اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مرحبا یا مرحبا آئے محمد مصطفیٰ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حسنین اکبر
نعت خوان/ فنکار: فیضُ الحسن فائزی
شامل کیا گیا: 07 Sep, 2025 01:37 PM IST
دیکھا گیا: 140
Time to read: 1 min read
یا مرحبا صلّی اللہ، یا مرحبا صلّی اللہ،
یا مرحبا صلّی اللہ، یا مرحبا صلّی اللہ۔
مرحبا یا مرحبا، آئے محمد مصطفیٰ،
مرحبا یا مرحبا، آئے محمد مصطفیٰ۔
صلّی اللہ، سبحان اللہ، آئے محمد مصطفیٰ۔
آپ جو آئے جگمگ جگمگ ہویا عالم سارا،
عرشیاں فرشیاں ملیا آکے آپؐ دا پاک دوارا۔
ماشاءاللہ، سبحان اللہ، آئے محمد مصطفیٰ۔
مرحبا یا مرحبا، آئے محمد مصطفیٰ۔
عربی سلطان آیا...
اُچّے نِچّے دے شوناں فرق مٹانے آیا...
مرحبا یا مرحبا، آئے محمد مصطفیٰ۔
نور دیاں برساتاں ہوئیاں، مک گئیاں کالیاں راتاں،
جھنڈیاں لے کے جبرئیلِ امین نے پڑھی نعتاں۔
مرحبا یا مرحبا، آئے محمد مصطفیٰ۔
آ گئے پاک عبداللہ دے چاند، آ گئی خوشحالی،
آمنہ پاک دے لال دے صدقے بھر گئے کاسے خالی۔
بادشاہاں دے بادشاہ، آئے محمد مصطفیٰ۔
مرحبا یا مرحبا، آئے محمد مصطفیٰ۔
شوندیاں شونڈیاں نیناں والے رب دے ماہی آئے،
حسنین، اکبر، خوش بختاں نے آپؐ دے جشن منائے۔
اللّٰھم صلِّ اللہ، آئے محمد مصطفیٰ۔
مرحبا یا مرحبا، آئے محمد مصطفیٰ،
مرحبا یا مرحبا، آئے محمد مصطفیٰ۔
صلّی اللہ، سبحان اللہ، آئے محمد مصطفیٰ۔
مرحبا یا مرحبا، آئے محمد مصطفیٰ،
مرحبا یا مرحبا، آئے محمد مصطفیٰ۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام نبی کریم ﷺ کی ولادتِ با سعادت کے جشن اور آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی کا ایک والہانہ اظہار ہے، جس میں اردو اور پنجابی کے خوبصورت ملاپ سے کائنات کی رونقوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ حضور ﷺ کی آمد سے پوری کائنات نور سے جگمگا اٹھی ہے اور زمین و آسمان کی تمام مخلوقات آپ ﷺ کے در پر سلام پیش کر رہی ہیں۔ آپ ﷺ دنیا سے اونچ نیچ اور طبقاتی فرق ختم کرنے اور انسانیت کو جہالت کی کالی راتوں سے نکالنے کے لیے تشریف لائے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| مرحبا | خوش آمدید / جی آیاں نوں |
| عرشیاں فرشیاں | آسمان اور زمین کے رہنے والے (فرشتے اور انسان) |
| پاک دوارا | مقدس چوکھٹ / دربار |
| مک گئیاں | ختم ہو گئیں |
| کالیاں راتاں | تاریک راتیں (مراد دورِ جہالت) |
| کاسے | پیالے (مراد خالی دامن) |
| رب دے ماہی | اللہ کے محبوب ﷺ |
| صدقے | طفیل / برکت سے |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ کے لختِ جگر اور حضرت آمنہ کے لال ﷺ کی آمد سے دنیا میں خوشحالی اور نور کی برسات ہوئی ہے۔ جبرئیلِ امینؑ نے جھنڈے گاڑ کر آپ ﷺ کی آمد کا استقبال کیا اور آپ ﷺ کے صدقے غریبوں کے خالی دامن بھر گئے۔ یہ منقبت پیغام دیتی ہے کہ آپ ﷺ "بادشاہوں کے بادشاہ" ہیں جو انسانیت میں برابری کا درس دینے آئے۔
"اُچّے نِچّے دے شوناں فرق مٹانے آیا" — کیا یہ مصرعہ ہمیں اس عظیم اسلامی سبق کی یاد نہیں دلاتا کہ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے؟