मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اعظم چشتی
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 19 Mar, 2023 12:51 PM IST
دیکھا گیا: 520
Time to read: 1 min read
مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے
بن کے سرکار کا مہمان مدینے میں رہے
دور رہ کر بھی اٹھاتا ہو حضوری کے مزے
میں یہاں ہوں اور میری جان مدینے میں رہے
اللہ اللہ سرافزائی صحرائے حجاز
ساری مخلوق کا سلطان مدینے میں رہے
ان کی الفت غمِ کونین بھلا دیتی ہے
جتنے دن کا مہمان مدینے میں رہے
چھوڑ آیا ہوں دل و جان یہ کہہ کر اعظم
آ رہا ہوں، میرا سامان مدینے میں رہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دربارِ رسالت ﷺ میں حاضری کی تڑپ، دلی حسرت اور والہانہ محبت سے لبریز ایک نہایت رقت آمیز اور خوبصورت نعتِ پاک ہے، جس میں شاعر خود کو گنہگار جانتے ہوئے بھی مدینہ منورہ کی دائمی مہمانی اور قربت کا طلب گار ہے۔
ان پُر سوز اشعار کا مطلب ہے کہ "مجھ جیسا خطا کار اور گنہگار انسان بھی مدینہ شریف میں مقیم ہو جائے اور اسے دو جہاں کے مالک، سرکارِ دو عالم ﷺ کا مہمان بننے کا شرف حاصل ہو جائے۔" شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ میں جسمانی طور پر مدینے سے دور ہوں، لیکن میری روح اور میری جان ہر وقت مدینہ منورہ میں ہی رہے تاکہ میں دور رہ کر بھی وہاں کی باطنی حاضری (حضوری) کا لطف اٹھاتا رہوں۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| خطا کار | گنہگار / غلطیاں اور قصور کرنے والا |
| حضوری | پاک بارگاہ میں حاضری یا موجودگی کا احساس |
| سرافزائی (سر افرازی) | عزت بڑھانا / سربلندی اور افتخار |
| صحرائے حجاز | سرزمینِ عرب یا حجاز کا ریگستان |
| مخلوق / سلطان | تمام کائنات اور جاندار / بادشاہ یا شہنشاہ |
| الفت / غمِ کونین | محبت و پیار / دونوں جہانوں کے دکھ اور پریشانیاں |
| اعظم | شاعر کا تخلص (قلمی نام) |
اس کلامِ بلاغت نظام کا لبِ لباب یہ ہے کہ صحرائے حجاز کی قسمت پر پوری کائنات ناز کرتی ہے کیونکہ وہاں ساری مخلوق کے سچے سلطان ﷺ آرام فرما ہیں۔ حضور ﷺ کی سچی محبت اور الفت انسان کو دونوں جہانوں کے تمام دکھوں اور فکروں سے آزاد کر دیتی ہے۔ شاعر 'اعظم' کہتا ہے کہ جب وہ مدینے کی گلیوں سے رخصت ہونے لگا، تو اپنا دل اور اپنی جان وہیں چھوڑ آیا اور یہاں صرف اپنا خالی جسم لے کر واپس آیا ہے کیونکہ اس کا حقیقی سرمایہ اب مدینہ ہی ہے۔
شاعر کے مطابق، نبی ﷺ کی الفت (محبت) انسان کو کس دکھ سے آزاد کر دیتی ہے اور وہ مدینہ چھوڑتے وقت وہاں کیا رکھ کر آیا ہے؟