, پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا Lyrics In اردو

(پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا, کیف سا چھا گیا میں مدینے چلا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: اویس رضا قادری

نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری

شامل کیا گیا: 18 Apr, 2023 09:49 PM IST

دیکھا گیا: 475

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

میں مدینے چلا، میں مدینے چلا،
پھر کرم ہو گیا، میں مدینے چلا

کیف سا چھا گیا، میں مدینے چلا،
جھومتا جھومتا، میں مدینے چلا

میرے آقا کا در، ہوگا پیشِ نظر،
چاہیے اور کیا، میں مدینے چلا

میرے گندے قدم اور ان کا حرم،
لاج رکھنا خدا! میں مدینے چلا

گنبدِ سبز پر جب پڑے گی نظر،
کیا سرور آئے گا، میں مدینے چلا

سبز گنبد کا نور، زنگ کر دے گا دُور،
پائے گا دل جِلا، میں مدینے چلا

اشک تھمتے نہیں، پاؤں جمते نہیں،
لڑکھڑاتا ہوا، میں مدینے چلا

میرے صدیق، عمر ہو سلام آپ پر،
اور رحمت سدا، میں مدینے چلا

وہ بقیع کی زمیں جس کے اندر مکیں،
میرے حمزہ پیا، میں مدینے چلا

ان کا غم، چشمِ تر، اور سوزِ جگر،
اب تو دے دے خدا! میں مدینے چلا

ساقیا! مئے پلا، میں مدینے چلا،
مست و بےخود بنا، میں مدینے چلا

اے شجر! اے حجر! تم بھی شمس و قمر!
دیکھو دیکھو ذرا، میں مدینے چلا

دیکھ تارے مجھے، یہ نظارے مجھے،
تم بھی دیکھو ذرا، میں مدینے چلا

روحِ مضطر ٹھہر، تُو نکلنا اُدھر،
اتنی جلدی بھی کیا؟ میں مدینے چلا

ہاتھ اُٹھتے رہیں، مجھ کو دیتے رہیں،
وہ طلب سے سِوا، میں مدینے چلا

نورِ حق کا حضور، اپنا سارا قصور،
بخشوانے چلا، میں مدینے چلا

وہ بقیع کی زمیں جس کے اندر مکیں،
میرے مدنی ضیا، میں مدینے چلا

ان کے منار پر جب پڑے گی نظر،
کیا سرور آئے گا، میں مدینے چلا

منبرِ نور پر جب اُٹھے گی نظر،
کیا سرور آئے گا، میں مدینے چلا

دردِ اُلفت ملے، ذوق بڑھنے لگے،
جب چلا قافلہ، میں مدینے چلا

کیا کرے گا اِدھر، باندھ رکھتِ سفر؟
چل عبیدِ رضا، میں مدینے چلا

کیا یہ تُو نے کہا، اے عبیدِ رضا؟
سوچ تو کچھ ذرا، میں مدینے چلا

میں تو بس یوں ہی تھا، میری اوقات کیا،
قافیہ یہ ملا، میں مدینے چلا

لُطف تو جب ملے، مُرشد یہ کہیں،
چل عبیدِ رضا، میں مدینے چلا

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ عاشقانِ رسول کے دلوں کی دھڑکن اور ایک نہایت ہی مقبول و معروف ناتیہ کلام ہے، جسے صوفی شاعر 'عبیدِ رضا' نے مادی دنیا سے کٹ کر مدینہ منورہ کی حاضری کی تڑپ اور وجدانی کیفیت میں تحریر کیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ شاعر پر حضورِ اکرم ﷺ کا بے پناہ کرم ہو گیا ہے اور وہ اسی خوشی اور روحانی مستی (کیف) میں جھومتا ہوا مدینہ شریف جا رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میری نظر آقا ﷺ کے روضہ مبارک کے سبز گنبد اور منبرِ نور پر پڑے گی، تو روح کو جو لاجواب سکون اور سرور حاصل ہوگا، اس کے سامنے دنیا کی ہر نعمت ہیچ ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
کیف / سرورروحانی مستی یا نشہ / دلی خوشی اور سکون
شجر / حجر / شمس و قمردرخت / پتھر / سورج اور چاند
روحِ مضطرتڑپتی ہوئی یا بے چین روح
طلب سے سِواامید اور چاہت سے بھی کہیں بڑھ کر
بقیع / مکیںجنت البقیع (مدینہ کا مشہور قبرستان) / رہنے والے یا دفن
دل جِلادل کی پاکیزگی یا روح کا زندہ ہونا
رختِ سفرسفر کا سامان یا تیاری

خلاصہ (Summary)

اس نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ سفرِ مدینہ کوئی عام سفر نہیں بلکہ گناہگار روحوں کے لیے شفا ہے، جہاں سبز گنبد کا نور دلوں پر جمی گناہوں کی کائی (زنگ) کو دور کر کے اسے نئی زندگی بخشتا ہے۔ شاعر اپنے گندے قدموں اور آقا ﷺ کے پاک حرم کا موازنہ کرتے ہوئے خوف اور ندامت سے کانپ رہا ہے اور رب سے اپنی لاج رکھنے کی دعا کرتا ہے۔ آخر میں وہ صوفیانہ رنگ میں فرماتے ہیں کہ اس پاک سفر کا اصل لطف تبھی ہے جب انسان اپنے مرشدِ کامل کے ہمراہ ان کا ہاتھ تھام کر پکارے کہ 'چل عبیدِ رضا، میں مدینے چلا'۔

لیرکس کے مطابق، گنبدِ خضریٰ (سبز گنبد) کا نور دل سے کس چیز کو دور کر دے گا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں