے شانِ اہلِ بیت۔
گھر لٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے،
جانِ عالم ہو فِدا اے خاندانِ اہلِ بیت۔
اہلِ بیتِ پاک سے گستاخیاں بے باکیاں،
لَعنتُ اللہِ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت۔
بے ادب گستاخ فرقے کو سنا دے اے حسن،
یوں کہا کرتے ہیں عاشق داستاںِ اہلِ بیت۔
کس زباں سے ہو بیان عز و شانِ اہلِ بیت،
مدّح گوئے مصطفیٰ ہیں مدّاح خواںِ اہلِ بیت۔
مصطفیٰ عزّت بڑھانے کے لیے تعظیم دیں،
ہے بلند اقبال تیرا دودھ مانے اہلِ بیت۔
اپنا سودا بیچ کر بازار سُنا کر گئے،
کون سی بستی بسائی تاجرانِ اہلِ بیت۔
رمز کا میدان بنا ہے جلوہ گاہِ حُسن و عشق،
کربلا میں ہو رہا ہے امتحانِ اہلِ بیت۔
پھول زخموں کے کھلائے ہیں ہواے دوست نے،
خون سے سینچا گیا ہے گلستاںِ اہلِ بیت۔
حو ریں کرتی ہیں عروسوں کی شہادت کا سنگار،
خوبرو دولہا بنا ہے ہر جواںِ اہلِ بیت۔
جمعہ کا دن ہے کتابِ زیست کی طے کر کے آج،
کھیلتے ہیں جان پر شہزادگانِ اہلِ بیت۔
اے شبابِ فصلِ گُل یہ چل گئی کیسی ہوا،
کٹ رہا ہے لہلہاتا بُستاںِ اہلِ بیت۔
کس شقی کی ہے حکومت ہائے کیا اندھیر ہے،
دن دہاڑے لُٹ رہا ہے کارواںِ اہلِ بیت۔
خشک ہو جا خاک ہو کر خاک میں مل جا فُرات،
خاک تجھ پر دیکھ تو سوکھی زباںِ اہلِ بیت۔
خاک پر عباس و عُثمانِ عالم بردار ہیں،
بے کسی اب کون اٹھائے گا نشانِ اہلِ بیت۔
تیری قدرت جانور تک آب سے سیراب ہیں،
پ्यास کی شدّت میں تڑپے بے زباںِ اہلِ بیت۔
قافلہ سالار منزل کو چلے ہیں سونپ کر،
وارثِ بے وارثاں کو کارواںِ اہلِ بیت۔
فاطمہ کے لادلے کا آخری دیدار ہے،
حشر کا ہنگامہ برپا ہے میانِ اہلِ بیت۔
وقتِ آخر کہہ رہا ہے خاک میں ملتا سُہاگ،
لو سلامِ آخری اے دیوگانِ اہلِ بیت۔
کس مزے کی لذّتیں ہیں آبِ تیغِ یار میں،
خاک خون میں لوٹتے ہیں تشنگانِ اہلِ بیت۔
باغِ جنّت چھوڑ کر آئے ہیں محبوبِ خدا،
اے زہے قسمت تمہاری پُشتگانِ اہلِ بیت۔
حو ریں بے پردہ نکل آئی ہیں سر کھولے ہوئے،
آج کیسا حشر ہے برپا میانِ اہلِ بیت۔
کوئی کیوں پوچھے کسی کو کیا غرض اے بے کسی،
آج کیسا ہے مریضِ نیم جاںِ اہلِ بیت۔
گھر لٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ لے،
جانِ عالم ہو فدا اے خاندانِ اہلِ بیت۔
سرِ شہیدانِ محبت کے ہیں نیزوں پر بلند،
اور اونچی کی خدا نے قدر و شانِ اہلِ بیت۔
دولتِ دیدار پائی پاک جانیں بیچ کر،
کربلا میں خوب ہی چمکی دکانِ اہلِ بیت۔
زخم کھانے کو، آبِ تیغ پینے کو دیا،
خوب دعوت کی بلا کر دشمنانِ اہلِ بیت۔
ہو گئی تحقیق عیدِ دید آبِ تیغ سے،
اپنے روزے کھولتے ہیں صائمانِ اہلِ بیت۔
باغِ جنّت کے ہیں بحرِ مدّاح خواں اہلِ بیت،
تم کو مزدہ نار کا، اے دشمنانِ اہلِ بیت۔
اُن کے گھر تو بے اجازت جبرائیل آتے نہیں،
قدر والے جانتے ہیں قدر و شانِ اہلِ بیت۔
مصطفیٰ عزّت بڑھانے کے لیے تعظیم دیں،
ہے بلند اقبال تیرا دودھ مانے اہلِ بیت۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت اہلِ بیت (حضور ﷺ کے پاک گھرانے) کی عظمتِِ بے مثال، ان کی طہارت اور میدانِ کربلا میں دی گئی ان کی لازوال قربانیوں کا ایک پردرد اور عقیدت مندانہ بیان ہے، جس میں ان کے دشمنوں کے لیے وعید اور ان سے محبت کرنے والوں کے لیے جلی بشارت ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اہلِ بیتِ اطہار کی پاکیزگی اور فضیلت کا گواہ خود قرآن پاک ہے (آیہ تطہیر کی رو سے)، اور ان کا مرتبہ وہ ہے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی بغیر اجازت داخل نہیں ہوتے۔ شاعر کہتا ہے کہ کربلا کے تپتے میدان میں اس مقدس گھرانے نے پیاس، بھوک اور ظلم کو صبر کے ساتھ برداشت کیا اور اپنی جانیں قربان کر کے دینِ اسلام کے چمن کو اپنے خون سے ہمیشہ کے لیے سیراب کر دیا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| مداح خواں | تعریف کرنے والا / ثنا خوان |
| مُزدہ | خوشخبری (یہاں طنزیہ طور پر دشمنوں کے لیے استعمال ہوا ہے) |
| نار | آگ / جہنم کی آگ |
| آیہ تطہیر | سورہ احزاب کی وہ آیت جو اہلِ بیت کی پاکیزگی کو ظاہر کرتی ہے |
| دودھ مانے / دودمان | خاندان / نسل / اونچا گھرانہ |
| شقی | ظالم / بدبخت / بے رحم |
| تیغ | تلوار |
| صائمان | روزہ رکھنے والے |
اس کلام میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کی شہادت کا نہایت دل دوز نقشہ کھینچا گیا ہے، جنہوں نے حق کی سربلندی کے لیے اپنا پورا گھر بار لٹا دیا۔ شاعر 'حسن' (حسن رضا خان) کہتے ہیں کہ اگرچہ دشمنوں نے شہیدانِ کربلا کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا، لیکن درحقیقت اس سے خدا نے اہلِ بیت کے مرتبے اور شان کو اور زیادہ رفعت عطا کر دی، اور جو بھی اس پاک گھرانے سے بغض رکھتا ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
شاعر نے اہل بیعت کے گھرانے کی عظمت بتانے کے لیے حضرت جبرائیل اور قرآن پاک کی کس آیت کا حوالہ دیا ہے؟