मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 ہفتے پہلے fiber_manual_record 303 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میرا عمل ہے سیاہ نامہ مجھے خدایا معاف کر دے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علامہ نثار علی اجاگر
نعت خوان/ فنکار: حافظ طاہر قادری
شامل کیا گیا: 18 Apr, 2023 09:19 PM IST
دیکھا گیا: 1.2K
Time to read: 2 min read
مولا میرے مولا! مولا میرے مولا!
توبہ قبول کر لے، توبہ قبول کر لے،
توبہ قبول کر لے، توبہ قبول کر لے
میرا عمل ہے سیاہ نامہ،
مجھے، خدایا! معاف کر دے،
میں جانتا ہوں، تو بخش دے گا،
مجھے، خدایا! معاف کر دے
پہاڑ جیسی میری خطائیں،
مگر بہت ہیں تیری عطائیں،
معاف کرنا شعار تیرا،
مجھے، خدایا! معاف کر دے
یا رب! تیرے کرم، تیری رحمت کا واسطہ،
یا رب! تیری عطا، تیری نعمت کا واسطہ،
یا رب! تیرے جلال و جلالت کا واسطہ،
یا رب! رسولِ حق کی رسالت کا واسطہ
عذاب دے کر تو کیا کرے گا؟
کریم ہے تو، کرم ہی فرما،
سوال کیسا، جواب کیسا،
مجھے، خدایا! معاف کر دے
میرا عمل ہے سیاہ نامہ،
مجھے، خدایا! معاف کر دے،
میں جانتا ہوں، تو بخش دے گا،
مجھے، خدایا! معاف کر دے
نہ دیکھ لغزش، تو دیکھ بخشش،
کرم کی بارش، کی کر نوازش،
میں آبِ بخشش کا ہوں پیاسا،
مجھے، خدایا! معاف کر دے
میرا عمل ہے سیاہ نامہ،
مجھے، خدایا! معاف کر دے،
میں جانتا ہوں، تو بخش دے گا،
مجھے، خدایا! معاف کر دے
اندھیرے شب کے کیے ہیں رُسوا،
اُجالے دن کے کیے ہیں گہنہ،
سراپا جرم و خطا ہوں، مولا!
مجھے، خدایا! معاف کر دے
میرا عمل ہے سیاہ نامہ،
مجھے، خدایا! معاف کر دے،
میں جانتا ہوں، تو بخش دے گا،
مجھے، خدایا! معاف کر دے
یہ ہاتھ باندھے، یہ سر جھکائے،
کھڑا اُجاگر درِ حرم پر،
نویدِ بخشش کا دے اشارہ،
مجھے، خدایا! معاف کر دے
یا رب! تیرے کرم، تیری رحمت کا واسطہ،
یا رب! تیری عطا، تیری نعمت کا واسطہ،
یا رب! تیرے جلال و جلالت کا واسطہ،
یا رب! رسولِ حق کی رسالت کا واسطہ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ بارگاہِ الٰہی میں گناہوں کی معافی اور توبہ کے لیے لکھی گئی ایک نہایت ہی رقت آمیز اور دل سوز 'حمد و مناجات' ہے، جس میں ایک بندہ اپنے پاپوں پر نادم ہو کر سچے دل سے گڑگڑا رہا ہے۔
ان اشعار کا مطلب یہ ہے کہ ایک عاجز بندہ اللہ کے حضور اپنے اعمال کا کالا چٹھا (سیاہ نامہ) تسلیم کر رہا ہے اور اپنی غلطیوں کو پہاڑ جتنا بڑا بتا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگرچہ میں گناہگار ہوں، مگر مجھے پورا یقین ہے کہ معاف کرنا تیرے کرم کا طریقہ ہے اور تو اپنی بے پناہ رحمت سے مجھے ضرور بخش دے گا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| سیاہ نامہ | گناہوں کی کتاب یا کالا نامہِ اعمال |
| شعار | عادت، طریقہ یا فطرت |
| جلال و جلالت | رعب، دبدبہ اور بزرگی |
| لغزش / نوازش | بھول چوک یا گناہ / مہربانی اور کرم |
| سراپا | سر سے پاؤں تک (مکمل طور پر) |
| نویدِ بخشش | مغفرت اور معافی کی خوشخبری |
اس مناجات کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ انسان رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں کیے گئے اپنے تمام چُھپے اور ظاہر گناہوں کا اعتراف کرتا ہے اور خود کو سر سے پاؤں تک صرف خطا کا پتلا مانتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو اس کی رحمت، جلال اور رسولِ پاک ﷺ کی رسالت کا واسطہ دے کر عذاب سے پناہ اور مغفرت کی بھیک مانگتا ہے۔ آخر میں، شاعر 'اُجاگر' کعبہ شریف کے دروازے (درِ حرم) پر ہاتھ باندھے اور سر جھکائے صرف معافی کا ایک چھوٹا سا اشارہ پانے کی امید میں کھڑا ہے۔
لیرکس کے مطابق، بندہ درِ حرم پر کس حالت میں کھڑا ہو کر معافی مانگ رہا ہے؟