, تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ Lyrics In اردو

(تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ, تو ماہِ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 30 Jul, 2023 10:44 AM IST

دیکھا گیا: 432

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

تو شمعِ رسالت ہے، عالم تیرا پروانہ،
تو ماہِ نبوت ہے، اے جلوۂ جانانہ۔

جو ساقیٔ کوثر کے چہرے سے نقاب اُٹھے،
ہر دل بنے مے خانہ، ہر آنکھ ہو پیمانہ۔

دل اپنا چمک اُٹھے ایمان کی دولت سے،
کر آنکھیں بھی نُورانی، اے جلوۂ جانانہ۔

پیتے ہیں تیرے در کا، کھاتے ہیں تیرے در کا،
پانی ہے تیرا پانی، دانہ ہے تیرا دانہ۔

سنگِ درِ جاناں پر کرتا ہوں جبیں سائی،
سجدہ نہ سمجھ نجدی، سر دیتا ہوں نذرانہ۔

سرکار کے جلوؤں سے روشن ہے دلِ نوری،
تا حشر رہے روشن، نُوری کا یہ کاشانہ۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ عشقِ رسول ﷺ کی چاشنی میں ڈوبی ہوئی بے حد مقبول اور روح پرور نعتِ پاک (مفتیِ اعظم ہند، شاہ مصطفیٰ رضا خان 'نوری' رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) حضور ﷺ کی آفاقی عظمت، ان کی سخاوت اور ان کے دربار سے دلی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ رسالت کی وہ روشن شمع ہیں جس پر یہ سارا جہان پروانے کی طرح فدا ہے، اور آپ نبوت کا وہ چاند ہیں جس سے کائنات منور ہے۔ شاعر التجا کرتا ہے کہ ہمارے دلوں کو ایمان کی سچی دولت سے منور فرما دیں اور ہماری آنکھوں کو اپنے نورانی جلووں سے روشناس کرائیں تاکہ ہر لمحہ آپ ہی کی یاد کا خمار طاری رہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
شمعِ رسالترسالت کا چراغ / روشنی
ماہِ نبوتنبوت کا چاند
جلوۂ جانانہمحبوب (حضور ﷺ) کا خوبصورت جلوہ
ساقیٔ کوثرحوضِ کوثر کا پانی پلانے والے (مراد: حضور ﷺ)
مے خانہ / پیمانہشراب خانہ اور جام (مراد: عشقِ الٰہی و رسالت کی مستی)
جبیں سائیپیشانی رگڑنا / عاجزی سے ماتھا ٹیکنا
کاشانہگھر / آشیانہ یا مکان

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ کائنات کی ہر نعمت، رزق اور دانہ پانی حضور ﷺ ہی کے صدقے اور ان کے درِ اقدس سے ملتا ہے۔ شاعر عقیدت کے مروجہ پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محبوب کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنا کوئی شرک یا ممنوعہ سجدہ نہیں، بلکہ یہ ایک عاشق کا اپنے آقا کے حضور اپنے سر کا نذرانہ پیش کرنا ہے۔ آخر میں شاعر 'نوری' دعا گو ہیں کہ ان کا دل اور ان کا آشیانہ قیامت کے دن (تا حشر) تک سرکار ﷺ کے رحمت بھرے جلووں کی برکت سے ہمیشہ جگمگاتا رہے۔

لیرکس کے مطابق، پورا عالم (جہان) کس کا پروانہ ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: