मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 ہفتے پہلے fiber_manual_record 304 بار دیکھا گیا
,
عنوان: تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حضور مفتی اعظم ای ہند مصطفی رضا خان نوری۔
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 30 Jul, 2023 10:44 AM IST
دیکھا گیا: 432
Time to read: 1 min read
تو شمعِ رسالت ہے، عالم تیرا پروانہ،
تو ماہِ نبوت ہے، اے جلوۂ جانانہ۔
جو ساقیٔ کوثر کے چہرے سے نقاب اُٹھے،
ہر دل بنے مے خانہ، ہر آنکھ ہو پیمانہ۔
دل اپنا چمک اُٹھے ایمان کی دولت سے،
کر آنکھیں بھی نُورانی، اے جلوۂ جانانہ۔
پیتے ہیں تیرے در کا، کھاتے ہیں تیرے در کا،
پانی ہے تیرا پانی، دانہ ہے تیرا دانہ۔
سنگِ درِ جاناں پر کرتا ہوں جبیں سائی،
سجدہ نہ سمجھ نجدی، سر دیتا ہوں نذرانہ۔
سرکار کے جلوؤں سے روشن ہے دلِ نوری،
تا حشر رہے روشن، نُوری کا یہ کاشانہ۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ عشقِ رسول ﷺ کی چاشنی میں ڈوبی ہوئی بے حد مقبول اور روح پرور نعتِ پاک (مفتیِ اعظم ہند، شاہ مصطفیٰ رضا خان 'نوری' رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) حضور ﷺ کی آفاقی عظمت، ان کی سخاوت اور ان کے دربار سے دلی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ رسالت کی وہ روشن شمع ہیں جس پر یہ سارا جہان پروانے کی طرح فدا ہے، اور آپ نبوت کا وہ چاند ہیں جس سے کائنات منور ہے۔ شاعر التجا کرتا ہے کہ ہمارے دلوں کو ایمان کی سچی دولت سے منور فرما دیں اور ہماری آنکھوں کو اپنے نورانی جلووں سے روشناس کرائیں تاکہ ہر لمحہ آپ ہی کی یاد کا خمار طاری رہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| شمعِ رسالت | رسالت کا چراغ / روشنی |
| ماہِ نبوت | نبوت کا چاند |
| جلوۂ جانانہ | محبوب (حضور ﷺ) کا خوبصورت جلوہ |
| ساقیٔ کوثر | حوضِ کوثر کا پانی پلانے والے (مراد: حضور ﷺ) |
| مے خانہ / پیمانہ | شراب خانہ اور جام (مراد: عشقِ الٰہی و رسالت کی مستی) |
| جبیں سائی | پیشانی رگڑنا / عاجزی سے ماتھا ٹیکنا |
| کاشانہ | گھر / آشیانہ یا مکان |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ کائنات کی ہر نعمت، رزق اور دانہ پانی حضور ﷺ ہی کے صدقے اور ان کے درِ اقدس سے ملتا ہے۔ شاعر عقیدت کے مروجہ پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محبوب کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنا کوئی شرک یا ممنوعہ سجدہ نہیں، بلکہ یہ ایک عاشق کا اپنے آقا کے حضور اپنے سر کا نذرانہ پیش کرنا ہے۔ آخر میں شاعر 'نوری' دعا گو ہیں کہ ان کا دل اور ان کا آشیانہ قیامت کے دن (تا حشر) تک سرکار ﷺ کے رحمت بھرے جلووں کی برکت سے ہمیشہ جگمگاتا رہے۔
لیرکس کے مطابق، پورا عالم (جہان) کس کا پروانہ ہے؟