मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 417 بار دیکھا گیا
,
عنوان: شہرِ گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 07 Aug, 2023 08:55 AM IST
دیکھا گیا: 427
Time to read: 1 min read
شہرِ گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر،
سُوۓ جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر۔
سرگزشتِ غم کہوں کسے تیرے ہوتے ہوئے،
کس کے در پہ جاؤں تیرا آستانہ چھوڑ کر۔
مر ہی جاؤں میں اگر اس در سے جاؤں دو قدم،
کیا بچے بیمارِ غم قربِ مسیحا چھوڑ کر۔
بے لیقاِ یار اُن کو چین آجاتا اگر،
بار بار آتے نہ یوں زِبریئیل شیدرا چھوڑ کر۔
بخشوانا مجھ سے آںسے کا روا ہوگا کیسے،
کس کے دامن میں چھپوں دامن تمہارا چھوڑ کر۔
حشر میں ایک ایک مون جو تکتے پھرتے ہیں اُدّو،
آفتوں میں پھنس گئے اُن کا سہارا چھوڑ کر۔
مر کے جیتے ہیں جو اُن کے در پہ جاتے ہیں حسن،
جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام بارگاہِ رسالت ﷺ اور شہرِ مدینہ سے سچی عقیدت و محبت کا ایک بے مثال اظہار ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک سچے عاشق کے لیے حضور ﷺ کی چوہٹ اور مدینے کے صحرا کے سامنے جنت کے باغات بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
ان لائنوں کا مطلب ہے کہ حضور ﷺ کی موجودگی میں کوئی اپنے دکھوں کی داستان کسی اور کو کیوں سنائے اور مدینے کی پاک زمین کو چھوڑ کر کوئی جنت کا رخ بھی کیوں کرے۔ شاعر کہتا ہے کہ جیسے کوئی شدید بیمار اپنے طبیب (مسیحا) سے دور ہو کر زندہ نہیں رہ سکتا، ویسے ہی حضور ﷺ کے در سے دو قدم دور جانا بھی روحانی موت کے برابر ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| دشتِ طیبہ | مدینے کا صحرا / مدینے کی زمین |
| سُوۓ جنت | جنت کی طرف / جنت کی راہ |
| سرگزشتِ غم | دکھوں کا احوال / بیتی کہانی |
| آستانہ | چوکھٹ / دربارِ اقدس |
| قربِ مسیحا | معالج یا شفا دینے والے کی نزدیکی |
| بے لقائے یار | محبوب (حضور ﷺ) کے دیدار کے بغیر |
| شیدرا (سدرہ) | سدرۃ المنتہیٰ (عرشِ بریں پر فرشتوں کی آخری حد) |
| آںسے (عاصی) | گناہگار / خطاکار |
| اُدّو (عدو) | دشمن / مخالفین |
اس نعتِ پاک میں شہرِ مدینہ کی عظمت کو پوری کائنات اور جنت پر بھی فوقیت دی گئی ہے، یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی حضور ﷺ کے دیدار کی تڑپ میں بار بار اپنا مقام 'سدرہ' چھوڑ کر بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوتے ہیں۔ شاعر 'حسن' (حسن رضا خان) آخر میں کہتے ہیں کہ جو لوگ مدینے کی چوکھٹ پر جان قربان کرتے ہیں وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں، اور جو مدینہ چھوڑ کر واپس آتے ہیں وہ جیتے جی مر جاتے ہیں۔
شاعر کے مطابق جو لوگ مدینہ چھوڑ کر آتے ہیں ان کا کیا حال ہوتا ہے، اور حضرت جبرائیل بار بار سدرہ چھوڑ کر کیوں آتے ہیں؟