मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 72 بار دیکھا گیا
,
عنوان: پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اویس رضا قادری
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 18 Apr, 2023 09:49 PM IST
دیکھا گیا: 475
Time to read: 2 min read
میں مدینے چلا، میں مدینے چلا،
پھر کرم ہو گیا، میں مدینے چلا
کیف سا چھا گیا، میں مدینے چلا،
جھومتا جھومتا، میں مدینے چلا
میرے آقا کا در، ہوگا پیشِ نظر،
چاہیے اور کیا، میں مدینے چلا
میرے گندے قدم اور ان کا حرم،
لاج رکھنا خدا! میں مدینے چلا
گنبدِ سبز پر جب پڑے گی نظر،
کیا سرور آئے گا، میں مدینے چلا
سبز گنبد کا نور، زنگ کر دے گا دُور،
پائے گا دل جِلا، میں مدینے چلا
اشک تھمتے نہیں، پاؤں جمते نہیں،
لڑکھڑاتا ہوا، میں مدینے چلا
میرے صدیق، عمر ہو سلام آپ پر،
اور رحمت سدا، میں مدینے چلا
وہ بقیع کی زمیں جس کے اندر مکیں،
میرے حمزہ پیا، میں مدینے چلا
ان کا غم، چشمِ تر، اور سوزِ جگر،
اب تو دے دے خدا! میں مدینے چلا
ساقیا! مئے پلا، میں مدینے چلا،
مست و بےخود بنا، میں مدینے چلا
اے شجر! اے حجر! تم بھی شمس و قمر!
دیکھو دیکھو ذرا، میں مدینے چلا
دیکھ تارے مجھے، یہ نظارے مجھے،
تم بھی دیکھو ذرا، میں مدینے چلا
روحِ مضطر ٹھہر، تُو نکلنا اُدھر،
اتنی جلدی بھی کیا؟ میں مدینے چلا
ہاتھ اُٹھتے رہیں، مجھ کو دیتے رہیں،
وہ طلب سے سِوا، میں مدینے چلا
نورِ حق کا حضور، اپنا سارا قصور،
بخشوانے چلا، میں مدینے چلا
وہ بقیع کی زمیں جس کے اندر مکیں،
میرے مدنی ضیا، میں مدینے چلا
ان کے منار پر جب پڑے گی نظر،
کیا سرور آئے گا، میں مدینے چلا
منبرِ نور پر جب اُٹھے گی نظر،
کیا سرور آئے گا، میں مدینے چلا
دردِ اُلفت ملے، ذوق بڑھنے لگے،
جب چلا قافلہ، میں مدینے چلا
کیا کرے گا اِدھر، باندھ رکھتِ سفر؟
چل عبیدِ رضا، میں مدینے چلا
کیا یہ تُو نے کہا، اے عبیدِ رضا؟
سوچ تو کچھ ذرا، میں مدینے چلا
میں تو بس یوں ہی تھا، میری اوقات کیا،
قافیہ یہ ملا، میں مدینے چلا
لُطف تو جب ملے، مُرشد یہ کہیں،
چل عبیدِ رضا، میں مدینے چلا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ عاشقانِ رسول کے دلوں کی دھڑکن اور ایک نہایت ہی مقبول و معروف ناتیہ کلام ہے، جسے صوفی شاعر 'عبیدِ رضا' نے مادی دنیا سے کٹ کر مدینہ منورہ کی حاضری کی تڑپ اور وجدانی کیفیت میں تحریر کیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ شاعر پر حضورِ اکرم ﷺ کا بے پناہ کرم ہو گیا ہے اور وہ اسی خوشی اور روحانی مستی (کیف) میں جھومتا ہوا مدینہ شریف جا رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میری نظر آقا ﷺ کے روضہ مبارک کے سبز گنبد اور منبرِ نور پر پڑے گی، تو روح کو جو لاجواب سکون اور سرور حاصل ہوگا، اس کے سامنے دنیا کی ہر نعمت ہیچ ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| کیف / سرور | روحانی مستی یا نشہ / دلی خوشی اور سکون |
| شجر / حجر / شمس و قمر | درخت / پتھر / سورج اور چاند |
| روحِ مضطر | تڑپتی ہوئی یا بے چین روح |
| طلب سے سِوا | امید اور چاہت سے بھی کہیں بڑھ کر |
| بقیع / مکیں | جنت البقیع (مدینہ کا مشہور قبرستان) / رہنے والے یا دفن |
| دل جِلا | دل کی پاکیزگی یا روح کا زندہ ہونا |
| رختِ سفر | سفر کا سامان یا تیاری |
اس نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ سفرِ مدینہ کوئی عام سفر نہیں بلکہ گناہگار روحوں کے لیے شفا ہے، جہاں سبز گنبد کا نور دلوں پر جمی گناہوں کی کائی (زنگ) کو دور کر کے اسے نئی زندگی بخشتا ہے۔ شاعر اپنے گندے قدموں اور آقا ﷺ کے پاک حرم کا موازنہ کرتے ہوئے خوف اور ندامت سے کانپ رہا ہے اور رب سے اپنی لاج رکھنے کی دعا کرتا ہے۔ آخر میں وہ صوفیانہ رنگ میں فرماتے ہیں کہ اس پاک سفر کا اصل لطف تبھی ہے جب انسان اپنے مرشدِ کامل کے ہمراہ ان کا ہاتھ تھام کر پکارے کہ 'چل عبیدِ رضا، میں مدینے چلا'۔
لیرکس کے مطابق، گنبدِ خضریٰ (سبز گنبد) کا نور دل سے کس چیز کو دور کر دے گا؟