, سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے Lyrics In اردو

(سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے, باغِ خلیل کا گُلِ زیبَا کہوں تجھے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 10 Jun, 2023 02:16 PM IST

دیکھا گیا: 267

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے؟
باغِ خلیل کا گُلِ زیبَا کہوں تجھے؟

حِرماں نسیم ہو تجھے، اُمِّید گاہ کہوں؟
جانِ مراد و کانِ تمنّا کہوں تجھے؟

گلزارِ قُدس کا گُلِ رنگیں ادا کہوں؟
درماں دردِ بُلبُلِ شیدا کہوں تجھے؟

صبحِ وطن پہ شامِ غریباں کو دُوں شرف؟
بے کس نواز، گیسوٴ والا کہوں تجھے؟

اللہ رے تیرے جسمِ منوّر کی تابشیں،
اے جانِ جاں، میں جانِ تجلّی کہوں تجھے؟

بے داغ لالہ یا قمرِ بے کلف کہوں؟
بے خار گُلبنِ چمن آرا کہوں تجھے؟

مجرم ہوں، اپنے عفو کا سامان کر شَہَا!
یعنی شفیعِ روزِ جزا کا کہوں تجھے؟

اس مردہ دل کو مژدہٴ حیاتِ آباد دُوں،
طیب و طُہُر، جانِ مسیحا کہوں تجھے؟

تیرے تو وصف، عیبِ تنہائی سے ہیں بری،
حیران ہوں، میرے شاہ! میں کیا کیا کہوں تجھے؟

کہہ دے گی سب کچھ اُن کے ثنا خواں کی خامشی،
چُپ ہو رہا ہوں، کہہ کے میں کیا کیا کہوں تجھے؟

لیکن رضا نے ختمِ سخن اِس پہ کر دیا،
خالق کا بندہ، خلق کا آقا کہوں تجھے!

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلامِ رضا اردو نعت گوئی کا ایک بے مثل شاہکار ہے، جسے امامِ اہلستان اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے مدحتِ مصطفیٰ ﷺ میں کمالِ عاجزی اور غایتِ ادب کے ساتھ تحریر کیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار میں شاعر نبی کریم ﷺ کی بے پناہ روحانی عظمت، بے داغ حسن اور لامحدود صفات کو دیکھ کر حیرت زدہ ہے کہ آپ ﷺ کو کن الفاظ میں یاد کرے۔ وہ کبھی آپ ﷺ کو گلزارِ قدس کا پھول، کبھی بے کسوں کا آسرا تو کبھی روزِ محشر کا شفیع کہتا ہے، اور بالاخر یہ اعتراف کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی تعریف انسانی الفاظ کی حدود سے ماورا ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
سرور / مولاسردار / آقا یا مالک
گُلِ زیبَانہایت خوبصورت پھول
کانِ تمنّاآرزوؤں کی کان / مرکزِ امید
جسمِ منوّر کی تابشیںروشن جسم کی چمک اور نورانیت
شفیعِ روزِ جزاقیامت (انصاف کے دن) کے روز گناہوں کی شفاعت کرنے والے
عیبِ تِناہیختم ہو جانے یا محدود ہونے کا عیب (نوٹ: اصل لفظ 'تناہی' ہے)
خالق / خلقپیدا کرنے والا (اللہ) / مخلوق یا کائنات

خلاصہ (Summary)

اس لازوال نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ حضور سرورِ کائنات ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہر قسم کے نقص اور محدودیت سے پاک ہے۔ آپ ﷺ مجرموں کی بخشش کا ذریعہ، مرجھائے ہوئے دلوں کے لیے مریجِ حیات اور کائنات کا سب سے روشن نور ہیں، جن کی مدح سرائی کرنا کسی انسان کے بس میں نہیں۔ اعلیٰ حضرت (رضا) اپنے کلام کا اختتام اس خوبصورت اور جامع ترین حقیقت پر کرتے ہیں کہ کائنات میں آپ ﷺ کا رتبہ یہ ہے کہ آپ صرف اپنے رب (خالق) کے بندے ہیں، اور خدا کے بعد اس پوری کائنات (مخلوق) کے آقا و سردار ہیں۔

لیرکس کے آخری شعر میں، اعلیٰ حضرت نے نبی ﷺ کو کس کا بندہ اور کس کا آقا کہا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: