, اُٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

اُٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے Lyrics In اردو

(اُٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے, زمانہ تاریک ہو رہا ہے، کہ مہر کب سے نقاب میں ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: اُٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 03 Aug, 2023 03:06 PM IST

دیکھا گیا: 181

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے،
زمانہ تاریک ہو رہا ہے، کہ مہر کب سے نقاب میں ہے۔

اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے۔

اُنہی کی بُو مایۂ ساماں ہے، اُنہی کا جلوہ چمن چمن ہے،
اُنہی سے گلشن مہک رہے ہیں، اُنہی کی رنگت گلاب میں ہے۔

اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے۔

وہ گُل ہیں لب ہائے نازک اُن کے، ہزاروں چڑھتے ہیں پھول اُن سے،
گلاب گلشن میں دیکھے بُلبُل، یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے۔

اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے۔

کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر، نہ کوئی حامی نہ کوئی آوَر،
بتا دو آ کر مرے پیمبر، کہ سخت مشکل جواب میں ہیں۔

اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے۔

کریم اپنے کرم کا صدقہ، لئیم بے قدر کو نہ شرما،
تُو اور رضا سے حساب لینا، رضا بھی کوئی حساب میں ہے۔

اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ، کہ نورِ بَاری حجاب میں ہے،
زمانہ تاریک ہو رہا ہے، کہ مہر کب سے نقاب میں ہے۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ درد و شوق سے لبریز نعتِ پاک (امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) حضور سرورِ کائنات ﷺ کے رُخِ انور کے دیدار کی تڑپ اور قبر کے کٹھن امتی ماحول میں ان کی امداد و شفاعت کی فریاد کو انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کرتی ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے میرے پیارے آقا ﷺ! اب اپنا مکھڑا دکھا دیجیے کیونکہ آپ کا چہرہ خدا کا نور (نورِ باری) ہے جو ابھی پردے میں ہے، اور آپ کے دیدار کے بغیر پوری دنیا اندھیرے (تاریکی) میں ڈوبی جا رہی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کائنات کی تمام رونقیں، پھولوں کی مہک اور گلاب کی سرخی دراصل حضور ﷺ ہی کے حسن اور خوشبو کا صدقہ ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
نورِ بَاریخالقِ کائنات (اللہ) کا نور
حجابپردہ / اوٹ
مہرسورج / آفتاب
مایۂ ساماںزندگی کا اصل سرمایہ یا دولت
منکر نکیرقبر میں سوال و جواب کرنے والے فرشتے
حامی / آوَرمددگار / پشت پناہ یا سہارا
لئیمگناہ گار / کم تر یا بے قدر
حساب میں ہےگنتی یا شمار میں ہونا

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ دنیا کے تمام چمن اور گلاب حضور ﷺ کے نازک لبوں اور ان کے حسن کا عکس ہیں۔ شاعر 'رضا' قبر کے خوفناک منظر کا ذکر کرتے ہوئے التجا کرتے ہیں کہ جب منکر نکیر سر پر کھڑے ہوں گے اور کوئی مددگار نہیں ہوگا، تب سرکارِ مدینہ ﷺ خود آکر اپنے اس کمزور اور گناہ گار غلام کی لاج رکھ لیں گے، کیونکہ آپ ﷺ کے لا محدود کرم کے آگے رضا جیسے خطا کار کا حساب کوئی معنی نہیں رکھتا۔

لیرکس کے پہلے شعر کے مطابق، زمانہ تاریک (اندھیرا) کیوں ہو رہا ہے اور کس کو نقاب میں بتایا گیا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: