, کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا Lyrics In اردو

(کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا, بھول گیئلی طیبہ کے ڈھریہ رے اے سخی ہمکا بتا دا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم

نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم

شامل کیا گیا: 28 Mar, 2023 12:11 PM IST

دیکھا گیا: 177

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

بھول گیئلی طیبہ کے ڈھریہ رے اے سخی ہمکا بتا دا،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا

یاد جب آویلے طیبہ نگریا،
تا برسیلا نینا جیسے ساون میں بدریا،
دل ما تا اٹھیلا دردیا رے اے سخی ہمکا بتا دا

تڑپٹ راحیلہ مورا منوا اکیلا،
اب تو صحت نیخے جگ کے جھمیلا،
دیکھ لیتی آکے شہریا رے اے سخی ہمکا بتا دا،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا

صفا اور مروا پے جب ہم پہنچ بے،
چن چن کے کنکر سے سیطان کے مربے،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا

کعبہ ما ہمہؤ یا رب ایک دن جائیتی،
تو ہونٹوا سے حجرے اعصود لگاوتی،
دھل جائت پاپ کے گھٹریاں تک رے اے سخی ہمکا بتا دا،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا

سنلی ملائکہ کے لاگیلا میلا،
ہند میں پڈل ہئی تنہا اکیلا،
کب ہوئی ہم پے نظریہ رے اے سخی ہمکا بتا دا،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا

بھول گیئلی طیبہ کے ڈھریہ رے اے سخی ہمکا بتا دا،
کیسے جاؤں آقا کے نگریا رے اے سخی ہمکا بتا دا

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ بھوجپوری زبان میں لکھی گئی ایک انتہائی خوبصورت، رقت آمیز اور منفرد نعتِ پاک ہے، جس میں ایک عاشقِ رسول اپنی سہیلی (سخی) کے ذریعے مائکہ و مدینہ کے مقدس سفر (حج و عمرہ) کی تڑپ اور اپنی بے بسی کا اظہار کر رہا ہے۔ بھوجپوری کے شیریں الفاظ نے اس کلام میں عقیدت کا ایک انوکھا رنگ بھر دیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان جذباتی اشعار کا مطلب ہے کہ "اے سخی! میں مدینہ منورہ (طیبہ) کا راستہ بھول گئی ہوں، مجھے بتا دے کہ میں اپنے پیارے آقا ﷺ کی نگری کیسے جاؤں؟" جب بھی مجھے مدینے کی یاد آتی ہے تو میری آنکھوں سے ساون کے بادلوں کی طرح آنسو برسنے لگتے ہیں اور آقا کے دیدار کی تڑپ میں دل کے اندر ایک درد اٹھنے لگتا ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظ (بھوجپوری)اردو معنی (Meanings)
ڈھریہ (ڈہریا)راستہ / راہ (Pathway)
نگریا / شہریاشہر یا نگری (مراد مدینہ منورہ)
نینا / بدریاآنکھیں / بادل
منوا / نیخےدل یا من / نہیں (سہہ نہیں پاتا)
جگ کے جھمیلادنیا کے جھگڑے، مصائب اور پریشانیاں
حجرے اعصود (حجرِ اسود)خانہ کعبہ میں نصب مقدس سیاہ پتھر
پاپ کے گھٹریاںپاپ یا گناہوں کی گٹھڑی (بوجھ)
ملائکہفرشتے

خلاصہ (Summary)

اس منفرد بھوجپوری نعت کا لبِ لباب یہ ہے کہ شاعر ہندوستان (ہند) میں خود کو اکیلا اور تنہا پا کر مکہ اور مدینے کی حاضری کے لیے بے چین ہے۔ اس کی دلی خواہش ہے کہ وہ خانہ کعبہ جا کر حجرِ اسود کو چومے تاکہ اس کے گناہوں کا بوجھ (پاپ کی گٹھڑی) دھل جائے، اور صفا و مروہ کی سعی کرتے ہوئے شیطان کو کنکریاں مارے۔ وہ روتے ہوئے آقا ﷺ کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہے کہ دنیا کے جھمیلوں سے تنگ آ کر اب وہ صرف آپ کا شہر دیکھنا چاہتا ہے، پس اس کی تڑپ پر حضور ﷺ کی کرم کی نظر کب ہوگی۔

شاعر کے مطابق کعبہ جا کر 'حجرِ اسود' کو چومنے (ہونٹ لگانے) سے ان پر کیا اثر ہوگا اور ان کی 'پاپ کی گٹھریا' کا کیا ہوگا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں