मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: نانا کے لاڈ پیار کا ایسا صلا دیا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: طاہر رضا رامپوری
نعت خوان/ فنکار: طاہر رضا رامپوری
شامل کیا گیا: 26 Sep, 2022 03:00 PM IST
دیکھا گیا: 1.6K
Time to read: 1 min read
نانا کے لاڈ پیار کا ایسا صلا دیا،
گردن کٹا کے دین کا رتبہ بڑھا دیا
دے کر لہو کا ایک ایک قطرہ حُسی٘ن نے،
کرب و بلا کے زررو کو تارہ بنا دیا
نانا کے لاڈ پیار کا ایسا صلا دیا،
گردن کٹا کے دین کا رتبہ بڑھا دیا
کیوں عاقبت کا تجھے نہ آیا ذرا خیال،
کیا سوچ کے حُسی٘ن پے خنجر چلا دیا
نانا کے لاڈ پیار کا ایسا صلا دیا،
گردن کٹا کے دین کا رتبہ بڑھا دیا
پیارے نبی کے دین پر زینب نے قیمتی،
اپنا عزیز جان وہ ہیرا لٹا دیا
نانا کے لاڈ پیار کا ایسا صلا دیا،
گردن کٹا کے دین کا رتبہ بڑھا دیا
طاہر سلام کرتا ہے اپنے حُسسیں کو،
دین نبی کے واسطے سب کچھ لٹا دیا
نانا کے لاڈ پیار کا ایسا صلا دیا،
گردن کٹا کے دین کا رتبہ بڑھا دیا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دل دوز اور عقیدت سے لبریز منقبت نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی اپنے نانا، حضورِ اکرم ﷺ کے دین کی خاطر دی گئی لازوال قربانی اور میدانِ کربلا میں ان کے صبر و استقامت کا ایک نہایت خوبصورت بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ حضرت امام حسینؑ نے اپنے نانا ﷺ کے لاڈ پیار کا حق اس طرح ادا کیا کہ حق کی راہ میں اپنی گردن کٹا کر دینِ اسلام کا مرتبہ کائنات میں بلند کر دیا۔ انہوں نے کربلا کی تپتی ریت پر اپنے پاکیزہ خون کا ایک ایک قطرہ بہا کر وہاں کے مٹی کے ذروں کو بھی ستاروں کی طرح ہمیشہ کے لیے روشن اور یادگار بنا دیا۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| صلا (صلہ) | بدلہ / اکرام یا جزا |
| رتبہ | مقام / عزت یا بلند مرتبہ |
| ذروں | مٹی کے چھوٹے ٹکڑے / خاک کے ذرات |
| عاقبت | آخرت / مرنے کے بعد کا انجام |
| عزیزِ جان | جان سے پیارا / بہت لاڈلا |
| طاہر | پاکیزہ (یہاں مراد نعت گو شاعر کا نام یا تخلص ہے) |
شاعر کہتا ہے کہ امام حسینؑ نے دینِ مصطفیٰؐ کی بقا کے لیے اپنا سب کچھ نساور کر دیا۔ وہ اس شقی القلب دشمن سے سوال کرتا ہے کہ تجھے نواسۂ رسولؐ پر خنجر چلاتے ہوئے آخرت (عاقبت) کے عذاب کا ذرا بھی خوف کیوں نہ آیا؟ اس عظیم مقصد میں ان کی باوفا بہن حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے بھی اپنے جگر گوشوں (ہیروں) کو قربان کر کے وفا کی حد کر دی، جس پر شاعر 'طاہر' امام عالی مقامؑ کے حضور دل سے سلام پیش کرتا ہے۔
شاعر کے مطابق، ظالم نے نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسینؓ پر خنجر چلاتے وقت کس چیز کا ذرا بھی خیال نہیں کیا تھا؟