मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 68 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میرے سرکار گلزارِ ملت کی کیا شان ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 25 Apr, 2026 10:09 AM IST
دیکھا گیا: 129
Time to read: 1 min read
میرے سرکار گلزارِ ملت کی کیا شان ہے،
میرے سرکار گلزارِ ملت کی کیا شان ہے
وہ جو آئے ہیں ان سے روشن ہر ایک مکان ہے،
چمن میں مہکتی ہے جن کی خوشبو،
محبت کی راہوں میں وہی تو جگنو،
اجالے ہی اجالے اب تو ہر ایک طرف،
گلزارِ ملت کا ہر ایک کام مہان ہے
میرے سرکار گلزارِ ملت کی کیا شان ہے،
میرے سرکار گلزارِ ملت کی کیا شان ہے
نبی کے نقشِ قدم پر وہ چلتے ہیں،
وہ حق کے لیے ہر دم ہی جلتے ہیں،
نہیں کوئی ان سے بڑا اس زمانے میں،
میرے سرکار کا اندازِ بیاں مہان ہے
میرے سرکار گلزارِ ملت کی کیا شان ہے،
میرے سرکار گلزارِ ملت کی کیا شان ہے
انہیں دل سے اب تو پیار کرتے ہیں،
ہم تو سرکار پر ہی دم بھرتے ہیں،
گلزارِ ملت کی شان ہے نرالی،
وہ تو میرے سرکار کا ہی تو مان ہے
میرے سرکار گلزارِ ملت کی کیا شان ہے،
میرے سرکار گلزارِ ملت کی کیا شان ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نبی ﷺ کی سنتوں پر چلنے والے ایک سچے رہبر کی عظمت کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے آنے سے دین کی راہیں روشن ہوئی ہیں اور ان کا ہر عمل نبی ﷺ کے نقشِ قدم کی پیروی کی گواہی دیتا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ گلزارِ ملت کی آمد سے زمانے میں ہدایت کا اجالا پھیلا ہے اور ان کے اخلاق کی خوشبو سے محبت کے راستے مہک رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ان کی بڑائی کا راز یہ ہے کہ وہ ہمیشہ حق اور سچائی کے لیے کھڑے رہتے ہیں اور ان کے کلام کی تاثیر دلوں کو موہ لیتی ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| گلزارِ ملت | قوم کا باغ (Garden of the Nation) |
| نقشِ قدم | قدموں کے نشان (Footsteps) |
| حق | سچائی (Truth) |
| اندازِ بیاں | بات کرنے کا طریقہ (Way of expression) |
| دم بھرنا | بھروسہ یا عقیدت رکھنا (To have deep faith) |
| مہان | عظیم / بڑا (Great) |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کی اصل پہچان اس کا کردار اور نبی ﷺ کی اتباع ہے۔ گلزارِ ملت کی شخصیت کو ایک ایسی شمع سے تشبیہ دی گئی ہے جو حق کی خاطر جلتی ہے اور اپنے میٹھے لہجے اور نیک کاموں سے معاشرے میں دین کا وقار بلند کر رہی ہے۔
کلام کے مطابق، گلزارِ ملت کس کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں اور ان کا کون سا انداز مہان بتایا گیا ہے؟