मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: جو دل سے سید ابرار کا شیدا نہیں ہوتا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: ارشد رضا قادری امروہوی
نعت خوان/ فنکار: ارشد رضا قادری امروہوی
شامل کیا گیا: 29 Mar, 2023 07:50 AM IST
دیکھا گیا: 161
Time to read: 2 min read
پیارے آقا، سوہنے آقا، میرے آقا، پیارے آقا
جو دل سے سید ابرار کا شیدا نہیں ہوتا
خدائے لم یزل کا وہ کبھی پیارا نہیں ہوتا
نہ پیدا کرتا کوئی چیز بھی خلاق دو عالم
دلارا آمنہ بی بی کا گر پیدا نہیں ہوتا
جو دل سے سید ابرار کا شیدا نہیں ہوتا
خدائے لم یزل کا وہ کبھی پیارا نہیں ہوتا
بھٹکتے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے زمانے میں
میرے سرکار نے ہم کو جو اپنایا نہیں ہوتا
جو دل سے سید ابرار کا شیدا نہیں ہوتا
خدائے لم یزل کا وہ کبھی پیارا نہیں ہوتا
سدا رہتا ہے اُس کے بخت کا تارا بُلندی پر
نبی کا چاہنے والا کہیں رسوا نہیں ہوتا
جو دل سے سید ابرار کا شیدا نہیں ہوتا
خدائے لم یزل کا وہ کبھی پیارا نہیں ہوتا
سر محشر کہاں پہچانے جاتے ہم اگر رب نے
شه دیں کی غلامی کا شرف بخشا نہیں ہوتا
جو دل سے سید ابرار کا شیدا نہیں ہوتا
خدائے لم یزل کا وہ کبھی پیارا نہیں ہوتا
بھلا خالی گیا ہے کون اُن کے در سے بتلاؤ
نبی کے در پہ کس کا مدعا پورا نہیں ہوتا
جو دل سے سید ابرار کا شیدا نہیں ہوتا
خدائے لم یزل کا وہ کبھی پیارا نہیں ہوتا
میری بھی قبر میں جلوہ نما ہوں گے میرے آقا
میرا دل سوچ کر یہ بات رنجیدہ نہیں ہوتا
جو دل سے سید ابرار کا شیدا نہیں ہوتا
خدائے لم یزل کا وہ کبھی پیارا نہیں ہوتا
ذلیل و خوار ہو جاتا گناہوں کے سبب وللہ
بروز حشر مجھ پر لُطف گر اُن کا نہیں ہوتا
جو دل سے سید ابرار کا شیدا نہیں ہوتا
خدائے لم یزل کا وہ کبھی پیارا نہیں ہوتا
نہ ہوتی اس قدر اُن میں درخشانی کبھی ارشد
جو مہر و ماہ میں سرکار کا جلوہ نہیں ہوتا
جو دل سے سید ابرار کا شیدا نہیں ہوتا
خدائے لم یزل کا وہ کبھی پیارا نہیں ہوتا
پیارے آقا، سوہنے آقا، میرے آقا، پیارے آقا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دلنشیں نعتِ پاک حضورِ اکرم ﷺ کی سچی محبت، آپ ﷺ کی غلامی کے شرف اور کائنات پر آپ ﷺ کے احسانات کا ایک خوبصورت اعتراف ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا اصل راز سرکارِ دو عالم ﷺ کی سچی عقیدت میں پوشیدہ ہے۔
ان ایمان افروز اشعار کا مطلب ہے کہ جو شخص دل سے تمام نیک لوگوں کے سردار (حضور ﷺ) کا عاشق نہیں ہوتا، وہ کبھی بھی ہمیشہ رہنے والے خدا کا پیارا نہیں بن سکتا۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے دُلارے (حضور ﷺ) دنیا میں تشریف نہ لاتے تو اللہ تعالیٰ کائنات کی کسی چیز کو پیدا نہ فرماتا، اور نہ ہی چاند اور سورج میں یہ چمک دمک ہوتی۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| سیدِ ابرار | نیک لوگوں کے سردار (مراد حضور ﷺ) |
| شیدا | عاشق / दीवाना یا بہت چاہنے والا |
| لم یزل | ہمیشہ رہنے والا (اللہ تعالیٰ) |
| خلاقِ دو عالم | دونوں جہانوں کو پیدا کرنے والا |
| بخت | قسمت / نصیب |
| مدعا | مقصد / دلی خواہش یا مراد |
| بروزِ حشر / سرِ محشر | قیامت کے دن / حساب کتاب کے وقت |
| درخشانی | چمک / روشنی یا مہر و ماہ (سورج اور چاند) کی آب و تاب |
اس کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضور ﷺ کا سچا غلام زمانے میں کبھی ذلیل و رسوا نہیں ہوتا اور آپ ﷺ کی چوکٹھ سے کوئی بھی سائل خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ شاعر 'ارشد' کو آقا ﷺ کی رحمت پر اتنا پختہ یقین ہے کہ وہ قبر کے اندھیرے اور محشر کی ہولناکی سے خوفزدہ نہیں ہیں؛ انہیں پورا اطمینان ہے کہ قبر میں بھی آقا ﷺ اپنا جلوہ دکھانے تشریف لائیں گے اور قیامت کے دن اپنے لطف و کرم سے گنہگاروں کو ذلت سے بچا کر اپنے دامن میں پناہ دیں گے۔
شاعر کے مطابق اگر اللہ نے ہمیں نبی ﷺ کی غلامی کا شرف نہ بخشا ہوتا، تو قیامت (سرِ محشر) کے دن ہمارا کیا حال ہوتا؟