मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 03 Aug, 2023 02:53 PM IST
دیکھا گیا: 113
Time to read: 2 min read
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں،
جس راہ چل دیے ہیں کوچے بسا دیے ہیں۔
جب آگئیں ہیں جوشِ رحمت پہ ان کی آنکھیں،
جلتے بجھا دیے ہیں، روتے ہنسا دیے ہیں۔
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔
ایک دل ہمارا کیا ہے، آزر اُس کا کتنا،
تم نے تو چلتے پھرتے مُردے جِلا دیے ہیں۔
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔
اللہ! کیا جہنّم اب بھی نہ سرد ہوگا،
رو رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیے ہیں۔
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔
ان کے نِثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو،
جب یاد آ گئے ہیں، سب غم بھلا دیے ہیں۔
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔
آنے دو یا ڈُبو دو، اب تو تمہاری جانب،
کشتی تمہیں پہ چھوڑی، لنگر اُٹھا دیے ہیں۔
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔
میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا،
دریا بہا دیے ہیں، دریا لُٹا دیے ہیں۔
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔
مُلکِ سُخن کے شاہی، تم کو رضا مُسلّم،
جس سمت آ گئے ہو، دریا بہا دیے ہیں۔
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں،
جس راہ چل دیے ہیں کوچے بسا دیے ہیں۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایمان افروز اور بے حد مقبول نعتِ پاک (امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) حضور سرورِ کائنات ﷺ کی پاکیزہ خوشبو، ان کے لا محدود رحم و کرم اور امت پر ان کی لازوال شفاعت کا خوبصورت احاطہ کرتی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ میرے نبی ﷺ کی مبارک خوشبو نے مرجھائے ہوئے دلوں کی کلیوں (غنچے) کو کھلا دیا ہے، اور آپ ﷺ جس راستے سے بھی گزر گئے، وہاں کے ویران گلی کوچے ہمیشہ کے لیے آباد ہو گئے۔ آپ کی رحمت کا یہ عالم ہے کہ جب بھی آپ کی چشمانِ مبارک امت کے لیے جوشِ رحمت میں آئیں، تو آپ نے دوزخ کی آگ میں جلتے ہوؤں کو بچا لیا اور رنج و غم میں روتے ہوؤں کو ہنسا دیا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| غنچے | پھولوں کی کلیاں |
| کوچے | گلی محلے / راستے |
| آزر | بیماری / رنج یا تکلیف |
| جِلا دیے | زندہ کر دیا / نئی زندگی بخشی |
| سرد | ٹھنڈا |
| نِثار | قربان یا فدا ہونے والے |
| جانب | طرف / سمت |
| مُلکِ سُخن | شاعری اور فصاحت و بلاغت کی دنیا |
| مُسلّم | تسلیم کیا ہوا / سب کا مانا ہوا |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ نابیِ اکرم ﷺ کے جود و سخا کی کوئی حد نہیں ہے؛ اگر کوئی ان سے ایک قطرہ مانگتا ہے تو وہ اسے پورا دریا عطا فرما دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی گناہ گار امت کی بخشش کے لیے بارگاہِ الٰہی میں رو رو کر آنسوؤں کے ایسے دریا بہائے ہیں کہ ان کے طفیل جہنم کی آگ بھی ٹھنڈی ہو جائے گی۔ آخر میں شاعر 'رضا' کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی کی کشتی حضور ﷺ کے سپرد کر دی ہے، اور دنیا تسلیم کرتی ہے کہ نعت گوئی کے میدان میں رضا نے لفظوں کے دریا بہا دیے ہیں۔
لیرکس کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے لیے رو رو کر کیا بہا دیے ہیں، جس سے جہنم کی آگ بھی ٹھنڈی ہو جائے؟