मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: نُوری محفل پہ چادر تنی نُور کی
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: لائبہ فاطمہ
شامل کیا گیا: 25 Feb, 2024 06:31 AM IST
دیکھا گیا: 892
Time to read: 3 min read
نُوری محفل پہ چادر تنی نُور کی،
نُور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈُوبے ہوئے دوجہاں،
کون جلوہ نُما آج کی رات ہے
عَرش پر دُھوم ہے فرش پر دُھوم ہے،
ہے وہ بَدبخت جو آج محروم
پھر یہ آئے گی شب کِس کو معلوم ہے،
ہم پہ لُطفِ خُدا آج کی رات ہے
نُوری محفل پہ چادر تنی نُور کی،
نُور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈُوبے ہوئے دوجہاں،
کون جلوہ نُما آج کی رات ہے
اَبرِ رحمت ہیں محفل پہ چھائے ہوئے،
آسماں سے ملائک ہیں آئے ہوئے
خود محمّد ﷺ ہیں تشریف لائے ہوے،
کِس قدر جانفزا آج کی رات ہے
نُوری محفل پہ چادر تنی نُور کی،
نُور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈُوبے ہوئے دوجہاں،
کون جلوہ نُما آج کی رات ہے
مانگ لو مانگ لو چشمِ تر مانگ لو،
دَردِ دِل اور حُسنِ نظر مانگ لو
کملی والے کی نگری میں گھر مانگ لو،
مانگنے کا مزا آج کی رات ہے
نُوری محفل پہ چادر تنی نُور کی،
نُور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈُوبے ہوئے دوجہاں،
کون جلوہ نُما آج کی رات ہے
مومنو آج گنجِ سخا لُوٹ لو،
لُوٹ لو اَے مریضو شِفا لُوٹ لو
عاصیو رحمتِ مصطفےٰ لُوٹ لو،
بابِ رحمت کُھلا آج کی رات ہے
نُوری محفل پہ چادر تنی نُور کی،
نُور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈُوبے ہوئے دوجہاں،
کون جلوہ نُما آج کی رات ہے
خوب ہونے دو اشکوں کی برسات کو،
دو سلامی محمّد ﷺ کی بارات کو
چوم لو چوم لو آج کی رات ہے،
شبِ قدر کی گما آج کی رات ہے
نُوری محفل پہ چادر تنی نُور کی،
نُور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈُوبے ہوئے دوجہاں،
کون جلوہ نُما آج کی رات ہے
وقت لائے خُدا سب مدینے چلیں،
لُوٹنے رحمتوں کے خزینے چلیں
سب کے منزل کی جانب سفینے چلیں،
میری صاؔئم دُعا آج کی رات ہے
نُوری محفل پہ چادر تنی نُور کی،
نُور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈُوبے ہوئے دوجہاں،
کون جلوہ نُما آج کی رات ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ پُرنور کلام شبِ برات کی بیداری کی فضیلت کو بیان کرتا ہے۔ اس میں زمین سے لے کر عرشِ بریں تک چھائی ہوئی خوشیوں اور رحمتوں کا ذکر نہایت عقیدت سے کیا گیا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ آج کی رات کائنات کا ذرہ ذرہ نور میں نہایا ہوا ہے کیونکہ یہ حضور ﷺ کی آمد اور جلوہ گری کی رات ہے۔ وہ مسلمانوں کو ترغیب دیتا ہے کہ اس مبارک گھڑی میں اپنی جھولیاں بھر لیں، گناہوں کی معافی مانگیں اور مدینے کی حاضری کی دعا کریں، کیونکہ آج رحمت کے تمام دروازے کھلے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جلوہ نما | ظاہر ہونا / نمودار ہونا |
| عرش و فرش | آسمان اور زمین |
| ملائک | فرشتے |
| جانفزا | روح کو تازگی دینے والی |
| چشمِ تر | رونے والی آنکھ (آنسوؤں سے بھری) |
| گنجِ سخا | سخاوت کا خزانہ |
| عاصیو | گناہگارو |
| سفینے | کشتیاں (کامیابی کی راہیں) |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسی مقدّس راتیں اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہیں جن میں مانگنے والے کو کبھی محروم نہیں رکھا جاتا۔ شاعر کہتا ہے کہ خوش نصیب ہیں وہ جو اس رات کی برکتوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں، اور اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان رو رو کر اپنے رب کو منا لے اور آقائے دو جہاں ﷺ کی شفاعت کا حقدار بن جائے۔
نعت کے آخر میں شاعر "صائم" نے کیا دعا کی ہے، اور انہوں نے "مدینے" جانے کے حوالے سے کن الفاظ کا استعمال کیا ہے؟