, مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے Lyrics In اردو

(مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے, بن کے سرکار کا مہمان مدینے میں رہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: اعظم چشتی

نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم

شامل کیا گیا: 19 Mar, 2023 12:51 PM IST

دیکھا گیا: 520

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے
بن کے سرکار کا مہمان مدینے میں رہے

دور رہ کر بھی اٹھاتا ہو حضوری کے مزے
میں یہاں ہوں اور میری جان مدینے میں رہے

اللہ اللہ سرافزائی صحرائے حجاز
ساری مخلوق کا سلطان مدینے میں رہے

ان کی الفت غمِ کونین بھلا دیتی ہے
جتنے دن کا مہمان مدینے میں رہے

چھوڑ آیا ہوں دل و جان یہ کہہ کر اعظم
آ رہا ہوں، میرا سامان مدینے میں رہے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ دربارِ رسالت ﷺ میں حاضری کی تڑپ، دلی حسرت اور والہانہ محبت سے لبریز ایک نہایت رقت آمیز اور خوبصورت نعتِ پاک ہے، جس میں شاعر خود کو گنہگار جانتے ہوئے بھی مدینہ منورہ کی دائمی مہمانی اور قربت کا طلب گار ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان پُر سوز اشعار کا مطلب ہے کہ "مجھ جیسا خطا کار اور گنہگار انسان بھی مدینہ شریف میں مقیم ہو جائے اور اسے دو جہاں کے مالک، سرکارِ دو عالم ﷺ کا مہمان بننے کا شرف حاصل ہو جائے۔" شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ میں جسمانی طور پر مدینے سے دور ہوں، لیکن میری روح اور میری جان ہر وقت مدینہ منورہ میں ہی رہے تاکہ میں دور رہ کر بھی وہاں کی باطنی حاضری (حضوری) کا لطف اٹھاتا رہوں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظمعنی (Meanings)
خطا کارگنہگار / غلطیاں اور قصور کرنے والا
حضوریپاک بارگاہ میں حاضری یا موجودگی کا احساس
سرافزائی (سر افرازی)عزت بڑھانا / سربلندی اور افتخار
صحرائے حجازسرزمینِ عرب یا حجاز کا ریگستان
مخلوق / سلطانتمام کائنات اور جاندار / بادشاہ یا شہنشاہ
الفت / غمِ کونینمحبت و پیار / دونوں جہانوں کے دکھ اور پریشانیاں
اعظمشاعر کا تخلص (قلمی نام)

خلاصہ (Summary)

اس کلامِ بلاغت نظام کا لبِ لباب یہ ہے کہ صحرائے حجاز کی قسمت پر پوری کائنات ناز کرتی ہے کیونکہ وہاں ساری مخلوق کے سچے سلطان ﷺ آرام فرما ہیں۔ حضور ﷺ کی سچی محبت اور الفت انسان کو دونوں جہانوں کے تمام دکھوں اور فکروں سے آزاد کر دیتی ہے۔ شاعر 'اعظم' کہتا ہے کہ جب وہ مدینے کی گلیوں سے رخصت ہونے لگا، تو اپنا دل اور اپنی جان وہیں چھوڑ آیا اور یہاں صرف اپنا خالی جسم لے کر واپس آیا ہے کیونکہ اس کا حقیقی سرمایہ اب مدینہ ہی ہے۔

شاعر کے مطابق، نبی ﷺ کی الفت (محبت) انسان کو کس دکھ سے آزاد کر دیتی ہے اور وہ مدینہ چھوڑتے وقت وہاں کیا رکھ کر آیا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں