मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میرا نبی لاجواب ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 16 Oct, 2023 03:13 PM IST
دیکھا گیا: 917
Time to read: 2 min read
میرا نبی لاجواب ہے، میرا نبی لاجواب ہے
میرا نبی لاجواب ہے، میرا نبی لاجواب ہے
سب سے اولٰی و اعلیٰ ہمارا نبی
سب سے بالا و اعلیٰ ہمارا نبی
اپنے مولا کا پیارا ہمارا نبی
دونو عالم کا دولہا ہمارا نبی
جسکے تلوو کا دھوون ہے آبِ حیات
وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی
جسکی دو بوند ہے کوثر و سل سبیل
ہائے وہ رحمت کا دریا ہمارا نبی
خلق سے اولیاء، اولیاء سے رسول
اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی
تو کیا خبر کتنے تارے کھِلے چھُپ گئے
پر نا ڈوبے نا ڈوبا ہمارا نبی
مُلکِ کونین میں انبیا تاجدار
تاجدارو کا آقا ہمارا نبی
سارے اُنچو میں اُنچا سمجھیئے جیسے
سارے اُنچو سے اُنچا ہمارا نبی
سارے اچّھو میں اچّھا سمجھیئے جیسے
ہے اُس اچّھو سے اچّھا ہمارا نبی
گمزدوں کا رضا مزدہ دیجئے کی ہے
بیکسوں کا سہارا ہمارا نبی
کون دیتا ہے دینے کو منه چاہیے
دینا والا ہے سچّا ہمارا نبی
میرا نبی لاجواب ہے، میرا نبی لاجواب ہے
میرا نبی لاجواب ہے، میرا نبی لاجواب ہے
اللہ کے حبیب کا چھرہ ہے لاجواب
یعنی خدا کا نور صرافہ ہے لاجواب ہے
میرا نبی لاجواب ہے، میرا نبی لاجواب ہے
میرا نبی لاجواب ہے، میرا نبی لاجواب ہے
جنت میں یہ کہیں گے غلامانِ مُصطفٰی
میرے نبی کا گنبد خضرا ہے لاجواب
میرا نبی لاجواب ہے، میرا نبی لاجواب ہے
نیچے کرو نگاہ کے گُزے گی فاطمہ
اے اہل محشر زہرا کا پردہ ہے لاجواب
میرا نبی لاجواب ہے، میرا نبی لاجواب ہے
میرا نبی لاجواب ہے، میرا نبی لاجواب ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت نعتیہ کلام امام احمد رضا خان قادری (رح) کے شہرہ آفاق اشعار پر مبنی ہے، جو حضور اکرم ﷺ کی بے مثل عظمت، رفعتِ شان اور ان کی کائناتی برتری کا اعتراف ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ کائنات کی ہر شے سے بلند و بالا مقام ہمارے نبی ﷺ کا ہے؛ آپ ﷺ تمام انبیاء کے سردار اور دونوں جہانوں کی رونق ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کی رحمت کا دریا اس قدر وسیع ہے کہ جنت کی نہریں (کوثر و سلسبیل) اس کے سامنے محض دو بوند کی حیثیت رکھتی ہیں اور آپ ﷺ ہی بے سہاروں کا اصل سہارا ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| اولٰی و اعلیٰ | سب سے بہتر اور سب سے بلند |
| آبِ حیات | وہ پانی جس سے ابدی زندگی ملے |
| خلق | مخلوق یا دنیا |
| مزدہ | خوشخبری (Good News) |
| تاجدار | بادشاہ یا صاحبِ تاج |
| نورِ سراپا | سر سے پاؤں تک سراسر نور |
| اہلِ محشر | قیامت کے دن جمع ہونے والے لوگ |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد کائنات میں سب سے افضل، حسین اور سچا دینے والا صرف ہمارا نبی ﷺ ہے۔ آپ ﷺ کا مرتبہ اولیاء اور رسولوں سے بھی اعلیٰ ہے اور آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ غم زدوں کے لیے جائے پناہ ہے۔ کلام کے آخر میں اہل بیت (حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا) کی عظمت اور گنبدِ خضرا کی بے مثال خوبصورتی کا ذکر کر کے آپ ﷺ کو "لاجواب" قرار دیا گیا ہے۔
شاعر نے نبی ﷺ کو "بے کسوں کا سہارا" اور "سچا دینے والا" کیوں کہا ہے؟