मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 74 بار دیکھا گیا
,
عنوان: شہرِ نبی تیری گلیوں کا نقشہ ہی کچھ ایسا ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اختر رضا خان ازہری
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 08 Aug, 2023 12:32 PM IST
دیکھا گیا: 277
Time to read: 1 min read
شہرِ نبی تیری گلیوں کا نقشہ ہی کچھ ایسا ہے،
خلد بھی ہے مشتاقِ زیارت روضہ ہی کچھ ایسا ہے
دل کو سکون دے آنکھ کو ٹھنڈک روضہ ہی کچھ ایسا ہے،
فرشِ زمین پر عرشِ باری ہو لگتا ہی کچھ ایسا ہے
ان کے در پر ایسا جھکا دل اُٹھنے کا بھی اب ہوش نہیں،
اہلِ شریعت ہیں سکتہ میں سجدہ ہی کچھ ایسا ہے
سبطِ نبی ہے پشتِ نبی پر اور سجدے کی حالت ہے،
آقا نے تصحیح بڑھا دی بیٹا ہی کچھ ایسا ہے
تاج کو اپنے قاصد بنا کر حاضر ہیں شاہانِ جہاں،
ان کی عطا ہی کچھ ایسی ہے صدقہ ہی کچھ ایسا ہے
عرشِ معلّیٰ سر پہ اُٹھائے طیّرِ سدرہ آنکھ لگائے،
پتھر بھی قسمت چمکائے تلوہ ہی کچھ ایسا ہے
رب کے سوا دیکھا نہ کسی نے فرشی ہو یا عرشی ہو،
ان کی حقیقت کے چہرے پر پردہ ہی کچھ ایسا ہے
خم ہیں یہاں جمشید و سکندر اس میں کیا حیرانی ہے،
ان کے غلام کا اے اختر رُتبہ ہی کچھ ایسا ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت نعتِ پاک حضور نبیِ کریم ﷺ کے مقدس شہر مدینہ، ان کے روضہ انور کی عظمت اور ان کی بے مثل روحانیت کا ایک اعلیٰ بیان ہے۔
اس کلام کا مفہوم ہے کہ شہرِ نبی ﷺ کی گلیوں کا نقشہ اتنا حسین ہے کہ خود جنت (خلد) بھی اس کے دیدار کے لیے ترستی ہے، اور آپ ﷺ کا روضہ زمین پر ہوتے ہوئے بھی عرشِ بریں کا نظارہ دیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کے در پر عاشق اس طرح سجدے میں گرتے ہیں کہ اہلِ شریعت (علماء) بھی ان کے عشق کی یہ کیفیت دیکھ کر حیران (سکتہ میں) رہ جاتے ہیں۔
| الفاظ (Word) | معنی (Urdu / English Meaning) |
|---|---|
| خلد | جنت یا بہشت (Paradise) |
| مشتاقِ زیارت | دیدار کا طلب گار یا چاہنے والا (Desirous of visiting) |
| سکتہ میں | حیرت یا تعجب کی حالت میں (In a state of awe / shock) |
| سبطِ نبی | نبی کے نواسے — مراد حضرت امام حسینؑ (Grandson of the Prophet) |
| تصحیح | یہاں مراد نماز کی حالت یا تسبیح کو طویل کرنا ہے (Prolonging the prayer/glorification) |
| شاہانِ جہاں | دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ (Kings of the world) |
| طیّرِ سدرہ | سدرہ کا پرندہ — مراد حضرت جبرائیلؑ (Angel Jibreel) |
| خم | جھکا ہوا (Bowed) |
اس نعت میں بتایا گیا ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کا دربار وہ اعلیٰ مقام ہے جہاں دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ (جمشید و سکندر) بھی اپنے تاج کو بھکاری کا پیالہ بنا کر حاضر ہوتے ہیں۔ شاعر 'اختر' فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ کے ادنیٰ غلاموں کا رتبہ دنیا میں اتنا بلند ہے، تو ان کے آقا ﷺ کی عظمت اور حقیقت کا اندازہ کوئی انسان یا فرشتہ نہیں لگا سکتا کیونکہ ان کی اصل حقیقت پر رب کے سوا کسی کی نظر نہیں جا سکتی۔
اس نعت کے مطابق، جب نبیِ کریم ﷺ کی پشت (پیٹھ) پر ان کے نواسے (سبطِ نبی) بیٹھے تھے، تو آقا نے کس چیز کو بڑھا دیا تھا؟