मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اُٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 03 Aug, 2023 03:06 PM IST
دیکھا گیا: 181
Time to read: 2 min read
اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے،
زمانہ تاریک ہو رہا ہے، کہ مہر کب سے نقاب میں ہے۔
اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے۔
اُنہی کی بُو مایۂ ساماں ہے، اُنہی کا جلوہ چمن چمن ہے،
اُنہی سے گلشن مہک رہے ہیں، اُنہی کی رنگت گلاب میں ہے۔
اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے۔
وہ گُل ہیں لب ہائے نازک اُن کے، ہزاروں چڑھتے ہیں پھول اُن سے،
گلاب گلشن میں دیکھے بُلبُل، یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے۔
اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے۔
کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر، نہ کوئی حامی نہ کوئی آوَر،
بتا دو آ کر مرے پیمبر، کہ سخت مشکل جواب میں ہیں۔
اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے۔
کریم اپنے کرم کا صدقہ، لئیم بے قدر کو نہ شرما،
تُو اور رضا سے حساب لینا، رضا بھی کوئی حساب میں ہے۔
اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے،
زمانہ تاریک ہو رہا ہے، کہ مہر کب سے نقاب میں ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ درد و شوق سے لبریز نعتِ پاک (امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) حضور سرورِ کائنات ﷺ کے رُخِ انور کے دیدار کی تڑپ اور قبر کے کٹھن امتی ماحول میں ان کی امداد و شفاعت کی فریاد کو انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کرتی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے میرے پیارے آقا ﷺ! اب اپنا مکھڑا دکھا دیجیے کیونکہ آپ کا چہرہ خدا کا نور (نورِ باری) ہے جو ابھی پردے میں ہے، اور آپ کے دیدار کے بغیر پوری دنیا اندھیرے (تاریکی) میں ڈوبی جا رہی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کائنات کی تمام رونقیں، پھولوں کی مہک اور گلاب کی سرخی دراصل حضور ﷺ ہی کے حسن اور خوشبو کا صدقہ ہیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| نورِ بَاری | خالقِ کائنات (اللہ) کا نور |
| حجاب | پردہ / اوٹ |
| مہر | سورج / آفتاب |
| مایۂ ساماں | زندگی کا اصل سرمایہ یا دولت |
| منکر نکیر | قبر میں سوال و جواب کرنے والے فرشتے |
| حامی / آوَر | مددگار / پشت پناہ یا سہارا |
| لئیم | گناہ گار / کم تر یا بے قدر |
| حساب میں ہے | گنتی یا شمار میں ہونا |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ دنیا کے تمام چمن اور گلاب حضور ﷺ کے نازک لبوں اور ان کے حسن کا عکس ہیں۔ شاعر 'رضا' قبر کے خوفناک منظر کا ذکر کرتے ہوئے التجا کرتے ہیں کہ جب منکر نکیر سر پر کھڑے ہوں گے اور کوئی مددگار نہیں ہوگا، تب سرکارِ مدینہ ﷺ خود آکر اپنے اس کمزور اور گناہ گار غلام کی لاج رکھ لیں گے، کیونکہ آپ ﷺ کے لا محدود کرم کے آگے رضا جیسے خطا کار کا حساب کوئی معنی نہیں رکھتا۔
لیرکس کے پہلے شعر کے مطابق، زمانہ تاریک (اندھیرا) کیوں ہو رہا ہے اور کس کو نقاب میں بتایا گیا ہے؟