, کچھ کریں اپنے یار کی باتیں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں Lyrics In اردو

(کچھ کریں اپنے یار کی باتیں, کچھ دلِ داغدار کی باتیں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: کچھ کریں اپنے یار کی باتیں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: اختر رضا خان ازہری

نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری

شامل کیا گیا: 08 Aug, 2023 02:02 PM IST

دیکھا گیا: 75

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں،
کچھ دلِ داغدار کی باتیں

ہم تو دل اپنا دے ہی بیٹھے ہیں،
اب یہ کیا اختیار کی باتیں

میں بھی گزرا ہوں دورِ اُلفت سے،
مت سُنا مجھ کو پیار کی باتیں

اہلِ دل ہی یہاں نہیں کوئی،
کیا کریں حالِ زار کی باتیں

پی کے جامِ محبتِ جانانا،
اللہ اللہ خمار کی باتیں

مرنا جانا متاعِ دنیا پر،
سن کے تُو مالدار کی باتیں

یوں نہ ہوتے اسیرِ ذلت تم،
سنتے گر ہوشیار کی باتیں

ہر گھڑی وجد میں رہے اختر،
کیجیے اُس دیار کی باتیں

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام عاشقی کی حقیقت، دل کی بے بسی اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں ڈوبے ہوئے انسان کے روحانی جذبات کا نہایت دلکش اور پُر اثر بیان ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

اس کلام کا مفہوم ہے کہ جب انسان اپنا دل اپنے محبوب (حضور ﷺ) کے حوالے کر دیتا ہے، تو پھر اس کا اپنی ذات پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا کی فانی دولت اور مالداروں کی باتوں پر فریفتہ ہونے کے بجائے محبوب کی محبت کا جام پینا چاہیے، جس کا خمار انسان کو دنیاوی فکروں سے آزاد کر دیتا ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظ (Word)معنی (Urdu / English Meaning)
دلِ داغدارعشق کا ستایا ہوا یا زخمی دل (Wounded heart)
اختیارقابو / بس / حق (Control / Authority)
دورِ الفتمحبت کا زمانہ (Era of love)
اہلِ دلصاحبِ بصیرت / دل والے (People of heart)
حالِ زارخستہ یا بری حالت (Miserable condition)
جانانامحبوب / پیارا (Beloved)
خمارنشہ یا سرور (Intoxication)
متاعِ دنیادنیا کی دولت و مال (Wealth of the world)
اسیرِ ذلترسوائی اور ذلت کا قیدی (Prisoner of humiliation)
وجدروحانی مستی یا کیف (Ecstasy / Trance)
دیارشہر یا علاقہ — یہاں مراد مدینہ شریف ہے (Abode / Land)

خلاصہ (Summary)

دنیاوی مال و اسباب کے پیچھے بھاگنے سے انسان صرف رسوائی اور ذہنی پریشانی کا قیدی بنتا ہے۔ شاعر 'اختر' فرماتے ہیں کہ اگر زندگی کی ہر گھڑی میں حقیقی سرور اور روحانی مستی (وجد) مطلوب ہے، تو دنیا کے جھوٹے قصے چھوڑ کر مدینے والے آقا کے پاک دیار کی باتیں کیجیے اور انھی کی محبت میں مگن رہیے۔

اس کلام کے مطابق، شاعر 'اختر' ہر وقت وجد (سرور) میں رہنے کے لیے کس دیار (شہر) کی باتیں کرنے کو کہہ رہے ہیں؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: