, کچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

کچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں Lyrics In اردو

(کچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں, ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: کچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 30 Jul, 2023 10:55 AM IST

دیکھا گیا: 158

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

کچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

وہ نور دے مرے پروردگار آنکھوں میں
کہ جلوہ گر رہے رخ کی بہار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

نظر ہو قدموں پہ اُن کے نثار آنکھوں میں
بنائیں اپنا ہوں وہ رہگزار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

بصر کے ساتھ بصیرت بھی خوب روشن ہو
لگاؤں خاکِ قدم بار بار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

اُنہیں نہ دیکھا تو کس کام کی یہ آنکھیں
کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

ملے جو خاکِ قدم اُن کی مجھ کو قسمت سے
لگاؤں سرمہ نہ پھر زینہ دار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

فرشتوں پوچھتے ہو مجھ سے کس کی اُمت ہو
لو دیکھ لو یہ ہے تصویرِ یار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوری
ہمیشہ اُس کا رہے گا خمار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

کچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

وہی مجھے نظر آئے جِدھر نگاہ کروں
اُنہی کا جلوہ رہے آشکار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

یہ دل تڑپ کے کہے آنکھوں میں نہ آ جائے
کہ پھر رہا ہے کسی کا مزار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

پھر آئیں دن مرے اختر شبِ حضوری میں
کرم سے جلوہ کرے جب نگار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

نگاہِ مفتیِ اعظم کی ہے یہ جلوہ گری
چمک رہے ہیں جو اختر ہزار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ عشقِ رسول ﷺ سے لبریز انتہائی خوبصورت کلام (تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان ازہری رحمتہ اللہ علیہ کا لکھا ہوا) ایک سچے عاشق کے دل کی تڑپ اور حضور پاک ﷺ کے دیدار کی لازوال تمنّا کو بیان کرتا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے میرے پروردگار (اللہ)! میری آنکھوں کو وہ نورِ خاص عطا کر دے کہ میں کائنات میں جدھر بھی دیکھوں، مجھے صرف میرے پیارے محبوب ﷺ کا حسیں چہرہ اور ان کے رخِ انور کی بہار ہی دکھائی دے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ اس کی آنکھوں میں نبي کریم ﷺ کی محبت اور ان کے پاکیزہ جلوے اس طرح نقش ہو جائیں کہ دنیا کی کوئی دوسری چیز اسے اپنی طرف راغب نہ کر سکے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
کردگار / پروردگارخالقِ کائنات / سب کو پالنے والا خدا
نقشچھپا ہوا / مستقل طور پر بسا ہوا
روئے یارمحبوب (نبی کریم ﷺ) کا مبارک چہرہ
بصیرتدل کی روشنی / روحانی بینائی یا سمجھ
خاکِ قدمقدموں کی دھول
آشکارظاہر / بالکل صاف دکھائی دینے والا
شبِ حضوریحضور ﷺ کے قرب یا دیدار کی رات

خلاصہ (Summary)

اس روح پرور نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ حضور سرورِ کائنات ﷺ کے دیدارِ مبارک کے بغیر ان آنکھوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے، کیونکہ کائنات کی اصل خوبصورتی اور بہار ان کے جلوے ہی سے ہے۔ شاعر 'اختر' دعا کرتا ہے کہ اگر اسے آقا ﷺ کے قدموں کی دھول نصیب ہو جائے تو وہ اسے اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لے گا اور پھر کبھی کسی دوسرے سرمے کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ اسے کامل یقین ہے کہ جب قبر میں فرشتے اس سے اس کی امت کے بارے میں سوال کریں گے، تو وہ اپنی آنکھوں میں بسی محبوب ﷺ کی تصویر دکھا کر سرخرو ہو جائے گا۔

لیرکس کے مطابق، فرشتوں کے یہ پوچھنے پر کہ "تم کس کی امت ہو"، شاعر انہیں اپنی آنکھوں میں کیا دیکھنے کو کہتا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: