, کفن باندھے ہوئے نکلے ہیں سر پر کربلا والے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

کفن باندھے ہوئے نکلے ہیں سر پر کربلا والے Lyrics In اردو

(کفن باندھے ہوئے نکلے ہیں سر پر کربلا والے, بچانے عظمتِ دینِ پیغمبر کربلا والے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: کفن باندھے ہوئے نکلے ہیں سر پر کربلا والے

زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم

نعت خوان/ فنکار: عامر رضا برن پوری

شامل کیا گیا: 27 Jun, 2025 02:05 PM IST

دیکھا گیا: 47

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

کفن باندھے ہوئے نکلے ہیں سر پر کربلا والے،
کفن باندھے ہوئے نکلے ہیں سر پر کربلا والے،
بچانے عظمتِ دینِ پیغمبر کربلا والے،
کفن باندھے ہوئے نکلے ہیں سر پر کربلا والے

بہت ڈھونڈا نہیں پایا یزیدی نسل دنیا میں،
تمہارے تذکرے ہیں آج گھر گھر کربلا والے

کفن باندھے ہوئے نکلے ہیں سر پر کربلا والے

یزیدی ظلم کے آگے کبھی سر خم نہ کرنا،
گئے دنیا سے یہ پیغام دیکھ کر کربلا والے

کفن باندھے ہوئے نکلے ہیں سر پر کربلا والے

رضاِ رب کے خاطر تشنہ لب خاموش تھے ورنہ،
رکھا کرتے ہیں ٹھوکر میں سمندر کربلا والے

کفن باندھے ہوئے نکلے ہیں سر پر کربلا والے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ منقبت حضرت امام حسین (ر.ع) اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانی اور ان کی جرات و بہادری کا تذکرہ کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر کہتا ہے کہ کربلا کے غازیوں نے اللہ کے دین کی عزت بچانے کے لیے موت کو گلے لگا لیا۔ انہوں نے رہتی دنیا کو یہ سبق دیا کہ حق کی خاطر ظلم کے سامنے ڈٹ جانا ہی اصل بندگی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ آج یزید کا نام مٹ گیا مگر حسینؓ کا ذکر ہر گھر میں موجود ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
عظمتِ دیندین کی بزرگی / بڑائی
پیغمبرپیغام لانے والا (مراد نبی کریم ﷺ)
تذکرےچرچے / ذکر
سر خم کرناسر جھکانا
تشنہ لبپیاسے ہونٹ
رضائے رباللہ کی مرضی / خوشنودی

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ معرکہ کربلا حق اور باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر ہے جس نے واضح کر دیا کہ فتح ظاہری طاقت کی نہیں بلکہ صبر اور ایمان کی ہوتی ہے۔ کربلا والوں نے پیاس کی شدت برداشت کی مگر رضائے الٰہی پر سمجھوتہ نہیں کیا، اور ان کا یہی پیغام آج بھی ہر حریت پسند کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

منقبت کے آخر میں شاعر نے "کربلا والے" (امام حسینؑ اور ان کے ساتھی) کی قوت اور صبر کے بارے میں کیا فرمایا ہے، اور ان کی ٹھوکر میں کیا چیز ہونے کا ذکر کیا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

Manqabat Lyrics

سبھی دیکھیں