मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 ہفتے پہلے fiber_manual_record 338 بار دیکھا گیا
,
عنوان: کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 28 Mar, 2023 12:11 PM IST
دیکھا گیا: 177
Time to read: 1 min read
بھول گیئلی طیبہ کے ڈھریہ رے اے سخی ہمکا بتا دا،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا
یاد جب آویلے طیبہ نگریا،
تا برسیلا نینا جیسے ساون میں بدریا،
دل ما تا اٹھیلا دردیا رے اے سخی ہمکا بتا دا
تڑپٹ راحیلہ مورا منوا اکیلا،
اب تو صحت نیخے جگ کے جھمیلا،
دیکھ لیتی آکے شہریا رے اے سخی ہمکا بتا دا،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا
صفا اور مروا پے جب ہم پہنچ بے،
چن چن کے کنکر سے سیطان کے مربے،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا
کعبہ ما ہمہؤ یا رب ایک دن جائیتی،
تو ہونٹوا سے حجرے اعصود لگاوتی،
دھل جائت پاپ کے گھٹریاں تک رے اے سخی ہمکا بتا دا،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا
سنلی ملائکہ کے لاگیلا میلا،
ہند میں پڈل ہئی تنہا اکیلا،
کب ہوئی ہم پے نظریہ رے اے سخی ہمکا بتا دا،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا
بھول گیئلی طیبہ کے ڈھریہ رے اے سخی ہمکا بتا دا،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ بھوجپوری زبان میں لکھی گئی ایک انتہائی خوبصورت، رقت آمیز اور منفرد نعتِ پاک ہے، جس میں ایک عاشقِ رسول اپنی سہیلی (سخی) کے ذریعے مائکہ و مدینہ کے مقدس سفر (حج و عمرہ) کی تڑپ اور اپنی بے بسی کا اظہار کر رہا ہے۔ بھوجپوری کے شیریں الفاظ نے اس کلام میں عقیدت کا ایک انوکھا رنگ بھر دیا ہے۔
ان جذباتی اشعار کا مطلب ہے کہ "اے سخی! میں مدینہ منورہ (طیبہ) کا راستہ بھول گئی ہوں، مجھے بتا دے کہ میں اپنے پیارے آقا ﷺ کی نگری کیسے جاؤں؟" جب بھی مجھے مدینے کی یاد آتی ہے تو میری آنکھوں سے ساون کے بادلوں کی طرح آنسو برسنے لگتے ہیں اور آقا کے دیدار کی تڑپ میں دل کے اندر ایک درد اٹھنے لگتا ہے۔
| الفاظ (بھوجپوری) | اردو معنی (Meanings) |
|---|---|
| ڈھریہ (ڈہریا) | راستہ / راہ (Pathway) |
| نگریا / شہریا | شہر یا نگری (مراد مدینہ منورہ) |
| نینا / بدریا | آنکھیں / بادل |
| منوا / نیخے | دل یا من / نہیں (سہہ نہیں پاتا) |
| جگ کے جھمیلا | دنیا کے جھگڑے، مصائب اور پریشانیاں |
| حجرے اعصود (حجرِ اسود) | خانہ کعبہ میں نصب مقدس سیاہ پتھر |
| پاپ کے گھٹریاں | پاپ یا گناہوں کی گٹھڑی (بوجھ) |
| ملائکہ | فرشتے |
اس منفرد بھوجپوری نعت کا لبِ لباب یہ ہے کہ شاعر ہندوستان (ہند) میں خود کو اکیلا اور تنہا پا کر مکہ اور مدینے کی حاضری کے لیے بے چین ہے۔ اس کی دلی خواہش ہے کہ وہ خانہ کعبہ جا کر حجرِ اسود کو چومے تاکہ اس کے گناہوں کا بوجھ (پاپ کی گٹھڑی) دھل جائے، اور صفا و مروہ کی سعی کرتے ہوئے شیطان کو کنکریاں مارے۔ وہ روتے ہوئے آقا ﷺ کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہے کہ دنیا کے جھمیلوں سے تنگ آ کر اب وہ صرف آپ کا شہر دیکھنا چاہتا ہے، پس اس کی تڑپ پر حضور ﷺ کی کرم کی نظر کب ہوگی۔
شاعر کے مطابق کعبہ جا کر 'حجرِ اسود' کو چومنے (ہونٹ لگانے) سے ان پر کیا اثر ہوگا اور ان کی 'پاپ کی گٹھریا' کا کیا ہوگا؟