मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 67 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میرے خواجہ کا میلہ آیا
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: حافظ ڈاکٹر نثار احمد مارفانی
شامل کیا گیا: 03 Jan, 2024 09:00 AM IST
دیکھا گیا: 1K
Time to read: 2 min read
خواجہ پیا! خواجہ پیا!
خواجہ پیا! خواجہ پیا!
اجمیر کی سندر نگری میں
ولیوں کے راجا رہتے ہیں
اس دیس کا، یارو! کیا کہنا!
جس دیس میں خواجہ رہتے ہیں
میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا
زمانہ کچھ بھی کہے، میرا آسرا خواجہ
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ
میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا
مجھے تو دین بھی، دنیا بھی ان کے دَر سے ملی
زمانے بھر کی خوشی ان کے رہ گزر سے ملی
قدم قدم پہ ہوئے میرے رہنما خواجہ
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ
میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا
زمانہ یوں ہی تو کہتا نہیں غریب نواز
تمام دنیا میں ہوتی ہے آج نذر و نیاز
کہ فیضِ عام جو جاری ہے آپ کا، خواجہ!
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ
میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا
میں لڑ رہا ہوں جو طوفانِ غم کی موجوں سے
نکل کے آیا ہوں بحرِ عالم کی موجوں سے
ہے میری کشتیءِ ہستی کے ناخدا خواجہ
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ
میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا
وہی ہے فرق شریعت میں اور طریقت میں
جو سلسلہ ہے عقیدت میں اور محبت میں
کوئی بھی شکل ہو، ہے اس کا آئینہ خواجہ
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ
میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا
جنہیں تلاش ہے حق کی وہ اس طرف آئیں
حضورِ خواجہ عقیدت کے پھول برسائیں
رسول سے ہے خدا تک کا سلسلہ خواجہ
پکارتا ہی رہوں گا ہمیشہ، یا خواجہ
میرے خواجہ کا میلہ آیا
میرے خواجہ کا میلہ آیا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت حضرت خواجہ غریب نواز (رح) کی بارگاہ میں عقیدت کا نذرانہ ہے، جس میں اجمیر شریف کی عظمت اور خواجہ صاحب کی روحانی سرپرستی کا ذکر نہایت والہانہ انداز میں کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ شاعر کے لیے دین و دنیا کی تمام بھلائیاں خواجہ غریب نواز کے در سے وابستہ ہیں۔ وہ آپ کو اپنی زندگی کی کشتی کا ملاح (ناخدا) تصور کرتا ہے جو اسے غموں کے طوفان سے نکال کر ساحلِ مراد تک پہنچاتے ہیں، اور زمانے کی پروا کیے بغیر صرف آپ ہی کو اپنا اصل آسرا مانتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| رہ گزر | راستہ یا گلی (Path) |
| نذر و نیاز | صدقہ و خیرات یا عقیدت کا نذرانہ |
| فیضِ عام | سب کے لیے عام بھلائی یا سخاوت |
| بحرِ عالم | دکھوں اور غموں کا سمندر |
| کشتیءِ ہستی | زندگی کی ناؤ (Boat of life) |
| ناخدا | ملاح یا کشتی چلانے والا (Captain) |
| حق | سچائی یا اللہ تعالیٰ کی ذات |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ اجمیر وہ مبارک بستی ہے جہاں "ولیوں کے راجا" قیام پذیر ہیں اور جن کا فیض پوری دنیا میں جاری و ساری ہے۔ شاعر کے نزدیک شریعت اور طریقت کا حسین سنگم آپ کی ذات ہے، اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک پہنچنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے خواجہ معین الدین چشتی کی چوکھٹ ایک مضبوط وسیلہ ہے۔
شاعر نے اپنی "کشتیِ ہستی" (زندگی کی ناؤ) کا "ناخدا" (ملاح) خواجہ غریب نواز کو کیوں کہا ہے؟