, جو مدینے کے تصور میں جیا کرتے ہیں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

جو مدینے کے تصور میں جیا کرتے ہیں Lyrics In اردو

(جو مدینے کے تصور میں جیا کرتے ہیں, ہر جگہ لطفِ مدینہ کا لیا کرتے ہیں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: جو مدینے کے تصور میں جیا کرتے ہیں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 08 Apr, 2023 10:01 AM IST

دیکھا گیا: 359

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

جو مدینے کے تصور میں جیا کرتے ہیں
ہر جگہ لطفِ مدینہ کا لیا کرتے ہیں

عشقِ سرور میں جو ہستی کو فَنا کرتے ہیں
بھید اُلفت کے فقط اُن پہ کھُلا کرتے ہیں

مال و دولت کی دُعا ہم نہ، خدا! کرتے ہیں
ہم تو مرنے کی مدینے میں دُعا کرتے ہیں

آگ دوزخ کی جلا ہی نہیں سکتی اُن کو
عشق کی آگ میں دل جن کے جلا کرتے ہیں

درد و آلام میں تسکین انہیں ملتی ہے
نام اُن کا جو مصیبت میں لیا کرتے ہیں

تو سلام اُن سے درِ پاک پہ جا کر کہنا
التجا تجھ سے ہم، اے بادِ صبا! کرتے ہیں

کیوں پھریں شوق میں مال کے مارے مارے؟
ہم تو سرکار کے ٹکڑوں پہ پلا کرتے ہیں

چاند سورج کا مقدر بھی تو دیکھو اکثر
گنبدِ خضریٰ کے نظارے کیا کرتے ہیں

رشکِ عطّار کو اُن ذروں پر آتا ہے جو
اُن کے نعلین کے تلووں سے لگا کرتے ہیں

قابلِ رشک ہیں، عطّار! وہ قسمت والے
دفن جو میٹھے مدینے میں ہوا کرتے ہیں

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ نعتِ شریف مدینہ منورہ کی بے پناہ محبت، وہاں موت پانے کی خواہش اور عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب جانے کا ایک حسین روحانی بیان ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک سچا عاشق دنیاوی مال و دولت سے بے نیاز ہو کر صرف آقا ﷺ کے در کی غلامی اور مدینے کی پاک مٹی میں دفن ہونے کی آرزو رکھتا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ جو لوگ ہر پل اپنے دل میں مدینے کا خیال (تصور) بسائے رکھتے ہیں، انہیں دنیا کے ہر کونے میں مدینے جیسا ہی روحانی سکون اور لطف حاصل ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو حضور ﷺ کے عشق میں اپنی ہستی کو مٹا (فنا) دیتے ہیں، انہی پر محبت کے سچے راز کھلتے ہیں، اور جن کے دل عشقِ رسول کی آگ میں تپتے ہیں، انہیں دوزخ کی آگ کبھی چھو بھی نہیں سکتی۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظمعنی (Meanings)
تصورخیال / دھیان یا سوچ
فنامٹ جانا / مٹا دینا یا غائب ہونا
بھید / فقطراز / صرف یا کیول
درد و آلامدکھ اور تکلیفیں
تسکینسکون / تسلی یا آرام
بادِ صباصبح کی ٹھنڈی اور لطیف ہوا
گنبدِ خضریٰحضور ﷺ کا روضہ مبارک (سبز گنبد)
نعلینحضور ﷺ کے مبارک جوتے / نعلینِ پاک
رشکناز ہونا / فخر کرنا (اچھے معنوں میں حسرت)

خلاصہ (Summary)

اس کلام میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے در کے ٹکڑوں پر پلنے والے منگتوں کو دنیا کی دولت کے پیچھے مارے مارے پھرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ مصیبت میں آپ ﷺ کا نام لیتے ہی دل کو چین مل جاتا ہے۔ شاعر 'عطار' کہتے ہیں کہ یہاں تک کہ چاند اور سورج بھی گنبدِ خضریٰ کے نظاروں کے لیے ترستے ہیں، اور وہ لوگ بے حد خوش قسمت ہیں جنہیں اس پاک نگری مدینے کی گود میں ہمیشہ کے لیے سونے (دفن ہونے) کا مقدر نصیب ہوتا ہے۔

شاعر کے مطابق کس طرح کے دلوں کو جہنم (دوزخ) کی آگ نہیں جلا سکتی، اور انہوں نے مال و دولت کے بجائے کیا دعا مانگی ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: