मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 ہفتے پہلے fiber_manual_record 336 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اُن کے اندازِ کرم اُن پہ آنا دل کا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: نصرت فتح علی خان
شامل کیا گیا: 08 Aug, 2023 12:39 PM IST
دیکھا گیا: 348
Time to read: 2 min read
اُن کے اندازِ کرم اُن پہ آنا دل کا،
ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دل کا
مجھے یاد ہے ذرا ذرا،
اُنہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دل کا
نہ سُنا اُس نے توجہ سے فسانہ دل کا،
عمر گزری ہے مگر درد نہ جانا دل کا
دل لگی دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے،
دل جلوؤں سے دل لگی اچھی نہیں،
رونے والوں سے حسیں اچھی نہیں
دل لگی دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے،
دل لگا کر پتا چلا دل کو عاشقی دل لگی نہیں ہوتی
دل لگی دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے،
کیا خبر تھی کہ عشق کے ہاتھوں ایسی حالت تباہ ہوتی ہے،
بات کرتا ہوں دَم اُلجھتا ہے،
سانس لوں تو آہ ہوتی ہے
دل لگی دل کی لگی…
زخم پہ زخم کھا کے جی،
اپنے لہو کے گھونٹ پی،
آہ نہ کر لبوں کو سی،
عشق ہے دل لگی نہیں
دل لگی دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے،
روگ دشمن کو بھی یا رب نہ لگانا دل کا
وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی ہاتھوں سے گیا،
ایسے آنے سے تو بہتر ہے نہ آنا دل کا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ مشہورِ زمانہ کلام (جو قوالی کی صورت میں استاد نصرت فتح علی خان کی آواز میں بے حد مقبول ہوا) محبت کی مٹتی ہوئی حالت، اس کی شدت اور دل کی بے بسی کا ایک نہایت ہی دردناک اور خوبصورت بائن ہے۔
اس کلام کا مفہوم ہے کہ جسے انسان ابتدا میں محض 'دل لگی' (مذاق یا تفریح) سمجھتا ہے، وہ کب 'دل کی لگی' (سچا اور شدید عشق) بن کر انسان کا وجود مٹا دیتی ہے، پتا ہی نہیں چلتا۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق میں انسان کی حالت اس قدر تباہ ہو جاتی ہے کہ بات کرنے پر دم الجھتا ہے اور سانس لینے پر بھی آہ نکلتی ہے، جبکہ محبوب کبھی اس درد کو توجہ سے نہیں سنتا۔
| الفاظ (Word) | معنی (Urdu / English Meaning) |
|---|---|
| اندازِ کرم | مہربانی یا التفات کا طریقہ (Style of kindness) |
| توجہ | دھیان دینا یا غور کرنا (Attention / Focus) |
| فسانہ | کہانی یا داستان (Story / Tale) |
| دل لگی | مذاق، دل بہلاوا یا تفریح (Jest / Joke) |
| دل کی لگی | سچا عشق، تڑپ یا جلن (True Love / Passion) |
| تباہ | برباد یا مٹ جانا (Ruined / Destroyed) |
| لہو | خون (Blood) |
| سی | سل لینا یا خاموش ہو جانا (Stitch / Close) |
| روگ | بیماری یا دکھ (Illness / Affliction) |
محبت کوئی کھیل یا تفریح نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی کٹھن راہ ہے جہاں عاشق کو زخم پر زخم کھا کر بھی خاموش رہنا پڑتا ہے اور اپنے ہی خون کے گھونٹ پینے پڑتے ہیں۔ محبوب کی بے رخی اور دل کی اس بربادی کو دیکھ کر شاعر ربِ کریم سے دعا کرتا ہے کہ یہ عشق کا 'روگ' خدا کبھی کسی دشمن کو بھی نہ لگائے، کیونکہ اس راستے میں آخر کار محبوب بھی اپنا نہیں بنتا اور انسان اپنا دل بھی ہاتھ سے گنوا بیٹھتا ہے۔
اس کلام کے مطابق، شاعر نے کس چیز کو دشمن کے لیے بھی نہ مانگنے کی دعا کی ہے؟