मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی حافظ طاہر قادری ندیم رضا فیضی اویس رضا قادری سجّاد نظامی (مرہوم) مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 10 Jun, 2023 02:16 PM IST
دیکھا گیا: 267
Time to read: 1 min read
سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے؟
باغِ خلیل کا گُلِ زیبَا کہوں تجھے؟
حِرماں نسیم ہو تجھے، اُمِّید گاہ کہوں؟
جانِ مراد و کانِ تمنّا کہوں تجھے؟
گلزارِ قُدس کا گُلِ رنگیں ادا کہوں؟
درماں دردِ بُلبُلِ شیدا کہوں تجھے؟
صبحِ وطن پہ شامِ غریباں کو دُوں شرف؟
بے کس نواز، گیسوٴ والا کہوں تجھے؟
اللہ رے تیرے جسمِ منوّر کی تابشیں،
اے جانِ جاں، میں جانِ تجلّی کہوں تجھے؟
بے داغ لالہ یا قمرِ بے کلف کہوں؟
بے خار گُلبنِ چمن آرا کہوں تجھے؟
مجرم ہوں، اپنے عفو کا سامان کر شَہَا!
یعنی شفیعِ روزِ جزا کا کہوں تجھے؟
اس مردہ دل کو مژدہٴ حیاتِ آباد دُوں،
طیب و طُہُر، جانِ مسیحا کہوں تجھے؟
تیرے تو وصف، عیبِ تنہائی سے ہیں بری،
حیران ہوں، میرے شاہ! میں کیا کیا کہوں تجھے؟
کہہ دے گی سب کچھ اُن کے ثنا خواں کی خامشی،
چُپ ہو رہا ہوں، کہہ کے میں کیا کیا کہوں تجھے؟
لیکن رضا نے ختمِ سخن اِس پہ کر دیا،
خالق کا بندہ، خلق کا آقا کہوں تجھے!
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلامِ رضا اردو نعت گوئی کا ایک بے مثل شاہکار ہے، جسے امامِ اہلستان اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے مدحتِ مصطفیٰ ﷺ میں کمالِ عاجزی اور غایتِ ادب کے ساتھ تحریر کیا ہے۔
ان اشعار میں شاعر نبی کریم ﷺ کی بے پناہ روحانی عظمت، بے داغ حسن اور لامحدود صفات کو دیکھ کر حیرت زدہ ہے کہ آپ ﷺ کو کن الفاظ میں یاد کرے۔ وہ کبھی آپ ﷺ کو گلزارِ قدس کا پھول، کبھی بے کسوں کا آسرا تو کبھی روزِ محشر کا شفیع کہتا ہے، اور بالاخر یہ اعتراف کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی تعریف انسانی الفاظ کی حدود سے ماورا ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| سرور / مولا | سردار / آقا یا مالک |
| گُلِ زیبَا | نہایت خوبصورت پھول |
| کانِ تمنّا | آرزوؤں کی کان / مرکزِ امید |
| جسمِ منوّر کی تابشیں | روشن جسم کی چمک اور نورانیت |
| شفیعِ روزِ جزا | قیامت (انصاف کے دن) کے روز گناہوں کی شفاعت کرنے والے |
| عیبِ تِناہی | ختم ہو جانے یا محدود ہونے کا عیب (نوٹ: اصل لفظ 'تناہی' ہے) |
| خالق / خلق | پیدا کرنے والا (اللہ) / مخلوق یا کائنات |
اس لازوال نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ حضور سرورِ کائنات ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہر قسم کے نقص اور محدودیت سے پاک ہے۔ آپ ﷺ مجرموں کی بخشش کا ذریعہ، مرجھائے ہوئے دلوں کے لیے مریجِ حیات اور کائنات کا سب سے روشن نور ہیں، جن کی مدح سرائی کرنا کسی انسان کے بس میں نہیں۔ اعلیٰ حضرت (رضا) اپنے کلام کا اختتام اس خوبصورت اور جامع ترین حقیقت پر کرتے ہیں کہ کائنات میں آپ ﷺ کا رتبہ یہ ہے کہ آپ صرف اپنے رب (خالق) کے بندے ہیں، اور خدا کے بعد اس پوری کائنات (مخلوق) کے آقا و سردار ہیں۔
لیرکس کے آخری شعر میں، اعلیٰ حضرت نے نبی ﷺ کو کس کا بندہ اور کس کا آقا کہا ہے؟