मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 52 بار دیکھا گیا
,
عنوان: پائی شبِ برأت یہ قسمت کی بات ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: راؤ علی حسنین
شامل کیا گیا: 23 Feb, 2024 05:57 AM IST
دیکھا گیا: 812
Time to read: 1 min read
شبِ برأت، شبِ برأت
شبِ برأت، شبِ برأت
پائی شبِ برأت یہ قسمت کی بات ہے
جاگوں گا ساری رات، عبادت کی رات ہے
پائی شبِ برأت یہ قسمت کی بات ہے
شبِ برأت، شبِ برأت
شبِ برأت، شبِ برأت
مرضِ گناہ گاری سے توبہ کروں گا میں
فرمانِ مصطفٰی ہے، شفاعت کی رات ہے
جاگوں گا ساری رات، عبادت کی رات ہے
پائی شبِ برأت یہ قسمت کی بات ہے
شبِ برأت، شبِ برأت
شبِ برأت، شبِ برأت
ہو گی قبول سارے طالبگاروں کی فریاد
بس دل سے پکارو، یہ سماعت کی رات ہے
جاگوں گا ساری رات، عبادت کی رات ہے
پائی شبِ برأت یہ قسمت کی بات ہے
شبِ برأت، شبِ برأت
شبِ برأت، شبِ برأت
سجدے کروں گا، اشکِ ندامت بہاوں گا
سب کچھ ملے گا مجھ کو، عنایت کی رات ہے
جاگوں گا ساری رات، عبادت کی رات ہے
پائی شبِ برأت یہ قسمت کی بات ہے
شبِ برأت، شبِ برأت
شبِ برأت، شبِ برأت
سارا جہاں چھوڑ کے مسجد چلو، نادِم!
رحمت ہی رحمتیں ہیں، یہ برکت کی رات ہے
جاگوں گا ساری رات، عبادت کی رات ہے
پائی شبِ برأت یہ قسمت کی بات ہے
شبِ برأت، شبِ برأت
شبِ برأت، شبِ برأت
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام شبِ برأت کی عظمت اور اس مقدس رات میں توبہ و استغفار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جس میں بندہ اپنے گناہوں کی معافی اور اللہ کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ شبِ برأت کا ملنا خوش نصیبی کی علامت ہے تاکہ انسان غفلت کی نیند چھوڑ کر اپنے رب کی بندگی کرے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ رات گناہوں کی بیماری سے نجات پانے اور حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق شفاعت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے، جہاں ہر سچے طلبگار کی پکار سنی جاتی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| مرضِ گناہ گاری | گناہوں کی بیماری (The disease of sinning) |
| شفاعت | بخشش کی سفارش (Intercession) |
| طالبگار | طلب کرنے والا یا خواہش مند (Seeker) |
| سماعت | سننے کا عمل یا شنوائی (Hearing) |
| اشکِ ندامت | شرمندگی کے آنسو (Tears of repentance) |
| عنایت | مہربانی یا بخشش (Blessing/Grace) |
| نادِم | شرمندہ ہونے والا (شاعر کا تخلص) |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ شبِ برأت برکتوں اور رحمتوں والی رات ہے جس میں سجدوں اور آنسوؤں کے ذریعے اللہ کو راضی کیا جا سکتا ہے۔ شاعر 'نادِم' نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا کے تمام کام چھوڑ کر مسجد کی طرف رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ رات مانگنے والوں کے لیے رب کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے۔
شاعر کے مطابق اس رات کو "عبادت کی رات" کیوں کہا گیا ہے اور اس کا تعلق قسمت سے کیا ہے؟