मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 2 ہفتے پہلے fiber_manual_record 294 بار دیکھا گیا
,
عنوان: پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 07 Apr, 2023 07:54 AM IST
دیکھا گیا: 1.2K
Time to read: 2 min read
پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے
رحمت فرشتے لاتے رہیں گے ہر ایک پل
برکت، گل کھلاتے رہیں گے ہر ایک پل
خاکِ درِ رسول اگر تیرے گھر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے
نور کے چشمے لہرا کے دریا بہا دیے
اُنگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام
اٹھی جو اُن کی اُنگلی تو کیا کیا نہ کر دیا
سورج کو پھیرا، چاند کو دو ٹکڑے کر دیا
اُس کا نشان آج بھی دیکھو قمر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے
بھینی سہانی صبح کی ٹھنڈک جگر کی ہے
کلیاں کھِلی دلوں کی، ہوا یہ کدھر کی ہے؟
ریشم سی ہیں ہوائیں، فضا مشک بار ہے
طیبہ کی جستجو میں عجب ہی خمار ہے
لگتا ہے جیسے خلد میری ہر ڈگر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے
پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے
سرور کہوں کے مالک و مولا کہوں تجھے
باغِ خلیل کا گلِ زیبا کہوں تجھے
لیکن رضا نے ختمِ سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ، خلق کا آقا کہوں تجھے
اللہ سب سے اعلیٰ ہے، پھر مصطفیٰ ﷺ کی ذات
دونوں جہاں میں اونچی ہے میرے نبی کی بات
پھیلا ہوا جو نور، یہ شام و سحر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے
پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے
میرے تصوّرات کا عالم نہ پوچھئیے
کیوں ہو گئی ہے آنکھ مری نم، نہ پوچھئیے
سجاد مست نعتِ شاہِ بحر و بر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے
پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت اور پُرکشش نعتِ شریف مدینہ منورہ کی یاد، گنبدِ خضرا کے تصور اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں ایک عاشقِ رسول کی قلبی کیفیات کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ کے عظیم معجزات اور آپ ﷺ کے درِ پاک کی مٹی کی برکات کا نہایت والہانہ ذکر کیا گیا ہے۔
ان ایمان افروز اشعار کا مطلب ہے کہ شاعر ظاہری طور پر چاہے دنیا کے کسی بھی راستے پر سفر کر رہا ہو، اس کے دل و دماغ میں ہمیشہ مدینے کا ہرا گنبد ہی رہتا ہے، جس کی یاد سے اس کی کٹھن راہیں بھی پھولوں کی سیج بن جاتی ہیں۔ آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں کا معجزہ ایسا بے مثل ہے کہ ایک اشارے سے ڈوبتے سورج کو پلٹا دیا اور چاند کو دو ٹکڑے کر دیا، اور آپ ﷺ کے آستانے کی خاک (مٹی) میں زمانے بھر کے لا علاج بیماروں کے لیے شفا رکھ دی گئی ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| رہگزر / ڈگر | راستہ / گزرگاہ یا راہ |
| گنبدِ خضرا | مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کا ہرا گنبد |
| آستانے / در | چوکٹھ / مبارک دربار یا دروازہ |
| قمر | چاند |
| مشک بار | کستوری کی خوشبو سے مہکتی ہوئی |
| خلد | جنت / بہشت |
| گلِ زیبا | خوبصورت پھول |
| خالق / خلق | پیدا کرنے والا (اللہ) / مخلوق یا کائنات |
| شاہِ بحر و بر | خشکی اور تری کے بادشاہ (مراد حضور ﷺ) |
اس کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد کائنات میں سب سے بلند و بالا مرتبہ رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کا ہے، جو رب کے بندے مگر پوری مخلوق کے آقا و مالک ہیں۔ شاعر 'سجاد' طیبہ کی پاکیزہ ہواؤں اور حضور ﷺ کے عشق کے خمار میں اس قدر کھوئے ہوئے ہیں کہ انہیں اپنی ہر راہ جنت جیسی محسوس ہوتی ہے، اور آقا ﷺ کی نعت پڑھتے پڑھتے ان کی آنکھیں عقیدت کے آنسوؤں سے نم ہو جاتی ہیں۔
شاعر نے نبی ﷺ کی انگلیوں کے کس معجزاتی کرشمے کا ذکر کیا ہے جس کا نشان آج بھی 'قمر' (چاند) پر موجود ہے؟