मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 56 بار دیکھا گیا
,
عنوان: وہ نواسا ہے سرکار کا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: فرحان برکاتی
نعت خوان/ فنکار: فرحان برکاتی
شامل کیا گیا: 12 Oct, 2022 08:49 AM IST
دیکھا گیا: 434
Time to read: 2 min read
فاتحِ کربلا، ابنِ شیرِ خُدا، جو نہ پیچھے ہٹھا،
شور ہے جس کی تلوار کا،
وہ نواسا ہے سرکار کا
کہنے کو تھے ہزاروں یزیدی مگر،
آلِ پاکِ نبی سے مِلی جب نظر،
دیکھکر اُنکے تیور وہ گھبرا گیا،
دِن میں دُشمن کو تارے نظر آگۓ،
بھُولی ہوگی نہ نہرِ فُرات ابھی،
توڑتا ہوگا اس پے قیامت ابھی،
روب عبّاس علمدار کا،
وہ نواسا ہے سرکار کا
زُلفیکارِ علی دستِ اکبر میں تھی،
وہی تلوار جو بابِ خیبر میں تھی،
ایک طرف سے اُڑتا گیا سر پے سر،
شہزادے نے ایسا مچایا غدر،
رن میں اکبر کے لب پے صدا تھی یہی،
رنگ فیکا ہوا نہ ہوگا کبھی،
میرے بابا کی دستار کا،
وہ نواسا ہے سرکار کا
مصطفیٰ کے نواسوں کو پہچان لے،
ہے یہی سردارِ جنّت بھی یہ جان لے،
رب نے بخشے ہے اِن کو بڑے مرتبے،
کپڑے آۓ ہے جنّت سے اُن کے ليے،
اُن کو کاندھے پے بیٹھا لیتے تھے مصطفیٰ،
اے یزید اب بتا تیری اوقات کیا،
تو نہیں اُن کے میعار کا،
وہ نواسا ہے سرکار کا
کھیل تھوڈی ہے آلے نبی پر ستم،
دونوں عالم کو اِس کا ابھی تک ہے غم،
چھوڈ جائنگے نہ ایسے فرحان وہ،
شاید اِس کو سمجھتے ہے آسان وہ،
پیش ہونگے یزیدی جو پیشِ خُدا،
حشر میں حشر ہوگا بہت ہی بُرا،
ابنِ زہرہ کے غدّار کا،
وہ نواسا ہے سرکار کا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام معرکۂ کربلا میں نواسۂ رسول، ابنِ شیرِ خدا حضرت امام حسینؑ اور ان کے باوفا جانثاروں کی بے مثال شجاعت، دبدبے اور باطل کے خلاف تاریخی فتح کا ایک نہایت ہی پرجوش اور ولولہ انگیز بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ کربلا کے اصل فاتح اور شیرِ خدا کے لال امام حسینؑ نے اپنی بہادری سے یزیدی فوج کے حوصلے پست کر دیے۔ حضرت عباس علمدارؑ کا رعب اور حضرت علی اکبرؑ کے ہاتھوں میں مولا علیؑ کی زلفِقار دیکھ کر دشمن تھر تھر کانپنے لگا، کیونکہ یہ کوئی عام جنگجو نہیں بلکہ جنت کے نوجوانوں کے سردار اور آقا ﷺ کے پیارے نواسے ہیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| فاتحِ کربلا | کربلا کو جیتنے والے (امام حسینؑ) |
| ابنِ شیرِ خدا | اللہ کے شیر (مولا علیؑ) کے بیٹے |
| نہرِ فرات | کربلا کا وہ دریا جس پر یزیدیوں نے پہرا بٹھایا تھا |
| علمدار | علم یا جھنڈا اٹھانے والے (حضرت عباسؑ کا لقب) |
| دستِ اکبر | حضرت علی اکبرؑ (امام حسینؑ کے کڑیل جوان بیٹے) کے ہاتھ |
| بابِ خیبر | خیبر کا قلعہ / دروازہ (جسے مولا علیؑ نے اکھاڑا تھا) |
| دستار | پگڑی / عزت، غیرت اور مرتبے کی علامت |
| ابنِ زہرہ | خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ زہراؑ کے لال |
حضرت امام حسینؑ اور ان کے پاکیزہ گھرانے نے ظلم کے سامنے سر نہ جھکا کر کربلا کے میدان کو ہمیشہ کے لیے فتح کر لیا۔ شاعر 'فرحان' کہتا ہے کہ جن نواسوں کو خود حضور پاک ﷺ اپنے کاندھوں کی سواری کرواتے تھے، ان کے سامنے یزید بدبخت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آلِ نبی پر ہونے والے اس ظلم کا غم دونوں جہاں منا رہے ہیں، اور روزِ محشر اللہ کی عدالت میں ان گنہگاروں اور غداروں کا انجام انتہائی دردناک ہوگا۔
شاعر کے مطابق، حضرت علی اکبرؓ کے ہاتھوں میں کون سی تلوار تھی جو پہلے بابِ خیبر میں مولا علیؑ کے پاس تھی؟