मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 49 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میرے دل میں بسا ہے پیار مدینے والے کا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: خواجہ غلام سرور
نعت خوان/ فنکار: خواجہ غلام سرور میر حسن مصطفائی
شامل کیا گیا: 14 Oct, 2022 07:02 AM IST
دیکھا گیا: 7.2K
Time to read: 2 min read
میرے دل میں بسا ہے پیار مدینے والے کا،
میں بن جاؤں بیمار مدینے والے کا
ول٘یں اُن کی زُلْفیں وَالشَّمۡسِ اُن کا چہرہ،
انہيں رب نے بنایا ایسا نہیں کوئی ان کے جیسا،
نہیں کوئی جواب ہے یار مدینے والے کا
میرے دل میں بسا ہے پیار مدینے والے کا
غوثُ الوریٰ کے پیارے دامن کو بھردو میرے،
اے میرے شاہ جی بابا چشمِ عنایت کردو،
دے دو صدقہ سرکار مدینے والے کا
میرے دل میں بسا ہے پیار مدینے والے کا
یہ کرتے ہیں اعلان علی کے دیوانے،
دے دینگے علی پے جان علی کے دیوانے،
لگتا ہے اور لگےگا خواجہ حسن کا نارا،
جس نے ادھورے دین کو لاھول پڑھ کے مارا،
جہاں آیا نظر گدّار مدینے والے کا
میرے دل میں بسا ہے پیار مدینے والے کا
اِس پار علی کے دیوانے اُس پار علی کے دیوانے،
کیسے دیکھے دربار علی کے دیوانے،
ماحول بنا دے سارا کردے دیوانہ موسم،
گھُل جاۓ فضا میں نعتِ ہو جائے حسین یہ عالم،
مل جائے جہاں دو چار علی کے دیوانے
میرے دل میں بسا ہے پیار مدینے والے کا
جب چاہے جہاں پے چاہے اے دشمنانے دین آجانا،
جسے جیسے چاہے ٹکرانا جیسے چاہے لڈ جانا،
ہر موڈ پے ہے تیّار علی کے دیوانوے،
سرور دنیا سے کہ دو ہم بدر و عہد والے ہے،
ہم ایسے غُلامِ ہم ایسے متوالے ہے،
مانيگے کہا ہم ہر علی کے دیوانے
محفل یہ نوری منظر شاندار ہوگا،
ایک نارا لگے دمدار مدینے والے کا
میرے دل میں بسا ہے پیار مدینے والے کا،
میں بن جاؤں بیمار مدینے والے کا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام حضور اکرم ﷺ کی بے مثال خوبصورتی، ان سے سچی محبت اور مولا علیؑ کے جانثاروں کے ایمانی جذبے کا ایک ولولہ انگیز بیان ہے، جس میں آقا ﷺ کی غلامی کو دنیا کا سب سے بڑا اعزاز بتایا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ شاعر کا دل مدینے والے آقا ﷺ کے عشق کا مسکن بن چکا ہے اور وہ اسی محبت میں فنا ہو جانا چاہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ رب کریم نے اپنے محبوب ﷺ کو ایسا حسین بنایا ہے کہ کائنات میں ان کی کوئی دوسری مثال نہیں، اور جہاں بھی علیؑ کے دیوانے اکٹھے ہوتے ہیں، وہاں فضا نعتوں کے نور سے مہک اٹھتی ہے۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| بیمار | عشق میں ڈوبا ہوا (یہاں مراد عشقِ رسول ﷺ ہے) |
| واللیل / والشمس | قرآن کی سورتیں (مراد حضور ﷺ کی زلفیں اور چہرہِ مبارک) |
| چشمِ عنایت | کرم کی نظر / مہربانی کی نگاہ |
| صدقہ | کسی کے نام پر دی جانے والی خیرات یا بھیک |
| لاہول پڑھنا | برائی یا شر کو دور بھگانا |
| فضا / عالم | ماحول / دنیا اور کائنات |
| بدر و احد | اسلام کے ابتدائی معرکے (بہادری کی علامت) |
مدینے والے مصطفیٰ ﷺ کا حسن اور مرتبہ سب سے جدا ہے اور ان کے در کا صدقہ ہر سائل کی جھولی بھر دیتا ہے۔ علیؑ کے شیدائی اپنے اندر بدر و احد کے غازیوں جیسا حوصلہ رکھتے ہیں، اسی لیے وہ دین کے دشمنوں کے سامنے ہر موڑ پر حق کی خاطر ڈٹ جانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور کبھی ہار نہیں مانتے۔
شاعر کے مطابق، جب 'علی کے دیوانے' دو چار کی تعداد میں مل جاتے ہیں، تو وہاں کا ماحول اور فضا کیسی ہو جاتی ہے؟