मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 6 دن پہلے fiber_manual_record 199 بار دیکھا گیا
,
عنوان: یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: نور الحسن
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 19 Aug, 2023 10:47 AM IST
دیکھا گیا: 349
Time to read: 1 min read
یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ،
میرے گھر میں خیرُالورا آ گئے ہیں،
بڑے عوض پر ہے میرا اب مقدر،
میرے گھر حبیبِ خدا آ گئے ہیں
اٹھی چار سُو رحمتوں کی گھٹائیں،
معطر معطر ہیں ساری فضائیں،
خوشی میں یہ جبریل نغمے سنائیں،
وہ شافعِ روزِ جزا آ گئے ہیں
یہ ظلمت سے کہہ دو کہ ڈیرے اٹھا لے،
کہ ہے ہر طرف اب اُجالے اُجالے،
کہا جن کو حق نے سِراجاً منیرا،
میرے گھر وہ نورِ خدا آ گئے ہیں
مقرب ہیں بے شک خلیل و نجی بھی،
بڑی شان والے کلیم و مسیح بھی،
لئے عرش نے جن کے قدموں کے بوسے،
وہ اُمّی لقب مصطفیٰ آ گئے ہیں
ہے سن کر سخی آپ کا آستانہ،
ہے دامن پسارے ہوئے سب زمانہ،
نواسوں کا صدقہ، نگاہِ کرم ہو،
ترے در پہ ترے گدا آ گئے ہیں
خدا کے کرم سے نکیریں آ کر،
کہیں گے زیارت کا مُزدہ سنا کر،
اُٹھو بحرِ تعظیم، نورُالحسن اب،
لحد میں رسولِ خدا آ گئے ہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ مبارکہ حضرت حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) کی اس بے پایاں خوشی کا اظہار ہے جب حضور ﷺ ان کے گھر تشریف لائے۔ اس میں آپ ﷺ کی آمد سے کائنات میں آنے والی بہار اور آپ ﷺ کے بلند مقام و مرتبہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ حضرت حلیمہؓ خوشی سے نہال ہو کر اعلان کر رہی ہیں کہ آج ان کے مقدر کا ستارہ چمک اٹھا ہے کیونکہ اللہ کے حبیبؐ ان کے گھر تشریف لائے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کی آمد سے جہالت کی تاریکیاں ختم ہو گئیں اور کائنات کی تمام فضائیں آپ ﷺ کی خوشبو سے مہک اٹھی ہیں۔
| لفظ | معنی (English/Hindi) |
|---|---|
| خیرُالورا | تمام مخلوق میں سب سے بہتر / Best of creation |
| شافعِ روزِ جزا | قیامت کے دن شفاعت کرنے والے / Intercessor |
| ظلمت | اندھیرا / Darkness |
| سراجاً منیرا | روشن چراغ / Radiant Lamp |
| مزدہ | خوشخبری / Good News |
| گدا | فقیر یا مانگنے والا / Beggar |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تشریف آوری سے پوری کائنات میں رحمت کی گھٹائیں چھا گئیں اور 'امی لقب' مصطفیٰ ﷺ نے آ کر دنیا کو نور سے بھر دیا۔ شاعر 'نور الحسن' اس آرزو کا اظہار کرتے ہیں کہ جب قبر میں فرشتے (نکیرین) دیدارِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشخبری دیں، تو وہ تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔
شاعر نے اندھیرے (ظلمت) سے کیا کرنے کو کہا ہے اور نبی ﷺ کو کس لقب سے یاد کیا ہے جن کے قدموں کو عرش نے چوما؟