मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 ہفتے پہلے fiber_manual_record 304 بار دیکھا گیا
,
عنوان: جو مدینے کے تصور میں جیا کرتے ہیں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 08 Apr, 2023 10:01 AM IST
دیکھا گیا: 359
Time to read: 1 min read
جو مدینے کے تصور میں جیا کرتے ہیں
ہر جگہ لطفِ مدینہ کا لیا کرتے ہیں
عشقِ سرور میں جو ہستی کو فَنا کرتے ہیں
بھید اُلفت کے فقط اُن پہ کھُلا کرتے ہیں
مال و دولت کی دُعا ہم نہ، خدا! کرتے ہیں
ہم تو مرنے کی مدینے میں دُعا کرتے ہیں
آگ دوزخ کی جلا ہی نہیں سکتی اُن کو
عشق کی آگ میں دل جن کے جلا کرتے ہیں
درد و آلام میں تسکین انہیں ملتی ہے
نام اُن کا جو مصیبت میں لیا کرتے ہیں
تو سلام اُن سے درِ پاک پہ جا کر کہنا
التجا تجھ سے ہم، اے بادِ صبا! کرتے ہیں
کیوں پھریں شوق میں مال کے مارے مارے؟
ہم تو سرکار کے ٹکڑوں پہ پلا کرتے ہیں
چاند سورج کا مقدر بھی تو دیکھو اکثر
گنبدِ خضریٰ کے نظارے کیا کرتے ہیں
رشکِ عطّار کو اُن ذروں پر آتا ہے جو
اُن کے نعلین کے تلووں سے لگا کرتے ہیں
قابلِ رشک ہیں، عطّار! وہ قسمت والے
دفن جو میٹھے مدینے میں ہوا کرتے ہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ شریف مدینہ منورہ کی بے پناہ محبت، وہاں موت پانے کی خواہش اور عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب جانے کا ایک حسین روحانی بیان ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک سچا عاشق دنیاوی مال و دولت سے بے نیاز ہو کر صرف آقا ﷺ کے در کی غلامی اور مدینے کی پاک مٹی میں دفن ہونے کی آرزو رکھتا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ جو لوگ ہر پل اپنے دل میں مدینے کا خیال (تصور) بسائے رکھتے ہیں، انہیں دنیا کے ہر کونے میں مدینے جیسا ہی روحانی سکون اور لطف حاصل ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو حضور ﷺ کے عشق میں اپنی ہستی کو مٹا (فنا) دیتے ہیں، انہی پر محبت کے سچے راز کھلتے ہیں، اور جن کے دل عشقِ رسول کی آگ میں تپتے ہیں، انہیں دوزخ کی آگ کبھی چھو بھی نہیں سکتی۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| تصور | خیال / دھیان یا سوچ |
| فنا | مٹ جانا / مٹا دینا یا غائب ہونا |
| بھید / فقط | راز / صرف یا کیول |
| درد و آلام | دکھ اور تکلیفیں |
| تسکین | سکون / تسلی یا آرام |
| بادِ صبا | صبح کی ٹھنڈی اور لطیف ہوا |
| گنبدِ خضریٰ | حضور ﷺ کا روضہ مبارک (سبز گنبد) |
| نعلین | حضور ﷺ کے مبارک جوتے / نعلینِ پاک |
| رشک | ناز ہونا / فخر کرنا (اچھے معنوں میں حسرت) |
اس کلام میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے در کے ٹکڑوں پر پلنے والے منگتوں کو دنیا کی دولت کے پیچھے مارے مارے پھرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ مصیبت میں آپ ﷺ کا نام لیتے ہی دل کو چین مل جاتا ہے۔ شاعر 'عطار' کہتے ہیں کہ یہاں تک کہ چاند اور سورج بھی گنبدِ خضریٰ کے نظاروں کے لیے ترستے ہیں، اور وہ لوگ بے حد خوش قسمت ہیں جنہیں اس پاک نگری مدینے کی گود میں ہمیشہ کے لیے سونے (دفن ہونے) کا مقدر نصیب ہوتا ہے۔
شاعر کے مطابق کس طرح کے دلوں کو جہنم (دوزخ) کی آگ نہیں جلا سکتی، اور انہوں نے مال و دولت کے بجائے کیا دعا مانگی ہے؟