मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: کچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حضور مفتی اعظم ای ہند مصطفی رضا خان نوری۔
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 30 Jul, 2023 10:55 AM IST
دیکھا گیا: 158
Time to read: 2 min read
کچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
وہ نور دے مرے پروردگار آنکھوں میں
کہ جلوہ گر رہے رخ کی بہار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
نظر ہو قدموں پہ اُن کے نثار آنکھوں میں
بنائیں اپنا ہوں وہ رہگزار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
بصر کے ساتھ بصیرت بھی خوب روشن ہو
لگاؤں خاکِ قدم بار بار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
اُنہیں نہ دیکھا تو کس کام کی یہ آنکھیں
کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
ملے جو خاکِ قدم اُن کی مجھ کو قسمت سے
لگاؤں سرمہ نہ پھر زینہ دار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
فرشتوں پوچھتے ہو مجھ سے کس کی اُمت ہو
لو دیکھ لو یہ ہے تصویرِ یار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوری
ہمیشہ اُس کا رہے گا خمار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
کچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
وہی مجھے نظر آئے جِدھر نگاہ کروں
اُنہی کا جلوہ رہے آشکار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
یہ دل تڑپ کے کہے آنکھوں میں نہ آ جائے
کہ پھر رہا ہے کسی کا مزار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
پھر آئیں دن مرے اختر شبِ حضوری میں
کرم سے جلوہ کرے جب نگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
نگاہِ مفتیِ اعظم کی ہے یہ جلوہ گری
چمک رہے ہیں جو اختر ہزار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ عشقِ رسول ﷺ سے لبریز انتہائی خوبصورت کلام (تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان ازہری رحمتہ اللہ علیہ کا لکھا ہوا) ایک سچے عاشق کے دل کی تڑپ اور حضور پاک ﷺ کے دیدار کی لازوال تمنّا کو بیان کرتا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے میرے پروردگار (اللہ)! میری آنکھوں کو وہ نورِ خاص عطا کر دے کہ میں کائنات میں جدھر بھی دیکھوں، مجھے صرف میرے پیارے محبوب ﷺ کا حسیں چہرہ اور ان کے رخِ انور کی بہار ہی دکھائی دے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ اس کی آنکھوں میں نبي کریم ﷺ کی محبت اور ان کے پاکیزہ جلوے اس طرح نقش ہو جائیں کہ دنیا کی کوئی دوسری چیز اسے اپنی طرف راغب نہ کر سکے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| کردگار / پروردگار | خالقِ کائنات / سب کو پالنے والا خدا |
| نقش | چھپا ہوا / مستقل طور پر بسا ہوا |
| روئے یار | محبوب (نبی کریم ﷺ) کا مبارک چہرہ |
| بصیرت | دل کی روشنی / روحانی بینائی یا سمجھ |
| خاکِ قدم | قدموں کی دھول |
| آشکار | ظاہر / بالکل صاف دکھائی دینے والا |
| شبِ حضوری | حضور ﷺ کے قرب یا دیدار کی رات |
اس روح پرور نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ حضور سرورِ کائنات ﷺ کے دیدارِ مبارک کے بغیر ان آنکھوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے، کیونکہ کائنات کی اصل خوبصورتی اور بہار ان کے جلوے ہی سے ہے۔ شاعر 'اختر' دعا کرتا ہے کہ اگر اسے آقا ﷺ کے قدموں کی دھول نصیب ہو جائے تو وہ اسے اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لے گا اور پھر کبھی کسی دوسرے سرمے کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ اسے کامل یقین ہے کہ جب قبر میں فرشتے اس سے اس کی امت کے بارے میں سوال کریں گے، تو وہ اپنی آنکھوں میں بسی محبوب ﷺ کی تصویر دکھا کر سرخرو ہو جائے گا۔
لیرکس کے مطابق، فرشتوں کے یہ پوچھنے پر کہ "تم کس کی امت ہو"، شاعر انہیں اپنی آنکھوں میں کیا دیکھنے کو کہتا ہے؟