मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 ہفتے پہلے fiber_manual_record 336 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میں کیا بتاؤں کہ کیا مدینہ ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 08 Aug, 2023 01:57 PM IST
دیکھا گیا: 1.5K
Time to read: 1 min read
میں کیا بتاؤں کہ کیا مدینہ ہے،
بس میرا مدعا مدینہ ہے
میں کیا بتاؤں کہ کیا مدینہ ہے،
اُٹھ کے جاؤں کہاں مدینے سے،
کیا کوئی دوسرا مدینہ ہے
میں کیا بتاؤں کہ کیا مدینہ ہے،
دل میں اب کوئی آرزو ہی نہیں،
یا محمد ہے یا مدینہ ہے
میں کیا بتاؤں کہ کیا مدینہ ہے،
اس کی آنکھوں کا نور تو دیکھو،
جس کا دیکھا ہوا مدینہ ہے
میں کیا بتاؤں کہ کیا مدینہ ہے،
دل فِدا ہے مدینے والے پر،
دل منوّر! میرا مدینہ ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ پاک حضور نبیِ کریم ﷺ کے مقدس شہر مدینہ منورہ کی عظمت اور وہاں ملنے والے بے پناہ روحانی سکون کا نہایت پُر اثر اور خوبصورت بیان ہے۔
اس کلام کا مفہوم ہے کہ مدینہ شریف کی شان لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ ایک سچے عاشق کے جینے کا اصل مقصد ہی مدینہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مدینے کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ کائنات میں مدینے جیسی کوئی دوسری جگہ نہیں اور جس نے اسے دیکھ لیا، اس کی آنکھوں کی چمک ہی بدل جاتی ہے۔
| الفاظ (Word) | معنی (Urdu / English Meaning) |
|---|---|
| مدعا | مقصد / خواہش / تمنا (Purpose / Intent) |
| آرزو | تمنا / حسرت (Wish / Desire) |
| نور | روشنی / چمک (Divine Light) |
| فدا | قربان ہونا / صدقے جانا (Sacrificed) |
| منوّر | روشن / چمکدار — یہاں شاعر کا تخلص بھی ہے (Illuminated) |
مدینہ منورہ وہ پاکیزہ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کے دل سے دنیا کی تمام خواہشیں ختم ہو جاتی ہیں اور دل میں صرف حضور ﷺ کی محبت باقی رہتی ہے۔ شاعر 'منور' فرماتے ہیں کہ ان کا دل مدینے والے آقا پر قربان ہے اور ان کے لیے دنیا و آخرت کا سب سے بڑا اثاثہ اور سکون کا گہوارہ صرف مدینہ ہی ہے۔
اس نعت کے مطابق، جس شخص نے اپنی آنکھوں سے مدینہ دیکھا ہے، اس کی آنکھوں میں کس چیز کا اضافہ ہو جاتا ہے؟