मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 74 بار دیکھا گیا
,
عنوان: کچھ کریں اپنے یار کی باتیں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اختر رضا خان ازہری
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 08 Aug, 2023 02:02 PM IST
دیکھا گیا: 75
Time to read: 1 min read
کچھ کریں اپنے یار کی باتیں،
کچھ دلِ داغدار کی باتیں
ہم تو دل اپنا دے ہی بیٹھے ہیں،
اب یہ کیا اختیار کی باتیں
میں بھی گزرا ہوں دورِ اُلفت سے،
مت سُنا مجھ کو پیار کی باتیں
اہلِ دل ہی یہاں نہیں کوئی،
کیا کریں حالِ زار کی باتیں
پی کے جامِ محبتِ جانانا،
اللہ اللہ خمار کی باتیں
مرنا جانا متاعِ دنیا پر،
سن کے تُو مالدار کی باتیں
یوں نہ ہوتے اسیرِ ذلت تم،
سنتے گر ہوشیار کی باتیں
ہر گھڑی وجد میں رہے اختر،
کیجیے اُس دیار کی باتیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام عاشقی کی حقیقت، دل کی بے بسی اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں ڈوبے ہوئے انسان کے روحانی جذبات کا نہایت دلکش اور پُر اثر بیان ہے۔
اس کلام کا مفہوم ہے کہ جب انسان اپنا دل اپنے محبوب (حضور ﷺ) کے حوالے کر دیتا ہے، تو پھر اس کا اپنی ذات پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا کی فانی دولت اور مالداروں کی باتوں پر فریفتہ ہونے کے بجائے محبوب کی محبت کا جام پینا چاہیے، جس کا خمار انسان کو دنیاوی فکروں سے آزاد کر دیتا ہے۔
| الفاظ (Word) | معنی (Urdu / English Meaning) |
|---|---|
| دلِ داغدار | عشق کا ستایا ہوا یا زخمی دل (Wounded heart) |
| اختیار | قابو / بس / حق (Control / Authority) |
| دورِ الفت | محبت کا زمانہ (Era of love) |
| اہلِ دل | صاحبِ بصیرت / دل والے (People of heart) |
| حالِ زار | خستہ یا بری حالت (Miserable condition) |
| جانانا | محبوب / پیارا (Beloved) |
| خمار | نشہ یا سرور (Intoxication) |
| متاعِ دنیا | دنیا کی دولت و مال (Wealth of the world) |
| اسیرِ ذلت | رسوائی اور ذلت کا قیدی (Prisoner of humiliation) |
| وجد | روحانی مستی یا کیف (Ecstasy / Trance) |
| دیار | شہر یا علاقہ — یہاں مراد مدینہ شریف ہے (Abode / Land) |
دنیاوی مال و اسباب کے پیچھے بھاگنے سے انسان صرف رسوائی اور ذہنی پریشانی کا قیدی بنتا ہے۔ شاعر 'اختر' فرماتے ہیں کہ اگر زندگی کی ہر گھڑی میں حقیقی سرور اور روحانی مستی (وجد) مطلوب ہے، تو دنیا کے جھوٹے قصے چھوڑ کر مدینے والے آقا کے پاک دیار کی باتیں کیجیے اور انھی کی محبت میں مگن رہیے۔
اس کلام کے مطابق، شاعر 'اختر' ہر وقت وجد (سرور) میں رہنے کے لیے کس دیار (شہر) کی باتیں کرنے کو کہہ رہے ہیں؟