, پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے Lyrics In اردو

(پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے, میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)

نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)

شامل کیا گیا: 07 Apr, 2023 07:54 AM IST

دیکھا گیا: 1.2K

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے

رحمت فرشتے لاتے رہیں گے ہر ایک پل
برکت، گل کھلاتے رہیں گے ہر ایک پل

خاکِ درِ رسول اگر تیرے گھر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے

نور کے چشمے لہرا کے دریا بہا دیے
اُنگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام

اٹھی جو اُن کی اُنگلی تو کیا کیا نہ کر دیا
سورج کو پھیرا، چاند کو دو ٹکڑے کر دیا

اُس کا نشان آج بھی دیکھو قمر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے

بھینی سہانی صبح کی ٹھنڈک جگر کی ہے
کلیاں کھِلی دلوں کی، ہوا یہ کدھر کی ہے؟

ریشم سی ہیں ہوائیں، فضا مشک بار ہے
طیبہ کی جستجو میں عجب ہی خمار ہے

لگتا ہے جیسے خلد میری ہر ڈگر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے

پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے

سرور کہوں کے مالک و مولا کہوں تجھے
باغِ خلیل کا گلِ زیبا کہوں تجھے
لیکن رضا نے ختمِ سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ، خلق کا آقا کہوں تجھے

اللہ سب سے اعلیٰ ہے، پھر مصطفیٰ ﷺ کی ذات
دونوں جہاں میں اونچی ہے میرے نبی کی بات

پھیلا ہوا جو نور، یہ شام و سحر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے

پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے

میرے تصوّرات کا عالم نہ پوچھئیے
کیوں ہو گئی ہے آنکھ مری نم، نہ پوچھئیے

سجاد مست نعتِ شاہِ بحر و بر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے

پھولوں کی سیج میری ہر ایک رہگزر میں ہے
میں ہوں سفر میں، گنبدِ خضرا نظر میں ہے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ خوبصورت اور پُرکشش نعتِ شریف مدینہ منورہ کی یاد، گنبدِ خضرا کے تصور اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں ایک عاشقِ رسول کی قلبی کیفیات کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ کے عظیم معجزات اور آپ ﷺ کے درِ پاک کی مٹی کی برکات کا نہایت والہانہ ذکر کیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان ایمان افروز اشعار کا مطلب ہے کہ شاعر ظاہری طور پر چاہے دنیا کے کسی بھی راستے پر سفر کر رہا ہو، اس کے دل و دماغ میں ہمیشہ مدینے کا ہرا گنبد ہی رہتا ہے، جس کی یاد سے اس کی کٹھن راہیں بھی پھولوں کی سیج بن جاتی ہیں۔ آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں کا معجزہ ایسا بے مثل ہے کہ ایک اشارے سے ڈوبتے سورج کو پلٹا دیا اور چاند کو دو ٹکڑے کر دیا، اور آپ ﷺ کے آستانے کی خاک (مٹی) میں زمانے بھر کے لا علاج بیماروں کے لیے شفا رکھ دی گئی ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظمعنی (Meanings)
رہگزر / ڈگرراستہ / گزرگاہ یا راہ
گنبدِ خضرامدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کا ہرا گنبد
آستانے / درچوکٹھ / مبارک دربار یا دروازہ
قمرچاند
مشک بارکستوری کی خوشبو سے مہکتی ہوئی
خلدجنت / بہشت
گلِ زیباخوبصورت پھول
خالق / خلقپیدا کرنے والا (اللہ) / مخلوق یا کائنات
شاہِ بحر و برخشکی اور تری کے بادشاہ (مراد حضور ﷺ)

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد کائنات میں سب سے بلند و بالا مرتبہ رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کا ہے، جو رب کے بندے مگر پوری مخلوق کے آقا و مالک ہیں۔ شاعر 'سجاد' طیبہ کی پاکیزہ ہواؤں اور حضور ﷺ کے عشق کے خمار میں اس قدر کھوئے ہوئے ہیں کہ انہیں اپنی ہر راہ جنت جیسی محسوس ہوتی ہے، اور آقا ﷺ کی نعت پڑھتے پڑھتے ان کی آنکھیں عقیدت کے آنسوؤں سے نم ہو جاتی ہیں۔

شاعر نے نبی ﷺ کی انگلیوں کے کس معجزاتی کرشمے کا ذکر کیا ہے جس کا نشان آج بھی 'قمر' (چاند) پر موجود ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں