मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 16 Jan, 2024 09:44 AM IST
دیکھا گیا: 1.1K
Time to read: 1 min read
مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے
مکان کی بات کیا ہے، ذکر ان کا لا مکہ میں ہے
جو کانٹوں پر چلے اور ظلم سہ کر بھی دعائیں دیں
یہ خوبی تو فقط میرے رسولِ مہربا میں ہے
مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے
غلامانِ شاہِ کونین لگتا ہے کہ گزرے ہیں
نبی کے عشق کی خوشبو غبارِ کروان میں ہے
وجہ کیا ہے جو تارے آسمان میں جھلملاتے ہیں
سبب کیا ہے جو تارے آسمان پر جھلملاتے ہیں
نبی کے نور کا روغن چراغِ کہکشاں میں ہے
مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے
مکان کی بات کیا ہے، ذکر ان کا لمکہ میں ہیں
مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے
مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ آپ ﷺ کی عظمت، بے مثال اخلاق اور کائنات گیر نور کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی شان زمین و مکاں کی حدود سے ماورا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ گنبدِ خضرا میں آرام فرما نبی ﷺ کا نور دونوں جہانوں میں روشن ہے اور آپ ﷺ کا ذکر عرشِ معلیٰ (لامکاں) تک بلند ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے کانٹوں پر چل کر اور تکالیف سہہ کر بھی لوگوں کو دعائیں دیں، جو آپ ﷺ کے رحم و کرم کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| مکین | رہنے والا / رہائشی (Resident) |
| لامکاں | وہ مقام جو وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہو |
| فقط | صرف (Only) |
| شاہِ کونین | دونوں جہانوں کے بادشاہ (نبی ﷺ) |
| غبارِ کارواں | قافلے کی دھول (Dust of the caravan) |
| روغن | تیل یا چمک (روشن کرنے والا مادہ) |
| کہکشاں | ستاروں کا جھرمٹ (Galaxy) |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ پوری کائنات کی رونق اور ستاروں کی چمک نبی ﷺ کے نور کا صدقہ ہے۔ آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کی خوشبو آج بھی آپ ﷺ کے غلاموں کی یادوں میں بسی ہوئی ہے، اور یہ حقیقت واضح ہے کہ زمین ہو یا آسمان، ہر جگہ آپ ﷺ ہی کے نام کا اجالا پھیلا ہوا ہے۔
شاعر کے مطابق، آسمان کے تاروں اور کہکشاؤں میں چمک کس وجہ سے ہے؟