मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: یزید تھا حسین ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: محمد علی فیضی
نعت خوان/ فنکار: محمد علی فیضی
شامل کیا گیا: 25 Jan, 2024 10:14 AM IST
دیکھا گیا: 3.5K
Time to read: 1 min read
کسی نے جب بھی یہ کہا، یزید تھا حسین ہے (×3)
تو سن کے آ گیا مزہ، یزید تھا حسین ہے (×2)
حسین اور یزید میں تھا کیا فرق اگر کہا (×3)
تو بولی میری والدہ، یزید تھا حسین ہے (×2)
یزید تھا حسین ہے، یزید تھا حسین ہے
یزید تھا حسین ہے، یزید تھا حسین ہے
یزید ہو گیا فنا، حسین کو ملی بکاء (×3)
ہے بچہ بچہ بولتا، یزید تھا حسین ہے (×2)
یزیدیوں میں بھی یزید نام کا کوئی نہیں (×3)
ہیں دشمنوں کو بھی پتا، یزید تھا حسین ہے (×2)
یزید تھا حسین ہے، یزید تھا حسین ہے
یزید تھا حسین ہے، یزید تھا حسین ہے
زمانے بھر میں دیکھ لو حسین کے غلام ہیں (×3)
یہ ہے خدا کا فیصلہ، یزید تھا حسین ہے (×2)
یزید تھا حسین ہے، یزید تھا حسین ہے
یزید تھا حسین ہے، یزید تھا حسین ہے
جسے بھی دیکھنا ہو، وہ عراق جا کے دیکھ لے (×3)
یہ کہ رہی ہے کربلا، یزید تھا حسین ہے (×2)
یقین سے میں کہہ رہا ہوں، دیکھ لینا حشر میں (×3)
کہیں گے خود معاویہ، یزید تھا حسین ہے (×2)
یزید تھا حسین ہے، یزید تھا حسین ہے
یزید تھا حسین ہے، یزید تھا حسین ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت امام حسین (ع) کی ابدی فتح اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق کو بیان کرتی ہے، جس کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ظلم مٹ جاتا ہے اور حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ یزید صرف ایک گزرا ہوا قصہ (تھا) ہے جس کا انجام رسوائی اور فنا ہے، جبکہ امام حسین (ع) ایک ابدی حقیقت (ہے) ہیں جو ہر دور میں زندہ ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ تاریخ اور کربلا کی زمین اس بات کی گواہ ہے کہ یزید کا نام و نشان مٹ چکا ہے جبکہ ذکرِ حسین (ع) پوری دنیا میں عام ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| فنا | مٹ جانا یا ختم ہو جانا (Destroyed) |
| بقا | ہمیشہ رہنا یا ہمیشگی (Eternity) |
| والدہ | ماں (Mother) |
| حشر | قیامت کا دن (Day of Judgment) |
| غلام | پیروکار یا خادم (Follower) |
| یقین | پختہ بھروسہ (Certainty) |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ حق اور باطل کی جنگ میں جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔ یزید نے طاقت کے زور پر مٹانا چاہا لیکن وہ خود تاریخ میں دفن ہو گیا، یہاں تک کہ اس کے حامی بھی اپنے بچوں کا نام اس کے نام پر نہیں رکھتے۔ دوسری طرف حسینیت ایک عالمگیر سچائی بن کر ابھری ہے جس کا اعتراف دوست اور دشمن دونوں کرتے ہیں۔
شاعر نے "یزید تھا حسین ہے" کہہ کر موت اور زندگی (فنا اور بقا) کے بارے میں کیا سمجھایا ہے؟