, میرے خواجہ کا میلہ آیا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

میرے خواجہ کا میلہ آیا Lyrics In اردو

(میرے خواجہ کا میلہ آیا, پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ یا خواجہ)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: میرے خواجہ کا میلہ آیا

زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 03 Jan, 2024 09:00 AM IST

دیکھا گیا: 1K

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

خواجہ پیا! خواجہ پیا!
خواجہ پیا! خواجہ پیا!

اجمیر کی سندر نگری میں
ولیوں کے راجا رہتے ہیں
اس دیس کا، یارو! کیا کہنا!
جس دیس میں خواجہ رہتے ہیں

میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا

زمانہ کچھ بھی کہے، میرا آسرا خواجہ
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ

میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا

مجھے تو دین بھی، دنیا بھی ان کے دَر سے ملی
زمانے بھر کی خوشی ان کے رہ گزر سے ملی
قدم قدم پہ ہوئے میرے رہنما خواجہ
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ

میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا

زمانہ یوں ہی تو کہتا نہیں غریب نواز
تمام دنیا میں ہوتی ہے آج نذر و نیاز
کہ فیضِ عام جو جاری ہے آپ کا، خواجہ!
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ

میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا

میں لڑ رہا ہوں جو طوفانِ غم کی موجوں سے
نکل کے آیا ہوں بحرِ عالم کی موجوں سے
ہے میری کشتیءِ ہستی کے ناخدا خواجہ
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ

میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا

وہی ہے فرق شریعت میں اور طریقت میں
جو سلسلہ ہے عقیدت میں اور محبت میں
کوئی بھی شکل ہو، ہے اس کا آئینہ خواجہ
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ

میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا

جنہیں تلاش ہے حق کی وہ اس طرف آئیں
حضورِ خواجہ عقیدت کے پھول برسائیں
رسول سے ہے خدا تک کا سلسلہ خواجہ
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ

میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ منقبت حضرت خواجہ غریب نواز (رح) کی بارگاہ میں عقیدت کا نذرانہ ہے، جس میں اجمیر شریف کی عظمت اور خواجہ صاحب کی روحانی سرپرستی کا ذکر نہایت والہانہ انداز میں کیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ شاعر کے لیے دین و دنیا کی تمام بھلائیاں خواجہ غریب نواز کے در سے وابستہ ہیں۔ وہ آپ کو اپنی زندگی کی کشتی کا ملاح (ناخدا) تصور کرتا ہے جو اسے غموں کے طوفان سے نکال کر ساحلِ مراد تک پہنچاتے ہیں، اور زمانے کی پروا کیے بغیر صرف آپ ہی کو اپنا اصل آسرا مانتا ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
رہ گزرراستہ یا گلی (Path)
نذر و نیازصدقہ و خیرات یا عقیدت کا نذرانہ
فیضِ عامسب کے لیے عام بھلائی یا سخاوت
بحرِ عالمدکھوں اور غموں کا سمندر
کشتیءِ ہستیزندگی کی ناؤ (Boat of life)
ناخداملاح یا کشتی چلانے والا (Captain)
حقسچائی یا اللہ تعالیٰ کی ذات

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ اجمیر وہ مبارک بستی ہے جہاں "ولیوں کے راجا" قیام پذیر ہیں اور جن کا فیض پوری دنیا میں جاری و ساری ہے۔ شاعر کے نزدیک شریعت اور طریقت کا حسین سنگم آپ کی ذات ہے، اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک پہنچنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے خواجہ معین الدین چشتی کی چوکھٹ ایک مضبوط وسیلہ ہے۔

شاعر نے اپنی "کشتیِ ہستی" (زندگی کی ناؤ) کا "ناخدا" (ملاح) خواجہ غریب نواز کو کیوں کہا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

Manqabat Lyrics

سبھی دیکھیں