, مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے Lyrics In اردو

(مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے, مکان کی بات کیا ہے ذکر ان کا لا مکہ میں ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی

نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی

شامل کیا گیا: 16 Jan, 2024 09:44 AM IST

دیکھا گیا: 1.1K

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے
مکان کی بات کیا ہے، ذکر ان کا لا مکہ میں ہے

جو کانٹوں پر چلے اور ظلم سہ کر بھی دعائیں دیں
یہ خوبی تو فقط میرے رسولِ مہربا میں ہے

مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے

غلامانِ شاہِ کونین لگتا ہے کہ گزرے ہیں
نبی کے عشق کی خوشبو غبارِ کروان میں ہے

وجہ کیا ہے جو تارے آسمان میں جھلملاتے ہیں
سبب کیا ہے جو تارے آسمان پر جھلملاتے ہیں

نبی کے نور کا روغن چراغِ کہکشاں میں ہے
مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے

مکان کی بات کیا ہے، ذکر ان کا لمکہ میں ہیں
مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے
مقینِ گنبدِ خضرا کا جلوہ دو جہاں میں ہے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ آپ ﷺ کی عظمت، بے مثال اخلاق اور کائنات گیر نور کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی شان زمین و مکاں کی حدود سے ماورا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ گنبدِ خضرا میں آرام فرما نبی ﷺ کا نور دونوں جہانوں میں روشن ہے اور آپ ﷺ کا ذکر عرشِ معلیٰ (لامکاں) تک بلند ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے کانٹوں پر چل کر اور تکالیف سہہ کر بھی لوگوں کو دعائیں دیں، جو آپ ﷺ کے رحم و کرم کی سب سے بڑی دلیل ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
مکینرہنے والا / رہائشی (Resident)
لامکاںوہ مقام جو وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہو
فقطصرف (Only)
شاہِ کونیندونوں جہانوں کے بادشاہ (نبی ﷺ)
غبارِ کارواںقافلے کی دھول (Dust of the caravan)
روغنتیل یا چمک (روشن کرنے والا مادہ)
کہکشاںستاروں کا جھرمٹ (Galaxy)

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ پوری کائنات کی رونق اور ستاروں کی چمک نبی ﷺ کے نور کا صدقہ ہے۔ آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کی خوشبو آج بھی آپ ﷺ کے غلاموں کی یادوں میں بسی ہوئی ہے، اور یہ حقیقت واضح ہے کہ زمین ہو یا آسمان، ہر جگہ آپ ﷺ ہی کے نام کا اجالا پھیلا ہوا ہے۔

شاعر کے مطابق، آسمان کے تاروں اور کہکشاؤں میں چمک کس وجہ سے ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں