मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 67 بار دیکھا گیا
,
عنوان: زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اختر رضا خان ازہری
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 05 Aug, 2023 10:44 AM IST
دیکھا گیا: 620
Time to read: 2 min read
زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے،
زندگی ہے نبی کی، نبی کے لیے۔
ناسمجھ مرتا ہے زندگی کے لیے،
جینا مرنا ہے سب کچھ نبی کے لیے۔
چاندنی چار دن ہے سبھی کے لیے،
ہے سدا چاند عبدٌ نبی کے لیے۔
"أنتَ فِیہِم" کے دامن میں منکِر بھی ہیں،
ہم ہیں عشرتِ دائمی کے لیے۔
عیش کر لو یہاں منکرو چار دن،
مر کے ترسو گے اس زندگی کے لیے۔
داغِ عشقِ نبی لے چلو قبر میں،
ہے چراغِ لحد روشنی کے لیے۔
نقشِ پائے سگانِ نبی دیکھیے،
یہ پتہ ہے بہت رہبری کے لیے۔
مسلکِ اعلیٰ حضرت سلامت رہے،
ایک پہچان دینِ نبی کے لیے۔
مسلکِ اعلیٰ حضرت پہ قائم رہو،
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے۔
صلحِ کُلی نبی کا نہیں سنّیوں،
سنّی مسلم ہے سچا نبی کے لیے۔
وہ بلاتا ہے، کوئی یہ آواز دے،
دم میں جا پہنچوں میں حاضری کے لیے۔
آئے نسیمِ صبا ان سے کہہ دے ذرا،
مضطرب ہے گدا حاضری کے لیے۔
جن کے دل میں ہے عشقِ نبی کی چمک،
وہ ترستا نہیں چاندنی کے لیے۔
جن کے دل میں ہیں جلوے ترے عشق کے،
وہ ہیں نجمِ زماں روشنی کے لیے۔
اخترِ قادری خُلد میں چل دیا،
خُلد وہ ہے ہر ایک قادری کے لیے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ پاک انسانی زندگی کا اصل مقصد سمجھاتی ہے کہ ایک سچے مومن کا جینا اور مرنا صرف اور خود کو حضور ﷺ کی محبت، ان کی سنت اور وفاداری کے لیے وقف کر دینا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ یہ دنیاوی اور مادی زندگی اصل زندگی نہیں ہے، بلکہ حقیقی زندگی تو نبی کریم ﷺ کی ذات کے لیے جینا اور مرنا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ اپنی قبر میں حضور ﷺ کے عشق کا داغ (محبت کی نشانی) لے کر جائیں گے، ان کے لیے وہی محبت قبر کا چراغ بن کر روشنی کرے گی، جبکہ منکرین موت کے بعد اس سچی روحانی زندگی کے لیے ترسیں گے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| عبدٌ نبی | نبی کا بندہ / نبی کا خادم |
| عشرتِ دائمی | ہمیشہ رہنے والی خوشی یا سکون |
| چراغِ لحد | قبر کا دیپک / قبر کی روشنی |
| سگانِ نبی | نبی کے در کے وفادار (کتے) |
| رہبری | راستہ دکھانا / رہنمائی |
| صلحِ کُلی | سب کے ساتھ بلا تفریقِ حق و باطل سمجھوتہ کر لینا |
| مضطرب | بے چین / بے قرار |
| خُلد | جنت / بہشت |
اس کلام میں 'مسلکِ اعلیٰ حضرت' پر سختی سے قائم رہنے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ اسے دینِ نبی ﷺ کی سچی اور خالص پہچان بتایا گیا ہے۔ شاعر 'اختر' (تاج الشریعہ حضرت اختر رضا خان) آخر میں کہتے ہیں کہ جس کے دل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی چمک ہوتی ہے، وہ دنیا کی عارضی چمک دمک (چاندنی) کا محتاج نہیں رہتا اور ایسا سچا عاشقِ رسول مرنے کے بعد سیدھا جنت (خُلد) کا حقدار بنتا ہے۔
لیرکس کے مطابق قبر (لحد) میں روشنی کے لیے انسان کو اپنے ساتھ کیا لے کر جانا چاہیے؟