मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 49 بار دیکھا گیا
,
عنوان: سہارا چاہیئے سرکار زندگی کے لیے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: حافظ طاہر قادری اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 08 Apr, 2023 09:42 AM IST
دیکھا گیا: 1K
Time to read: 3 min read
میرے آقا مدینے بولا لیجئے
میرے آقا مدینے بولا لیجئے
سہارا چاہیئے سرکار زندگی کے لیے
تڑپ رہا ہوں مدینے کی حاضری کے لیے
طیبہ کے جانے والے، جاکر بڑے ادب سے
میرا بھی قصّہِ اے غم، کہنا شاہِ عرب سے
کہنا کے شاہِ عالم، ایک رنج و غم کا مارا
دونو جہاں میں جس کا ہے آپ ہی سہارا
حالات پور علم سے، اس دم گُزر رہا ہے
اور کانپتے لبوں سے فریاد کر رہا ہے
پائے گنا اپنا ہے دوش پر اٹھائے
کوئی نہیں ہے ایسا جو پوچھنے کو کو آئے
بھولا ہوا مسافر منزل کو دھونڈتا ہے
تاریکیوں کو ماہِ کامل کو دھونڈتا ہے
سینے میں ہے اندھیرا، دل ہے سیا کھانا
یہ ہے میری کہانی سرکار کو سنانا
کہنا میرے نبی سے مہروم ہو خوشی سے
کہنا میرے نبی سے مہروم ہو خوشی سے
سرور قبرغم ہے، اشکون سے آنکھ نام ہے
پامالِ زندگی ہوں، سرکار اُمتّی ہوں
اُمتّ کے رہنما ہو، کچھ عرضِ حال سن لو
فریاد کر رہا ہوں، میں دل فگار کب سے
میرا بھی قصّہِ غم کہنا شاہِ عرب سے
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے
سہارا چاہیئے سرکار زندگی کے لیے
تڑپ رہا ہوں مدینے کی حاضری کے لیے
میرا دل تڑپ رہا ہے، میرا جل رہا ہے سینا
کے دوا وہی ملے گی، مجھے لے چلو مدینہ
نہیں مال و زر تو کیا ہے، میں غریب ہوں یہی نہ
میرے عشق مجھکو لے چل، تو ہی جانبِ مدینہ
آقا نہ ٹوٹ جائے، یہ دل کا ابگھینہ
اب کے برس بھی مولا، رہ جاؤں میں کہیں نہ
دل رو رہا ہے جن کا، آنسو چلک رہے ہیں
ان عاشقوں کا صدقہ بلوائیئے مدینہ
میرے آقا مدینے بولا لیجئے
میرے آقا مدینے بولا لیجئے
مدینے جاؤں پھر آؤں دوبارہ پھر جاؤں
یہ زندگی میری یونہی تمام ہو جائے
سہارا چاہیئے سرکار زندگی کے لیے
تڑپ رہا ہوں مدینے کی حاضری کے لیے
اے اعظمِ مدینہ جاکر نبی سے کہنا
سوزِ غمِ علم سے اب جل رہا ہے سینا
کہنا کے بڑھ رہی ہے اب دل کی اضطرابی
کدموں سے دور ہوں میں قسمت کی ہے خرابی
کہنا کے دل میں میرے ارمان بھرے ہوئے ہیں
کہنا کے حسرتوں کے نشتر چوبے ہوئے ہیں
ہیں آرزو یہ دل کی، میں بھی مدینے جاؤں
سلطانِ دو جہاں کو داغِ جگر دکھاؤں
کانٹوں ہزار چکّر طیبہ کی ہر گلی کے
یونہی گزار دوں میں ایّام زندگی کے
پھولوں پہ جان نثاروں، کانٹوں پہ دل کو واروں
زرّوں کو دو سلامی، در کی کرو گلامی
دیوارو درکو چوموں، چوکھٹ پے سر کو رکھ دوں
روزے کو دیکھ کر میں روتا رہوں برابر
عالم کے دل میں ہے یہ حشرت نہ جانے کب سے
ہم سب کے دل میں ہے یہ حشرت نہ جانے کب سے
میرا بھی قصّہِ غم کہنا شاہِِ عرب سے
سہارا چاہیئے سرکار زندگی کے لیے
تڑپ رہا ہوں مدینے کی حاضری کے لیے
ایک روز ہوگا جانا سرکار کی گلی میں
ہوگا وہی ٹھیکانا سرکار کی گلی میں
دل میں نبی کی یادیں، لب پر نبی کی نعتیں
جانا تو ایسے جانا سرکار کی گلی میں
یا مصطفیٰ خدارا دو اِزن حاضری کا
کر لوں نظارہ آکر میں آپ کی گلی کا
ایک بار تو دیکھا دو رمضان میں مدینہ
اس بار تو دیکھا دو رمضان میں مدینہ
آقا ہمین دیکھا دو رمضان میں مدینہ
بیشک بنا لو آقا مہمان دو گھڑی کا
نصیب والوں میں میرا بھی نام ہو جائے
جو زندگی کی مدینے میں شام ہو جائے
سہارا چاہیئے سرکار زندگی کے لیے
تڑپ رہا ہوں مدینے کی حاضری کے لیے
بُلا لو نہ بُلا لو نہ
آقا آقا آقا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دل گداز نعتِ شریف مدینہ منورہ کی حاضری کے لیے ایک تڑپتے ہوئے عاشقِ رسول ﷺ کے دل کی بے چین پکار ہے۔ اس میں ایک بے بس امتی اپنے گناہوں کا بوجھ اور دنیا کے غموں سے تنگ آ کر آقا ﷺ کے دربارِ اقدس میں بلائے جانے کی التجا کر رہا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ شاعر مدینے جانے والے زائرین (عازمِ مدینہ) سے التماس کرتا ہے کہ وہ آقا ﷺ کی بارگاہ میں ان کے دکھوں کا حال پیش کریں۔ وہ فریاد کرتا ہے کہ اس کے پاس بھلے ہی دنیاوی مال و زر نہیں ہے، لیکن دل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی تڑپ ہے، اس لیے اس کی سب سے بڑی تمنا یہی ہے کہ اس کی زندگی کی آخری شام مدینے کی پاک گلیوں میں ہی ہو۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| پور علم (پُر الم) | غموں اور دکھوں سے بھرا ہوا |
| ماہِ کامل | چودھویں کا چاند (مراد حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ) |
| دل فگار | زخمی یا ٹوٹے ہوئے دل والا |
| مال و زر | دھن دولت اور سونا |
| ابگھینہ (آبگینہ) | شیشہ یا کانچ کا برتن (مراد نازک دل) |
| اضطرابی | بے چینی / بے قراری |
| نشتر | چاقو یا سوئی (مراد گہرے زخم) |
| اِزن (اذن) | اجازت / حکم |
اس کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ دنیا کی مصیبتوں اور اپنے گناہوں سے ہارا ہوا ہر مومن صرف حضور ﷺ کی چشمِ کرم کا طالب ہے، کیونکہ اس کے دل کے زخموں کی دوا صرف مدینے میں ہی ممکن ہے۔ شاعر کی دلی خواہش ہے کہ اسے کم از کم ایک بار مبارک مہینے رمضان میں مدینہ منورہ کی حاضری نصیب ہو جائے، وہ وہاں بار بار جائے اور آقا ﷺ کی چوکھٹ پر سر رکھ کر روتا رہے یہاں تک کہ اس کی زندگی وہیں تمام (ختم) ہو جائے۔
شاعر نے 'ماہِ کامل' کا لفظ کس کے لیے استعمال کیا ہے، اور وہ رمضان کے مہینے میں کیا خواہش پوری کرنا چاہتا ہے؟