मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 ہفتے پہلے fiber_manual_record 304 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھِلا دیے ہیں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 08 Aug, 2023 02:17 PM IST
دیکھا گیا: 622
Time to read: 2 min read
اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھِلا دیے ہیں،
جس راہ چل دیے ہیں کوچے بسا دیے ہیں
ایک دِل ہمارا کیا ہے آزار اُس کا کتنا،
تم نے تو چلتے پھرتے مُردے جِلا دیے ہیں
اُن کے نِثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو،
جب یاد آ گئے ہیں سب غم بھلا دیے ہیں
عَصرا میں گزرے جس دم بیڑے پہ قُدسیوں کے،
ہونے لگی سلامی، پرچم جھکا دیے ہیں
جب آ گئی ہیں جوشِ رحمت پہ اُن کی آنکھیں،
جلتے بُجھا دیے ہیں، روتے ہنسا دیے ہیں
مرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا،
دریا بہا دیے ہیں، دُربے بہا دیے ہیں
اللہ رے! کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہوگا،
رو رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیے ہیں
مُلکِ سُخن کی شاہی تم کو رضا مُسلم،
جس سمت آ گئے ہیں سکے بٹھا دیے ہیں
ہم سے فقیر بھی اب سحری کو اُٹھتے ہوں گے،
اب تو غنی کے دَر پر بستر جما دیے ہیں
آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب،
کشتی تمھی پہ چھوڑی، لنگر اُٹھا دیے ہیں
دولہا سے اتنا کہہ دو پیارے سواری روکو،
مشکل میں ہیں براتی، پُرخار لا دیے ہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ پاک اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے قلمِ عقیدت کا شاہکار ہے، جس میں حضور نبیِ کریم ﷺ کی عظمت، ان کے معجزات، اور ان کی بے مثال رحمت و سخاوت کا تذکرہ نہایت دلسوز انداز میں کیا گیا ہے۔
اس کلام کا مفہوم ہے کہ حضور ﷺ کی آمد اور ان کی یاد مردہ دلوں کو نئی زندگی بخشتی ہے اور بڑے سے بڑا غم دور کر دیتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کی رحمت کا دریا اس قدر وسیع ہے کہ مانگنے والے کو قطرے کے بدلے دریا مل جاتا ہے اور آخرت میں آپ ﷺ کی شفاعت اور گریہ و زاری ہی امت کو جہنم کی آگ سے بچائے گی۔
| الفاظ (Word) | معنی (Urdu / English Meaning) |
|---|---|
| غنچے | کلی / شگوفہ (Flower Bud) |
| کوچے | گلیاں / محلے (Streets) |
| آزار | دکھ / تکلیف / بیماری (Pain / Illness) |
| جِلا دیے | زندہ کر دیے (Brought to life) |
| نثار | قربان ہونا / صدقے جانا (Sacrificed) |
| قدسیوں | فرشتے (Angels) |
| دُربے | دولت کے ڈھیر (Heaps of wealth) |
| ملکِ سخن | شاعری اور ادب کی دنیا (Kingdom of Poetry) |
| مسلّم | تسلیم شدہ / مانا ہوا (Accepted / Conceded) |
| غنی | سخی / مالدار / عطا کرنے والا (Generous) |
| لنگر | کشتی کو روکنے والا بھاری لوہا (Anchor) |
| پُرخار | کانٹوں سے بھرا ہوا (Thorny) |
حضور ﷺ کی ذاتِ با برکت پوری کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے؛ ان کی مہک سے دلوں کے باغ کھل اٹھتے ہیں اور ان کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ مصطفیٰ ﷺ کے آنسو اور ان کی دعائیں جہنم کی آگ کو بھی ٹھنڈا کر دیں گی، اسی لیے ایک سچے مومن نے اپنی زندگی اور آخرت کی کشتی کو پوری طرح انہیں کے سہارے چھوڑ دیا ہے۔
اس نعت کے مطابق، شاعر نے اپنی زندگی کی کشتی کا لنگر اٹھا کر اسے کس کے سہارے چھوڑ دیا ہے؟