, ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں Lyrics In اردو

(ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں, جس راہ چل دیے ہیں کوچے بسا دیے ہیں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 03 Aug, 2023 02:53 PM IST

دیکھا گیا: 113

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں،
جس راہ چل دیے ہیں کوچے بسا دیے ہیں۔

جب آگئیں ہیں جوشِ رحمت پہ ان کی آنکھیں،
جلتے بجھا دیے ہیں، روتے ہنسا دیے ہیں۔

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔

ایک دل ہمارا کیا ہے، آزر اُس کا کتنا،
تم نے تو چلتے پھرتے مُردے جِلا دیے ہیں۔

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔

اللہ! کیا جہنّم اب بھی نہ سرد ہوگا،
رو رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیے ہیں۔

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔

ان کے نِثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو،
جب یاد آ گئے ہیں، سب غم بھلا دیے ہیں۔

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔

آنے دو یا ڈُبو دو، اب تو تمہاری جانب،
کشتی تمہیں پہ چھوڑی، لنگر اُٹھا دیے ہیں۔

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔

میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا،
دریا بہا دیے ہیں، دریا لُٹا دیے ہیں۔

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں۔

مُلکِ سُخن کے شاہی، تم کو رضا مُسلّم،
جس سمت آ گئے ہو، دریا بہا دیے ہیں۔

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں،
جس راہ چل دیے ہیں کوچے بسا دیے ہیں۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ ایمان افروز اور بے حد مقبول نعتِ پاک (امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) حضور سرورِ کائنات ﷺ کی پاکیزہ خوشبو، ان کے لا محدود رحم و کرم اور امت پر ان کی لازوال شفاعت کا خوبصورت احاطہ کرتی ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ میرے نبی ﷺ کی مبارک خوشبو نے مرجھائے ہوئے دلوں کی کلیوں (غنچے) کو کھلا دیا ہے، اور آپ ﷺ جس راستے سے بھی گزر گئے، وہاں کے ویران گلی کوچے ہمیشہ کے لیے آباد ہو گئے۔ آپ کی رحمت کا یہ عالم ہے کہ جب بھی آپ کی چشمانِ مبارک امت کے لیے جوشِ رحمت میں آئیں، تو آپ نے دوزخ کی آگ میں جلتے ہوؤں کو بچا لیا اور رنج و غم میں روتے ہوؤں کو ہنسا دیا۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
غنچےپھولوں کی کلیاں
کوچےگلی محلے / راستے
آزربیماری / رنج یا تکلیف
جِلا دیےزندہ کر دیا / نئی زندگی بخشی
سردٹھنڈا
نِثارقربان یا فدا ہونے والے
جانبطرف / سمت
مُلکِ سُخنشاعری اور فصاحت و بلاغت کی دنیا
مُسلّمتسلیم کیا ہوا / سب کا مانا ہوا

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ نابیِ اکرم ﷺ کے جود و سخا کی کوئی حد نہیں ہے؛ اگر کوئی ان سے ایک قطرہ مانگتا ہے تو وہ اسے پورا دریا عطا فرما دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی گناہ گار امت کی بخشش کے لیے بارگاہِ الٰہی میں رو رو کر آنسوؤں کے ایسے دریا بہائے ہیں کہ ان کے طفیل جہنم کی آگ بھی ٹھنڈی ہو جائے گی۔ آخر میں شاعر 'رضا' کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی کی کشتی حضور ﷺ کے سپرد کر دی ہے، اور دنیا تسلیم کرتی ہے کہ نعت گوئی کے میدان میں رضا نے لفظوں کے دریا بہا دیے ہیں۔

لیرکس کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے لیے رو رو کر کیا بہا دیے ہیں، جس سے جہنم کی آگ بھی ٹھنڈی ہو جائے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: